! دو بوری چینی


برسوں پرانی بات ہے۔ سہ پہر کا وقت ہو گا جب شہر کے مرکزی بازار کے آخری سرے پر واقع کریانے کی اُس چھوٹی سی دکان میں ایک نوجوان گاہک داخل ہوا۔ دکاندار نے، جو ایک دبلے پتلے، سفید ریش اور دراز قامت بزرگ تھے، اپنے معمول کے مطابق مسکرا کر اُس کا استقبال کیا اور پوچھا: بیٹا، کیا چاہیے؟

”چاچا، چینی کیا بھاؤ ہے؟“ نوجوان نے پوچھا۔

بزرگوار نے سامنے دھری چینی کی دو بوریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے مزاج کے مطابق قدرے عجلت میں، گویا ایک ہی سانس میں جواب دیا:

”یہ والی پچیس روپے کلو ہے اور وہ والی ستائیس روپے کلو!“

نجانے دکاندار کے لہجے کی تیزی تھی یا کہی گئی بات کا غیر مانوس پن، نوجوان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ اس نے چینی کی دونوں بوریوں کو ایک ایک کر کے، بغور دیکھا۔ دونوں جگہ چینی کی رنگت، دانے یا معیار میں بظاہر کچھ فرق نہ تھا۔ چنانچہ کسی قدر الجھن کے ساتھ اس نے کہا: ”چاچا، کیا فرق ہے دونوں بوریوں میں؟ مجھے تو دونوں جگہ ایک ہی چیز نظر آ رہی ہے، پھر قیمت میں فرق کیوں؟

”بہت فرق ہے بیٹا“

دکاندار نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: ”چینی ایک ہی کوالٹی کی ہے مگر پہلی بوری پچھلے ہفتے کے سامان میں مارکیٹ سے آئی تھی جب ریٹ کچھ کم تھا اور یہ دوسری بوری والا مال آج آیا ہے جب چینی کا نرخ بڑھ چکا ہے، اسے دو روپے فی کلو مہنگا بیچنا مجبوری ہے۔“

نوجوان گاہک نے پہلے تو سخت تعجب کے ساتھ دکاندار کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور پھر گویا ہوا: ”چچا، کس دنیا میں رہتے ہو؟ یہاں کون اس جھنجھٹ میں پڑتا ہے۔ کون اتنی باریکی اور اتنی ایمانداری سے روپے دو روپے کے فرق کو دیکھتا ہے۔ اگر آپ اتنی وضاحت کے بغیر دونوں بوریوں کی چینی ستائیس روپے کلو بیچ دیں تو بھی کیا فرق پڑے گا؟“

” مگر بیٹا، مجھے تو بہت فرق پڑتا ہے۔“ بزرگ دکاندار نے اب کے کسی قدر دھیمے مگر مستحکم لہجے میں کہا:

” میرا ایمان مجھے جائز منافع کمانے کی اجازت دیتا ہے اور مَیں وہی کرتا ہوں۔ لیکن اگر مَیں کم قیمت پر ملنے والی چیز کے زیادہ دام لگا کر بیچ دوں تو گاہک کو پتہ چلے نہ چلے میرا رب جو سب کچھ جانتا ہے وہ ضرور ناراض ہو گا کہ مَیں نے بد دیانتی دکھائی ہے۔ بس اس لئے بیٹا میرا ضمیر مجھے اس وضاحت پر مجبور کرتا ہے!“

