تاریخ کی عدالت میں پاکستان کے حکمرانوں کا محاسبہ
رات کا پہر، اور ایک پراسرار سکوت صلاح الدین ایوبی کی محفل میں چھایا ہوا تھا۔ فضا میں ماضی کی جنگوں کی صدائیں اور غازیوں کی مہک رچی ہوئی تھی۔ صلاح الدین، طارق بن زیاد، اور محمد بن قاسم اپنی محفل میں پاکستانی حکمرانوں کی بزدلیوں اور غفلت پر گفتگو کر رہے تھے۔ ہر ایک کی آنکھوں میں ایک شعلہ اور دل میں ایک بے چینی تھی۔ وہ مسلم قوم جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں، آج تفرقے اور بزدلی کی نذر ہو چکی تھی۔
صلاح الدین ایوبی نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا، ”یہ حکمران اپنے ہی لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کی حکمت عملی قوم کو بانٹنے اور اقتدار کو محفوظ بنانے میں ہے، نہ کہ قوم کو استحکام اور وقار دینے میں۔“
محمد بن قاسم نے سر جھکا کر افسوس بھری آواز میں کہا، ”آج ان لوگوں میں وہ جذبہ نہیں جس نے ہمیں ایک قوم بنایا تھا۔ انہوں نے اپنے مفادات کو قوم کے مفاد پر ترجیح دی، اور اب قوم کو انتشار اور مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے رہے۔“
اتنے میں طارق بن زیاد، جو ہمیشہ اپنی اصول پسندی اور قوتِ ارادی کے لیے مشہور تھے، نے اپنی بات کا آغاز کیا۔ ان کے چہرے پر غم اور غصے کی ملی جلی کیفیت تھی۔ انہوں نے کہا، ”وقت کی ہر سپر پاور ہر ملک سے جنگ لڑنا نہیں چاہتی، اگر دھمکی سے کام چل جائے تو پیسہ اور توانائی کیوں خرچ کریں؟ افغانستان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ بڑی مصیبتوں کا وقت تو بڑی استقامت سے گزارا ہے لیکن اب دشمن ان سے کوئی بھی مطالبہ کرنے سے پہلے کھربوں روپے کا بجٹ اور لاکھوں فوجیوں کی قربانی کو پہلے مدنظر رکھے گا۔“
صلاح الدین نے طارق کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ”ہاں! اور یہی استقامت ایک قوم کو طاقتور بناتی ہے۔ دشمن کی نظریں ہماری بزدلی اور تقسیم پر ہیں، ہماری شکستوں پر نہیں بلکہ ہمارے ارادوں کی کمزوری پر ہیں۔ اگر یہ حکمران سمجھ جاتے کہ بقا کی جنگیں میدانوں میں جواں مردی اور مصیبتیں جھیل کر لڑی جاتی ہیں، تو آج یہ قوم اپنے دشمنوں کے لیے عبرت کا نشان بن چکی ہوتی۔“
مصاحبین میں سے ایک نے کہا، ”صلاح الدین، آج کے حکمران یہ نہیں سمجھتے کہ قوم کو صرف اسلحے اور افواج سے نہیں بلکہ کردار اور اتحاد سے طاقتور بنایا جاتا ہے۔ اگر ہمارے سیاستدان اتحاد اور استقامت کو اپنی سیاست کا حصہ بنا لیتے تو دشمن کو کبھی یہ جرات نہ ہوتی کہ وہ ہمیں دھمکانے کی کوشش کرتا۔“
محمد بن قاسم نے اپنی بات میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے کہا، ”آج کے حکمران دشمنوں کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی کشتیاں جلا کر میدان میں اترے تھے۔ ہمیں اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کسی دھمکی کی پروا نہیں ہوتی تھی، بلکہ ہمارے ارادے ہمارے دشمن کے ارادوں کو شکست دیتے تھے۔“
محفل میں موجود ہر چہرے پر ایک سنجیدگی چھا گئی، اور صلاح الدین ایوبی نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا، ”آج کی سپر پاورز کو تمہاری قوم کی مزاحمت سے نہیں، تمہاری قوم کے ارادے کی کمی سے فائدہ ہے۔ اگر یہ قوم اپنے حقیقی مقصد کو پہچان لے، اور ان حکمرانوں کے مفادات کو ترک کر کے قوم کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائے، تو کوئی بھی دشمن ہمارے سامنے ٹھہر نہیں سکے گا۔“
