لڑائی بڑے اور چھوٹے گھر کی
یہ حقیقت ہے کہ جب بڑے گھر پہ لگے ہوئے لوہے کی چادریں، اینٹوں کی دیواریں، خاردار تاریں اور بڑے گھر کے بڑے دروازے جب کسی سے اپنا رشتہ موڑ لیتے ہیں تو نہ پیرنی منتر سے جنتر نکال سکتی ہے اور نہ ہی چھوٹے گھر کے ستارے کام آسکتے، بلکہ ستاروں کا تو یہ عالم ہوتا ہے کہ زہرہ کی مصروفیت کی وجہ سے زُحل اپنے مدار سے باہر نہیں نکلتا، جبکہ عطارد مشتری کے ساتھ گہری نیند میں خراٹے لے کے زمین کے گرد گردش اس لیے نہیں کرتا تاکہ بڑے گھر کی زمین چھوٹے گھر کی زمین میں سازش کر سکے، اور چاند اپنی خوبصورتی کو پردے سے ڈھانپتا ہے اس لیے کہ وہ چاند گرہن کا ڈرامہ کر دے تاکہ عوام پہلے سے سمجھ جائیں کہ چھوٹے گھر میں بیٹھے مہمان کے جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ اگر کمال ہے تو پنڈی کے سورج کا، کہ وہ اسلام آباد کے سوکھے گھاس پر بھی پڑ جائے تو وہاں راتوں رات ہریالی آجاتی ہے۔ لیکن بڑے گھر والوں کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ سورج نے کب طلوع ہونا ہے اور پڑوس کے گھر میں بیٹھے مہمان کو کب الوداع کہنا ہے۔
بڑے گھر اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات سے باز بھی نہیں آتا، یہ کبھی ایک تگڑے وزیر اعظم کو جج کے ذریعے پھانسی پر لٹکا دیتا ہے تو کبھی کسی ایک کو ایک خط کی بنیاد بنا کے اور دوسرے کا پانامہ سے اقامہ نکال کے دن دیہاڈے گھر بھجوا دیتا ہے تو کسی کو راتوں رات عدالتوں سے ڈرا کے فارغ کراتا ہے۔ اگرچہ بڑے گھر کے خلاف یہ تمام الزامات درست ہیں لیکن یہ سازشیں اور مداخلتیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک سیاسی درباری چھوٹے گھر کے لالچ میں اپنے ضمیر کا سودا نہ کرے۔ یہ بات آپ کو بُری لگ سکتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کی عصمت دری کرنے کے لیے سیاسی طوائفیں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے سہولت کار بن جاتی ہیں۔
ماضی کی ان دونوں گھروں کی کشمکش تاریخ میں زندہ ہے اور اب حال اور مستقبل بھی تاریخ ہی بنے گی، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ تاریخ سے نہ بڑوں نے سبق سیکھا ہے اور نہ ہی چھوٹوں نے، اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں کی لڑائی سے یہ ملک اب و نٹیلیٹر پہ پہنچ چکا ہے، نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی اور سماجی لحاظ سے بھی یہ ملک گر گیا ہے، غریب عوام یہ کبھی نہیں جانتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر اس ملک کے ساتھ کچھ ہو جائے تو نہ بڑے گھر والوں نے یہاں رہنا ہے اور نہ ہی چھوٹے گھر والوں نے، ان کے پاس تو اس قوم پر حمکرانی کرنے کے لیے صرف شناختی کارڈ ہیں باقی سب کچھ ان کا سات سمندر پار ہے۔ یہ قوم عجیب مخلوق ہیں اس قوم کے دماغ میں سوائے لاشعوری کے کچھ نہیں، اس قوم پر سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ یہ ماضی کو جلدی بھول جاتی ہے، ہر نئے نعرے اور ہر نئے وعدے کے پیچھے بھاگتی ہے، اس قوم کو اس ملک کے حکمرانوں نے جان بوجھ کر بے خبر رکھا ہے، ورنہ ایک باشعور قوم ایسی نہیں ہوتی۔
اس قوم کی سمجھ بس اتنی سی ہے کہ جب چھوٹے گھر والے بڑے گھر کو گالی دیتے ہیں تو یہ قوم بھی بڑے گھر کو گالی دیتی ہے اور جب چھوٹے گھر والے بڑے گھر کی واہ واہ کرتے ہیں تو یہ جہالت سے بھری قوم بھی بڑے گھر کے گن گاتی ہے۔
اس ملک کی ہر سیاسی اور مذہبی جماعت جاہلوں سے بھری پڑی ہے اور اِن سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین احمقوں کے اس سمندر کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس ملک کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو سکرین پر سب کچھ نظر آئے گا۔ یہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں کبھی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر لوریاں سنتی ہیں اور کبھی ان کے ساتھ لڑ پڑتی ہیں۔
لیکن اس چھوٹے بڑے گھر کی محبت اور جنگ اس ملک کے جاہل، بے وقوف اور غریب عوام کو ہمیشہ جلاتی رہی ہے۔