کریانے کی اُس چھوٹی سی دکان کے باہر دھرے لکڑی کے بینچ پر اُس دکاندار کا طالبِ علم بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ بظاہر وہ کوئی پرانا اخبار الٹ پلٹ رہا تھا لیکن دراصل اُس کی پوری توجہ اس معاملے اور مکالمے پر مرکوز تھی۔ کاروبار ہو یا گھر، گلی محلے اور خاندان برادری کے دیگر معاملات، اپنے ابا جی کی اس احتیاط پسندی اور ایمان داری کے مناظر وہ صبح و شام دیکھا کرتا تھا۔ دیکھتا تھا اور شاید کتابِ دل کے بعض صفحوں پر رقم بھی کیے جاتا تھا۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ کئی برس گزر گئے۔ اور وہ سفید ریش بزرگ دکاندار بھی عمر کی گنتی پوری ہونے پر اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ ان کا وہ غریب و سادہ مگر محنتی بیٹا زمانے کی ٹھوکریں کھاتا کھاتا بھی اپنی پڑھائی میں جُتا رہا اور تعلیم مکمل کر کے جیسے تیسے مقابلے کا امتحان بھی پاس کر گیا۔ اب وہ درمیانے درجے کا ایک سرکاری افسر ہے۔

درمیانے درجے کے اس سرکاری افسر کی زندگی اور نوکری میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ بالعموم نوکرانِ سرکار کی تنخواہ کچھ زیادہ مالی وسعت کا سبب نہیں بنا کرتی اور اس سے بس سفید پوشی کا بھرم ہی بمشکل رہ پاتا ہے۔ محدود آمدن کی تنگنائے سے نکل کر عیش و طرب کے بحرِ بے کنار کی غواصی کرنے کو کس کا دل نہیں چاہتا، چنانچہ بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ

ملازمت کے مد و جذر ہائے کے دوران افسرِ موصوف کے دل میں بھی بہت مرتبہ دنیوی مال و دولت کی خواہش نے سر اٹھایا ہو گا، گھر اور بچوں کی ضرورتیں بھی ضرور دامن گیر رہی ہوں گی، گرد و پیش میں ہمہ وقت رقصاں جاہ و حشمت کی چمک دمک سے اس کی نگاہیں بھی بار ہا خیرہ ہوئی ہوں گی اور کئی بار ہوا و ہوس نے اس کا دل بھی بے طرح لبھایا ہو گا۔ مگر خدا جانے کیا بھید ہے کہ اس سرکاری افسر کی عملی زندگی میں جب کبھی جائز اور ناجائز کے بیچ تمیز و تفاوت کا وقت آیا، رزقِ حلال و مالِ حرام کے درمیان تفریق کا کٹھن مرحلہ درپیش ہوا یا جب بھی حق اور ناحق کے مابین تخصیص کی جان گداز گھڑی سر پر تلوار کی طرح آن کھڑی ہوئی، یا دستِ ظلم کو روکنے اور مظلوم کو اس کا حق واپس دلوانے کا پلِ صراط اس کے رو برو ہوا، ایک ہی قسم اور ایک ہی معیار مگر الگ الگ نرخ والی چینی کی دو بوریاں نجانے کہاں سے دندناتی ہوئی سامنے آ جاتی ہیں اور ’صاحب‘ کی چشمِ تخیل کے آگے اُس وقت تک اندھا دھند ناچتی رہتی ہیں جب تک کہ تشکیک، ہوس، نا انصافی اور گمراہی کی دھند پوری طرح چَھٹ نہیں جاتی اور افسرِ موصوف اپنے ڈگمگاتے ایمان کو ٹٹولتے، تیزی سے خراب ہوتی نیت کو درست کرتے ہوئے دھیرے دھیرے اپنے درویش صفت والد کی دکھائی ہوئی اُس راہ پر نہیں چل پڑتے جو بے شک ظاہری چکاچوند سے مکمل محروم ہے لیکن جہاں قدم قدم پر سکونِ قلب اور رحمت و برکت کے ان گنت ننھے چراغ ہمہ وقت روشن رہتے ہیں۔

شہر کے مرکزی بازار کے آخری سرے پر واقع کریانے کی چھوٹی سی دکان چلانے والے وہ خدا پرست بزرگ، وہ مردِ حق آگاہ میرے والدِ گرامی تھے!

Facebook Comments HS