ٹرمپ کی جیت دنیا میں امن کیسے لا سکتی ہے؟
امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی نے عالمی سطح پر ایک نئی گفتگو کا آغاز کر دیا ہے۔ مختلف ماہرین مختلف ممالک، خطوں اور دنیا کے بڑے مسائل کے حوالے سے تجزیے اور تبصروں میں کسی تبدیلی کے ہونے اور نہ ہونے پر بحث بھی کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دنیا کے ایک بڑے ملک کے طور پر امریکی صدارتی نمائندے کی جیت سے کئی توقعات اور خدشات جڑے ہوتے ہیں لیکن ایسا کیا ہے جو اس بار آراء کا اتنا شور ہے؟ کئی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے امیدوار ہیں جو امریکی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سمجھے جاتے ہیں اور جن کا جیتنا امریکی انتخابات کی گزشتہ 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ہار سمجھا جا رہا ہے اس لئے دنیا کو کسی فوری تبدیلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کئی میڈیا ماہرین امریکی میڈیا اور سرویز کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں جن کی پیشگوئیاں اور سرویز غلط ثابت ہوئے جن میں امریکی انتخابات کے سخت ترین مقابلے کے دعوے کیے گئے کیوں کہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس رہا۔ میڈیا کا کیا کردار رہا یہ بحث پھر کسی موقع پر لیکن اب چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ جیت چکے ہیں تو مستقبل کے لائحہ عمل پر سب کی توجہ مرکوز ہے۔
دنیا کے چند بڑے مسائل اور بڑی توقعات کی بات کی جائے تو اپنی الیکشن مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے اہم وعدہ دنیا سے جنگ کا خاتمہ تھا۔ دنیا اس وعدے کے پورا ہونے کی منتظر ہے۔ ایک جانب دو بڑی جنگوں میں اسرائیل کا فلسطین اور لبنان میں جاری جنگ اور ایران کے ساتھ شدید کشیدگی کا ذکر کیا جا سکتا ہے تو دوسری جانب روس یوکرین تنازع بھی اب کافی عرصے سے دنیا میں مختلف مسائل کی وجہ بن چکا ہے۔ اپنی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ وہ نیتن یاہو سے بات کریں گے اور غزہ میں مکمل امن قائم کروائیں گے لیکن کیا وہ ایسا کر سکیں گے؟ حال ہی میں نیتن یاہو نے لبنان میں پیجر دھماکوں کے حوالے سے کہا کہ امریکہ نے بھی ان کی مخالفت کی تھی لیکن انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر نیتن یاہو سچ کہہ رہے ہیں تو کیا ماضی کی امریکی حکومت کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو نظر انداز کرنا نیتن یاہو کے لیے آسان ہو گا؟ وہ بھی اس صورت میں جب اسرائیل کو امداد اور عالمی حمایت کے لیے امریکی سہارے کی ضرورت ہو۔ اس کا جواب جلد مل جائے گا۔ دوسری جانب امریکہ کے ایران کے ساتھ تعلقات کو بھی ماضی سے نکل کر بہتر کرنا ہو گا کیوں ٓکہ اگر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ہو تو اس کے لیے تمام فریقوں کا احترام کرنا اور دیگر ممالک کو نقصان دینے کی سیاست کو روکنا ہو گا۔
اسی طرح روس یوکرین تنازع میں بھی امریکہ کو روس کا حریف نہیں بلکہ ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے کردار کو ادا کرنا ہو گا اور اس کے لیے جہاں روس کو جنگ بندی پر راضی کرنا ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ یوکرین کو امریکہ اور نیٹو کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی بند ہو تاکہ اس تنازع میں سب ایک دوسرے کے حلیف سمجھے جائیں نا کہ حریف۔
تنازعات کے خاتمے کے لئے دو ممالک اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک جانب سعودی عرب ہے جو اسرائیل کو دو ریاستی حل کی جانب لے جا سکتا ہے اور دوسری جانب چین ہے جو روس کو یوکرین تنازع کے حل کی جانب لے جا سکتا ہے۔ یہ ایک مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ حال ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 سے پہلے ان کا ملک سعودی عرب کے ساتھ غیر معمولی تعلقات کے قیام کے انتہائی قریب آ چکا تھا۔ نیتن یاہو کے اس بیان پر سعودی عرب کی جانب سے بھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اب اگر ایسا ہے تو سعودی عرب کو امریکی نو منتخب صدر ٹرمپ، محمد بن سلیمان کی مدد سے مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کردار دے سکتے ہیں اور شاید سعودی عرب اس کے لیے تیار بھی ہو۔
دوسری جانب چین کی مدد کا زاویہ اس لئے بھی اہم ہے کہ چین نے یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد سے اب تک خود کو ایک غیر جانب دار فریق کے طور پر منوایا ہے جب کہ چین روس تعلقات کی پائیداری اور تاریخ سے سب واقف ہیں۔ اس دوران چین نے سفارتی سطح پر یوکرین کے مسئلے پر وائیٹ پیپر جاری کر کے اس مسئلے کے خاتمے کی مخلصانہ اور سفارتی کوشش بھی کی اور اب بھی یوکرین کے ساتھ چین کے تعلقات اس نوعیت کے ہیں کہ چین اس خطے میں امن کے لیے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک اور وجہ چین کی حالیہ وہ تمام کوششیں ہیں جو اس نے ایران سعودی عرب تعلقات میں انجام دیں اور فلسطین میں موجود سیاسی دھڑوں کا اتحاد بھی ممکن بنایا۔ چین کا کردار عالمی امن میں اس لئے انتہائی اہم رہا ہے اور مستقبل میں بھی رہے گا کیوں کہ چین ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جس کی تاریخ میں دوسرے ممالک کا احترام ہے نا کہ جارحیت۔ یوکرین کے تنازع کے طویل ہونے اور روس کے ساتھ چین کے دیرینہ خوشگوار تعلقات کے باوجود بھی چین کے تعلقات یوکرین کے ساتھ بہتر ہیں کیوں کہ چین اس معاملے میں فریق نہیں بنا۔ اسی طرح فلسطین کے معاملے میں بھی چین کی فلسطین میں اتحاد کی تمام کوششوں کے ساتھ ہی چین نے ایک غیر جانب دارانہ رائے قائم کرتے ہوئے فلسطین میں انصاف کے لیے معقول آواز بلند کی لیکن اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی تبدیلی کو نہیں آنے دیا۔
دنیا اگر ایک اس وقت ایک آگ کے دائرے میں ہے تو اس آگ کو بجھانے والے عوامل اب بھی موجود ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اس آگ پر اپنے مفادات کا کیمیکل ڈال کر اسے بھڑکایا نہ جائے بلکہ اس پر غیر جانبداری اور ذمہ داری کا چھڑکاؤ کیا جائے تا کہ ایک بہتر مستقبل اور بہتر دنیا انسانیت کا استقبال کرے۔


