جاپان کے شہر اوساکا میں!
آج مجھے کیوتو شہر سے رخصت ہونا تھا۔ علی الصبح میں نے اپنے کمرے پر ایک الوداعی نگاہ ڈالی اور ہوٹل سے نکل آئی۔ ایک ٹیکسی لی اور ریلوے اسٹیشن جا پہنچی۔ ٹکٹ لینے والوں کی ایک طویل قطار موجود تھی۔ یہاں بھی وہی نظم و ضبط اور ترتیب دکھائی دی جو ان ترقی یافتہ اقوام کا خاصہ ہے۔ باری آنے پر میں نے شین اوساکا (Shin۔ Osaka) اسٹیشن کا ٹکٹ لیا۔ کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے بتایا کہ تمام reserved سیٹیں پر ہو چکی ہیں۔ میں نے unreserved ٹکٹ لیا اور پلیٹ فارم کا رخ کیا۔ ان ریزرورڈ کا مطلب یہ کہ مجھے کھڑے ہو کر سفر کرنا تھا۔ میں نے سوچا کہ پندرہ بیس منٹ کھڑے رہنے میں حرج ہی کیا ہے۔ میرا سامان تو ویسے بھی نور بھائی کی ہدایت کے مطابق کیوتو سے ٹوکیو کے ہوٹل کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ مطلوبہ پلیٹ فارم تک پہنچنے میں تھوڑا وقت لگا۔ وہی مسئلہ کہ جاپانیوں کو انگریزی زبان سمجھ نہیں آتی۔ ہر مرتبہ یہ صورتحال دیکھ کر میں سوچتی کہ آخر جاپان نے بھی تو انگریزی زبان اپنائے بغیر اتنی ترقی کر لی ہے۔ دنیا میں اس کا ایک خاص نام اور مقام ہے۔ ایک ہم پاکستانی ہیں جو اپنی قومی زبان اردو کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ برسوں بلکہ دہائیوں سے انگریزی کے احساس کمتری میں مبتلا ہیں۔ قومی زبان اردو کے نفاذ اور ترویج کی بات ہوتی ہے تو ایک طبقہ فکر اس نقطہ نظر کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہو تا ہے کہ انگریزی کے بغیر ہم اقوام عالم سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ کوئی پوچھے، انگریزی کو اختیار کر کے بھی ہم نے بھلا کون سا تیر مار لیا ہے؟ ہماری تعلیمی ڈگریوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پاسپورٹ ہمارا بد ترین ممالک کی فہرست میں سر فہرست ہے۔ معیشت ہماری وینٹی لیٹر پر پڑی رہتی ہے۔ کرنسی ہماری بنگلہ دیش اور افغان کرنسی سے بھی کمتر قدر کی حامل ہے۔ ہماری عدالتیں عالمی درجہ بندی میں 130 ویں نمبر پر کھڑی ہیں۔ زوال اور ڈھلوان کا سفر ہے جس پر ہمارا کم و بیش ہر شعبہ گامزن ہے۔ بہرحال، اس پہلو پر ضرور تحقیق ہونی چاہیے کہ چین اور جاپان جیسے ممالک نے اپنی قومی زبان اپنا کر اس قدر ترقی کیسے کر لی ہے؟
پلیٹ فارم پر کھڑی دو مسافر جاپانی لڑکیوں کو میں نے ٹکٹ دکھایا اور پوچھا کہ مجھے کس طرف جانا ہے۔ انہوں نے گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے میری آواز ریکارڈ کی۔ اس کا جاپانی ترجمہ سنا اور پھر اشاروں کی زبان میں مجھے راستہ سمجھایا۔ وقت پر ٹرین آئی اور چل پڑی۔ میں نے آج تک بلٹ ٹرین میں سفر نہیں کیا۔ میں خوش تھی کہ میں بلٹ ٹرین پر سوار ہوں۔ ٹرین چلی تو میں نے گرد و پیش کا جائزہ لیا۔ کھڑکی سے جھانکا اور ٹرین کی رفتار پر غور کیا۔ مجھے تو یہ کہیں سے بھی بلٹ ٹرین نہیں لگی۔ اس میں بلٹ یعنی گولی کی رفتار والی کوئی بات نہیں تھی۔ ترکی اور ملائشیا میں بھی میں بالکل ایسی ٹرینوں میں سفر کر چکی ہوں۔ خیال آیا کہ یقیناً کچھ گڑ بڑ ہے۔ ٹکٹ پر جاپانی لکھی تھی اس لئے میں تصدیق نہیں کر سکی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ میں نے غلطی سے بلٹ کے بجائے ریپڈ ٹرین کا ٹکٹ لے لیا تھا۔ پندرہ، بیس منٹ کے بعد میں اپنے مطلوبہ اسٹیشن پر اتر گئی۔ ارد گرد نگاہ ڈالی۔ ایک سوٹڈ بوٹڈ جاپانی ہاتھ میں بریف کیس تھامے اپنی ٹرین کا منتظر تھا۔ میں نے علی بھائی کا نمبر دکھا کر اس سے گزارش کی کہ میری ان سے بات کروا دے۔ اسی وقت اس کی ٹرین آ گئی۔ تاہم اس بھلے آدمی نے ٹرین چھوڑ دی۔ نمبر ڈائل کیا۔ میری بات کروائی۔ خود بھی بات کی۔ پھر مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ مختلف راستوں سے گزارتا ہوا مجھے پلیٹ فارم سے باہر لے آیا۔ پھر ہم اسٹیشن کی پارکنگ میں آئے۔ اس نے علی بھائی کو تلاش کیا۔ مجھے ان کے حوالے کیا اور چلا گیا۔ میرے دل میں اس کے لئے احسان مندی کے جذبات تھے۔ یہ بھلا آدمی نہ ہوتا تو اس اجنبی اسٹیشن سے باہر نکلنے میں مجھے کافی وقت لگ جاتا۔
ہم نے گاڑی میں سامان رکھا اور چل پڑے۔ کیوتو میں قدیم جاپانی تہذیب بکھری پڑی تھی۔ جبکہ اوساکا میں جدید جاپان میرے سامنے تھا۔ جدید فن تعمیر کی شاہکار بلند و بالا عمارتیں۔ سڑکوں اور پلوں کا جال۔ جدید لباس میں ملبوس مرد و خواتین۔ مجھے یہاں کی زندگی کچھ کمرشل اور زیادہ مصروف محسوس ہوئی۔ اوساکا جاپان کا تیسرا گنجان آباد شہر ہے۔ اسے جاپان کا مالیاتی اور تجارتی مرکز بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں اوساکا (اسٹاک) ایکس چینج موجود ہے۔ یہاں پینا سونک اور شارپ جیسی معروف ملٹی نیشنل الیکٹرانک کمپنیوں کے ہیڈ آفس قائم ہیں۔ یہ شہر عالمی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ یہاں دو بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں۔ یہاں اوساکا یونیورسٹی سمیت کئی جامعات موجود ہیں۔ کچھ دیر ہم نے گاڑی میں اوساکا کی سیر کی۔ پھر ہم علی بھائی کے ریستوران میں آ گئے۔ داخلی دروازے پر پاکستان کا جھنڈا دیکھ کر مجھے نہایت خوشی ہوئی۔ کچھ دیر گزری تو پروفیسر مرغوب حسین صاحب تشریف لے آئے۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے اساکا یونیورسٹی میں اردو پڑھا رہے ہیں۔ جاپان کے شہر ٹوکیو اور اوساکا اردو کے ابتدائی مراکز رہے ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ جاپانیوں کو بھلا اردو زبان سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جاپانی کوئی بھی زبان مادی مقاصد یا فوائد سے قطع نظر، صرف حصول علم کی غرض سے سیکھتے ہیں۔ یہ سفر الف، ب سے شروع ہوتا ہے۔ اور پھر اردو شعر و شاعری تک جا پہنچتا ہے۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ جاپانی طالب علم نہایت محنتی ہیں۔ یہ طالب علم بلکہ سارا جاپانی سماج استاد کا نہایت احترام کرتا ہے۔ پروفیسر صاحب کے ذاتی مشاہدات سن کر اچھا لگا۔ ان کی مہربانی کہ وہ طویل فاصلہ طے کر کے مجھ سے ملنے تشریف لائے۔ اپنے جاپانی ڈین کا نام لے کر کہنے لگے کہ ان کی خواہش ہے کہ آپ اوساکا یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کریں۔ مجھے وہاں جانا یقیناً بہت اچھا لگتا۔ تاہم وقت کی کمی تھی۔ عرض کیا کہ انشا اللہ یہ پروگرام جاپان کے اگلے دورے پر اٹھا رکھتے ہیں۔ علی بھائی نے مزیدار پائے، باربی کیو اور گرم گرم روٹی سے تواضع کی۔ ریستوران میں جرمن، جاپانی اور دیگر غیر ملکی گاہک پاکستانی پکوان کھانے میں مصروف تھے۔ پتہ یہ چلا کہ جاپانیوں سمیت غیر ملکی سیاح پاکستانی کھانے نہایت شوق سے کھاتے ہیں۔
پروفیسر صاحب رخصت ہوئے تو ہم اوساکا کی سیر کے لئے چل پڑے۔ علی زیدی بھائی نے مجھے کچھ معروف جگہیں دکھائیں۔ دو تین دکانوں کی خاک چھاننے کے بعد میں نے ایک ویڈیو کیمرہ خریدا۔ علی صاحب کے پروڈکشن اسٹوڈیو کا دورہ بھی کیا۔ شام میں انہوں نے مجھے راستے سمجھائے اور رخصت ہو گئے۔ میرا ہوٹل ایک بارونق علاقے میں واقع تھا۔ میں رات گیارہ، ساڑھے گیارہ بجے تک اوساکا کے معروف سیاحتی مقام ڈٹنبوری (Dotonbori) میں گھومتی رہی۔ یہاں ایک نہر بہتی ہے۔ جہاں سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اوساکا اپنی نائٹ لائف کے لئے کافی مشہور ہے۔ اوساکا کھانے پینے کے حوالے سے بھی معروف ہے۔ ایک جاپانی کہاوت سنی تھی کہ اوساکا کے لوگ کھانے پینے پر کمائی اڑانے کے عادی ہیں۔ اس جگہ ایک طویل فوڈ سٹریٹ قائم ہے۔ تاہم کھانوں میں حلال حرام کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ بیسیوں دکانیں اور شاپنگ مال بھی ہیں۔ سینکڑوں میٹر طویل شاپنگ سڑیٹ بھی قائم ہے۔ یہاں گھومتے پھرتے میں افسوس کرتی رہی کہ میں نے کیوتو میں شاپنگ کیوں کی۔ اوساکا شاپنگ کے لئے نسبتاً بہتر جگہ ہے۔ میرے سامان کے وزن کی حد پوری ہو چکی تھی۔ چاہنے کے باوجود میں نے مزید شاپنگ سے خود کو روکے رکھا۔ ہاتھ باندھ کر شاپنگ ایریاز سے نکل آتی۔ جاپان اپنی عمدہ اسٹیشنری کے لئے مشہور ہے۔ ہمارا بچپن جاپانی اسٹیشنری استعمال کرتے گزرا ہے۔ میری بہن عظمی ٰ نے بطور خاص ہدایت کی تھی کہ سب بچوں کے لئے اسٹیشنری لانی ہے۔ بالکل ایسے جیسے ہمارے والد جاپان سے لایا کرتے تھے۔ میں نے اپنے بھانجے، بھانجیوں اور بھتیجوں کے لئے اسٹیشنری خریدی۔ اپنے والد کی یاد میں کچھ گھڑیاں بھی خریدیں، بالکل ویسی جیسی وہ ہمارے لئے لایا کرتے تھے۔
سیاحت کے لئے اوساکا اچھی جگہ ہے۔ اس شہر میں اوساکا کیسل یعنی قلعہ ہے۔ اوساکا ایکویریم ہے۔ یونیورسل اسٹوڈیوز پارک ہے۔ نارا پارک ہے۔ فیرس وہیل اور بہت کچھ ہے۔ افسوس کہ تنگی وقت کی وجہ سے میں یہ مقامات نہیں دیکھ سکی۔ ہیرو شیما بھی نہیں جا سکی۔ کوبے شہر میں واقع مسجد بھی نہیں دیکھ سکی۔ سوچا کہ انشا اللہ جب اگلی مرتبہ جاپان آؤں گی تو زیادہ دن ٹھہروں گی اور یہ سب جگہیں ضرور دیکھوں گی۔ اگلے دن مجھے اوساکا سے ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو نا تھا۔


