رائے عامہ کا احترام


حکومت 26 وی آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ دستور میں ان ترامیم کے ذریعے اگر چہ کئی اہم ترین امور میں تبدیلی کی گئی ہے۔ مگر جو اہم ترمیم کی گی تھی اس کا عملی نفاذ نئے چیف جسٹس کی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تقرری کی صورت میں نظر آ رہا ہے۔ مزید یہ کہ ان ترامیم کے ذریعے صرف اعلی ججز کی تقرری میں ہی نہیں بلکہ پارلیمانی کمیٹی کو سپریم جوڈیشل کمیشن کا بھی حصہ بناتے ہوئے ترمیم کی گئی ہے۔

آئینی ترمیم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ آئینی و قانونی عمل روزمرہ امور میں پارلیمانی سسٹم کا حصہ ہے، عوامی نمائندگان اس عمل سے ضروریات و مقتضیات کے مطابق ترمیم کرتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں عوامی نمائندوں یا حکومت نے ان اہم ترین ترامیم سے متعلق عوام سے رابطہ کیا؟ نہ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے عوامی رابطہ مہم چلائی گئی، نہ اس عمل کو ضروری خیال کیا گیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوام کو اپنے فیصلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ میڈیا میں باقاعدہ عوامی سماعت یعنی ڈسکشن فورم منعقد ہوتے ہیں جن کا مقصد عوام کی رائے حاصل کرنا اور ان کو آگاہی دینا ہوتا ہے۔ اگر جمہوری ممالک میں عوام کسی قانون کے مخالف ہوں تو حکومت ایسے قوانین بنانے کی جرات نہیں کرتی۔ اور ہر حال میں عوامی رائے عامہ کا احترام کیا جاتا ہے۔

دوسری یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر قانون اور پرانے قوانین میں ترامیم عوامی اور ملکی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہیں۔ اس لئے عوام کی نظر میں ایسے قوانین اہم ہوتے ہیں نہ صرف وہ ان قوانین کے متعلق از خود آگاہی حاصل کرتے ہیں بلکہ پابند قوانین ہوتے ہیں۔ اور اگر صورت حال اس کے برعکس ہو تو عوام ناپسند یا غیر ضروری قوانینِ کو قابل اعتنا نہیں سمجھتے۔ ایسے قوانین کاغذات کا پلندا بن کر رہ جاتے ہیں۔

بدقسمتی کہ پاکستان میں قانون سازی سے قبل نہ تو عوام کو اعتماد میں لیا جاتا ہے نہ متعلقہ حلقوں ( اسٹیک ہولڈرز) کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی پیش کردہ بل کے حوالے سے پارلیمانی نمائندگان اپنے حلقوں میں جاکر کوئی بات نہیں کرتے نہ ان تک یہ علم پہنچایا جاتا ہے کہ ان کے نمائندے مجلسِ قانون ساز میں کیا کر رہے ہیں اور ان سے ان کو کیا فیض حاصل ہو گا۔ یہی صورتحال موجودہ 26 ویں ترمیم کے حوالے سے پیش آئی۔

حکومت سے اس اہم ترین ترامیم کے حوالے سے ملک کے طول و عرض پر پھیلی ہوئی وکلاء بارز یا عدلیہ جو کہ آئین کی تشریح کا ہم ترین ادارہ ہے، اس سے کسی قسم کی کوئی رائے حاصل نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ مسودہ قانون کو بھی سامنے نہیں لایا گیا۔ جس عجلت میں اس ترمیمی آئینی بل کی منظوری ہوئی ہے۔ وہ سمجھ سے بالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اداروں میں باہمی روابط اور ہم آہنگی نظر نہیں آتی بلکہ اکثر کشیدگی کی بھی یہ وجہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف عوام اب نہ تو حکومتی امور میں دلچسپی لیتے ہیں نہ مجلس قانون ساز کی کسی کارروائی میں ان کی نظر میں کوئی کوئی وقعت رہی ہے۔

Facebook Comments HS