پہچان
دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنا عمومی طور پر صحت مند عادت نہیں، لیکن اگر کسی کے بارے میں فیصلہ کرنا ناگزیر ہو، تو اس کی توفیقات کو پرکھنا چاہیے۔ ایک انسان کی اصل کہانی اس کے اعمال اور کارناموں میں چھپی ہوتی ہے۔ یہ کامیابیاں اور توفیقات ظاہر کرتی ہیں کہ اس نے کیا کچھ حاصل کیا، کیا انجام دیا، اور دوسروں کے لیے کیا ورثہ چھوڑ گیا۔
امام علی نقیؑ کے بقول ”یہ دنیا ایک بازار ہے، جہاں بہت سے تاجر خسارے کے سودے کر کے چلے گئے، جبکہ کچھ نے منافع کمایا۔“ درحقیقت، کسی انسان کی توفیقات ہی اس کے کارنامہ حیات کی اصل تصویر پیش کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس کے لیے کام کرتا رہا؟ انسانیت کے لیے یا ظلم و جبر کے لیے؟ اس کا علم، اس کی کتب اور اس کی مہارت کس حد تک فائدہ مند ثابت ہوئیں، اور کہاں نقصان دہ؟
یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا وہ اپنے دائرہ ذات میں محدود رہا، یعنی شہرت و لالچ کا پیروکار، یا اس نے قربانی اور ایثار کو فروغ دیا؟ اگر کوئی شخص انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے، تو وہ بلاشبہ ایک عظیم انسان ہے۔ اگر کسی نے سماجی ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے معاشرے کو امن و سکون فراہم کیا، تو وہ بھی ایک بڑا انسان ہے۔ اگر کوئی ایسا راستہ چھوڑ جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے روشنی بنے، تو وہ بھی عظیم المرتبت ہے۔ ذاتی طور پر، اگر کوئی شخص حلال روزی سے اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے، تو یہ بھی ایک قابلِ احترام کارنامہ ہے۔
لہٰذا لوگوں کو ان کی باتوں، عقیدتوں، محفلوں، رسومات، سیمیناروں، کانفرنسوں، بڑی گاڑیوں، عالی شان گھروں یا بلند عہدوں سے نہ پہچانو۔ یہ سب محض ذرائع اور وسائل ہیں۔ اصل کمال ان نتائج میں ہے جو ایک انسان سماجی، سیاسی، معاشی، علمی، یا فکری سطح پر، یا کم از کم خاندانی دائرے میں، چھوڑ کر جاتا ہے۔


