پارلیمانی کچھوا اپنی خود مختاری کی جانب سر کتے ہوئے
1997 ء میں عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے 237 میں سے 137 نشستوں پر کامیابی سمیٹ کر فیصلہ کن کامیابی حاصل کی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں تاہم نواز شریف صاحب نے ملک کے دوسرے بڑے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دینے کے بجائے جوڑ توڑ کر کے سندھ میں بھی اپنی حکومت بنا ڈالی تھی۔ وقت کی کرامات ملاحظہ ہوں 16 سال گزرنے کے بعد 2013 ء میں پاکستان مسلم لیگ ( نواز) نے عام انتخابات میں 342 نشستوں میں سے 185 نشستیں حاصل کرتے ہوئے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی تو پاکستان مسلم لیگ (نواز ) کی قیادت کرنے والے نواز شریف کے مزاج سے 1997 ء والے چلن کی تطہیر ہو چکی تھی۔ چنانچہ خیبر پختونخوا میں آسانی سے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی صوبائی حکومت تشکیل دینے کے امکانات کی دستیابی کے باوجود نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ علاوہ ازیں انہوں نے بلوچستان میں روایتی طریقہ سے ہٹ کر قوم پرستوں کو اپنے صوبے میں حکومت بنانے کا موقع دیا۔ ْ
سیاسی چلن میں اِس بدلاؤ کو جمہوری روّیہ کہا جاتا ہے۔ جمہوری چلن میں پختگی ایک رات میں نہیں آتی۔ یہ ایک ارتقائی عمل ہے۔ دُور کی بات نہیں 2018 ء میں جب پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات جیت کر مرکز میں حکومت بنائی تو پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت تھی۔ تاہم 2013 ء میں نواز شریف نے جس جمہوری چلن کا مظاہرہ کیا تھا سپورٹس مین ہونے کے باوجود عمران خان ویسی کشادگی کا اظہار نہیں کر پائے تھے۔ کیا معلوم وقت گزرنے کے ساتھ پی ٹی آئی کے چلن میں بھی پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسا جمہوری بالغ پن دکھائی دینے لگے گا۔
قیام پاکستان سے ہی غیر جمہوری طاقتوں نے پاکستان میں جمہوری چلن کے نشوونما پانے کی سخت مزاحمت کی ہے۔ یہ طاقتیں اور اِن کے زیر اثر گروہ سیاست دانوں پر دشنام طرازی کر کے عوام میں اُن کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کر کے جمہوریت گریز خیالات کو تقویت دیتے رہے ہیں۔ بے نظیر، زرداری اور نواز شریف کے خلاف بدعنوانی کے قصوں اور نعرے گھڑ کر عوام کو درحقیقت جمہوریت سے دور کرنا مقصود تھا۔ چنانچہ پاکستانی عوام کو بار بار یہ نوید سنائی جاتی رہی کہ کچھ ہزار سیاستدانوں کی بلی چڑھا نے سے ملک کے دلِدر دور ہو سکتے ہیں۔ کئی دہائیوں کی اِس ملمع سازی کے اثرات ہمارے قومی مزاج میں نفوذ پذیر ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف اگر گردن زدنی سیاستدانوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود میدان جنگ میں بھارت کے قبضہ میں جانے والی ہزاروں مربع میل اراضی میز پر بیٹھ کر ہی واپس لے لی تھی۔ بھارت میں قید پاکستانی فوجیوں کی با عزت واپسی بھی اسی معتوب مخلوق نے ممکن بنائی تھی۔ ملک کو ایک متفقہ آئین بھی انہی سیاستدانوں نے ہی دیا ہے۔ جبر کے موسموں میں آئین کی مسخ کی گئی صورت کو بحال کرنے اور صوبوں کو خودمختاری دینے کے وعدے کو پورا کرنے کے قصوروار بھی یہی سیاستدان ہی ہیں۔