یہ سن کر محفل میں موجود تمام لوگ خاموش ہو گئے، جیسے یہ الفاظ ان کے دلوں میں گھر کر گئے ہوں۔ وہ جانتے تھے کہ یہ محفل ان کے لیے ایک سبق ہے۔ ایک یاد دہانی کہ قوم کی عظمت اس کے رہنماؤں کے کردار اور عزم میں پنہاں ہوتی ہے، نہ کہ دولت اور طاقت کے حصول میں۔
اتنے میں ایک مصاحب نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا، ”صلاح الدین، آج ایک خبر نے دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ غزہ میں ایک معصوم بچہ رات کے اندھیرے میں ایک قبر سے لپٹ کر سو رہا تھا۔ جب کسی نے پوچھا کہ تم یہاں کیوں ہو، تو اس نے جواب دیا، ’ماں کی گود میں سونا چاہتا ہوں۔ ‘ یہ جواب سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ بچے، جو کل ہمارے مستقبل کی امید ہیں، آج قبرستانوں میں امن اور محبت کی تلاش میں ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں کو اس حال کا احساس ہوتا، اگر انہیں قوم کی تکلیف کا ذرہ برابر بھی ادراک ہوتا، تو شاید یہ معصوم بچے یوں تنہا اور بے بس نہ ہوتے۔“
صلاح الدین نے اس بات پر افسوس سے سر جھکایا اور کہا، ”یہ منظر دلوں کو چیر دینے والا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسلم غیرت مند حکمران نے یہ ویڈیو دیکھی ہے؟ کیا کسی کے دل میں اتنی ہلچل پیدا ہوئی کہ وہ اپنی نیندوں کو قربان کر کے ان معصوموں کے لیے کچھ کرنے کا سوچے؟ جب قوم کے بچے قبرستانوں میں اپنی ماؤں کی گود ڈھونڈنے لگیں، تو یہ جان لو کہ تم نے اپنی راہ کھو دی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بیداری کی ضرورت ہے، جب حکمرانوں کو اپنے دلوں کو جھنجھوڑنا ہو گا، ورنہ یہ معصوم قوم کی امیدوں کے چراغ بننے کے بجائے خاموشی کی نذر ہوجائیں گے۔“
صلاح الدین ایوبی ایک سرد اور پرعزم لہجے میں پاکستانی قوم سے مخاطب ہیں۔ ان کی آنکھوں میں اپنی عظیم تاریخ کی روشنی اور موجودہ حالات کا درد صاف جھلک رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”اے قومِ پاکستان! تمہاری تاریخ عظیم ہے، تمہارے آبا و اجداد نے اس سرزمین کو ایمان، اتحاد اور قربانیوں سے سینچا ہے۔ مگر آج، جب ہم ان کے خوابوں کی تعبیر کو دیکھنے کے قابل ہوئے ہیں، تو ہم اپنے ہی اعمال سے اپنے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اے نوجوانانِ پاکستان! یہ وقت جذبات کی رو میں بہہ کر اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانے کا نہیں، بلکہ اس عہد کی تجدید کا ہے کہ ہم اپنی قوم کے وقار اور اپنے ملک کی سلامتی کے امین ہیں۔ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ، مگر اس وقار کے ساتھ جو ایک سچے مسلمان اور سچے پاکستانی کا زیور ہے۔ اگر کوئی سیاسی رہنما تمہیں تباہی کی طرف دھکیلتا ہے، تو یاد رکھو کہ یہ تمہارے رب اور تمہارے ضمیر کے ساتھ ایک خیانت ہوگی۔
آگے بڑھو، مگر اس عزم کے ساتھ کہ تمہاری ہر آواز، ہر قدم اور ہر عمل اس وطن کو سنوارنے، اس کی عظمت کو بلند کرنے کے لئے ہو۔ اس وطن کا حقیقی خیرخواہ وہی ہے جو اس کی سلامتی اور استحکام کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہو۔ اے قومِ پاکستان، آج تمہیں اس عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ یہ سرزمین تمہاری ہے اور تم اس کے امین ہو۔“