دیکھئے! 2024 ء میں سیاسی جماعتوں کو تھوڑی سی گنجائش ملی تو انہوں نے پارلیمان کی برتری اور خود مختاری کو تقویت دینے کے لئے کس خوش اسلوبی سے دستور پاکستان میں 26 ویں آئینی ترمیم کے اونٹ کو سوئی کے نا کے سے گزارنے کا معرکہ سر کیا ہے۔ عین توقع کے مطابق پاکستان کے تعفن زدہ نظام انصاف کے ساکن پا نیوں میں اصلاحات کے پتھر کے گرنے سے قبل ہی لہروں میں طوفان اٹھ کھڑے ہوئے تھے تا ہم ناخداؤں نے سیاسی منظر پر اِس تلاطم خیزی کو اپنی خوش تدبیری سے نکیل ڈال کر خاموش کر دیا۔ یونہی یاد آیا کہ ہمارے ایک ہر دلعزیز سیاسی رہنما ہوا کرتے تھے جو اپنی درماندگی اور معذوری پر ماتم کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ انہیں اپنے عالی و روشن دماغ میں پھوٹنے والی سنہری کرنوں سے اُگنے وا لے خوابوں کے مطابق پاکستان کو ڈھالنے کے لئے دستورِ پاکستان میں ترمیم کی ضرورت ہے مگر اُن کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں۔ تعجب ہے 2010 ء میں سیاسی جماعتوں نے جب 18 ویں آئینی ترمیم کا سنگ میل عبور کیا تو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ایوان میں سادہ اکثریت بھی دستیاب نہیں تھی۔ تا ہم سیاست دانوں کی باہمی مشورت اور اجتماعی دانش نے یہ معجزہ انجام دے ڈالا تھا۔ سیاستدانوں پر دشنام طرازی کرنے والوں کو معلوم ہو کہ نا ممکنات کے دشت سے امکانات کے پھول کھلانے کا ہُنر ایک سیاست دان کا ہی امتیاز ہے۔ کہیں پہ خود جھکتا ہے تو کہیں پہ سامنے والے کو لچک دکھانے کے لئے قائل کرتا ہے۔ وہ عددی برتری سے فریق ثانی کو روندنے سے گریز کرتے ہوئے باہمی اتفاق رائے حاصل کر کے آگے بڑھتا ہے۔ یہ پختہ سیاسی چلن کا اظہار ہے کہ حال ہی میں جب مسلم لیگ نواز کے پاس مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کے بغیر بھی 26 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کروانے کا بندوبست موجود تھا تو انہوں نے وسیع تر اتفاق رائے کے حصول کے لئے آخری حد تک مکالمہ جاری رہا۔
سال 2010 ء میں جب دستور کی اٹھارہویں ترمیم پر کام ہو رہا تھا تو قومی کمیشن برائے امن و انصاف نے مذہبی اقلیتوں کو مشاورت میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم مذہبی اقلیتوں کو اِس عمل سے باہر رکھا گیا۔ بہرحال اٹھارہویں آئینی ترمیم میں 1985 ء میں جنرل ضیا کی جانب سے 8 ویں ترمیم کے تحت آرٹیکل 2 (A) کے ذریعے قرارداد مقاصد میں اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کے تناظر میں لفظ ”آزادانہ“ حذف کر دیا گیا تھا جسے اٹھارہویں ترمیم میں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
کسی بھی ملک کا آئین کوئی کھڑے پانی کی مانند ساکت اور جمود پر مبنی دستاویز نہیں ہوتا۔ وقت اور ضرورت کے تحت اُس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات کرنا ایک فطری اور ناگزیر عمل ہوتا ہے۔ دستور پاکستان کے کئی پہلو ابھی مزید ترامیم کے متقاضی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پاکستان میں صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے کی شرط پر سوال اٹھایا تھا۔ یہ سوال درحقیقت پاکستان بنانے والوں کی تیسری پیڑی کا اپنے آبا و اجداد کی جانب سے پون صدی قبل مذہب کی بنیاد پر مذہبی اقلیتوں سے کی گئی نا انصافی پر نوحہ تھا۔ توقع ہے کہ آئندہ دستور پاکستان میں کسی بھی ترمیم کو عمل میں لاتے وقت آئین میں موجود مذہب کی بنیاد پر دیگر شہریوں کے ساتھ امتیاز اور تعصبات کو ختم کر نے پر سوچ بچار کا آغاز کیا جائے گا۔


