کچھ یادیں
جون ایلیا اپنی وفات سے ایک سال پہلے ہماری دعوت پر ایک مشاعرہ پڑھنے جنوبی پنجاب کے شہر خانیوال تشریف لائے تھے۔ یہ مشاعرہ سٹیزنز فورم خانیوال کے زیرنگرانی ہوا تھا۔
ڈگری کالج خانیوال کے لان میں منعقدہ اس مشاعرے میں پہلی بار خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔ سامعین کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ فرشی نشست تھی اور سفید چادریں بچھائی گئی تھیں۔ رات گئے مشاعرہ چلتا رہا۔ جب جون ایلیا پڑھنے بیٹھے تو آسمان پر ہلکی ہلکی میٹھی چاندنی کی لو پڑ رہی تھی اور ہوا میں تھوڑی خنکی بھی آ گئی تھی۔ جون وجد میں تھے کہ سرور میں ہاتھ لہرا لہرا کر اشعار کو اپنی باڈی لینگوئج میں سمو کر پڑھتے جاتے تھے۔
یہ جون ایلیا کا خانیوال بلکہ جنوبی پنجاب میں آخری مشاعرہ تھا کہ وقت نے انہیں مزید مہلت نہیں دی۔ ان دنوں بھی ان کی صحت کافی خراب تھی۔ مگر جس جوش اور جذبے کے ساتھ آپ نے مشاعرہ پڑھا، اس سے کہیں ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ علیل ہیں۔ مشاعرہ ختم ہوا تو جون پر خاموشی کا شدید دورہ پڑا۔ ایسے لگتا تھا جیسے وہ کبھی بولے ہی نہیں۔ کچھ کھایا نہیں سوائے ادویات کے جو ساتھ لائے تھے بس تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک گھونٹ پی لیتے جیسے یہی ان کا کھانا یہی ان کا پینا تھا۔ صبح کے چار بجے تک میں ان کے ساتھ جاگا وہ نہیں سوئے تھے۔ نہ جانے کب ہم دونوں جو ان کے ساتھ بیٹھے تھے، نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ صبح دس بجے آنکھ کھلی تو جون جاگ رہے تھے۔ ہمارے میزبان انہیں ناشتہ کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔
وہ دو دن ہمارے پاس رہے۔ اس دوران سوائے ہوں ہاں کوئی بات نہیں کی۔ ہم نے سوال کرنے کی جرات نہیں کی۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا جو سوال میں ان سے کرنا چاہتا ہوں ان کے جواب جون کے پاس نہیں ہیں یا یہ کہ انہی سوالوں کے جواب وہ خود بھی تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ دو دن میں مقامی شعرا کے ساتھ کئی نشستیں ہوئیں مگر جون ان سے سنتے رہے کچھ سنایا نہیں۔ اصرار کے باوجود کچھ نہیں سنایا۔
اردو زبان پر گفتگو کرتے ہوئے جون ایلیا نے کہا ”میاں! اردو زبان ہمارے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہے“ جب میں نے یہ کہا ”حضور اردو آپ کی مادری زبان ہے“ تو جون ایلیا نے قدرے اختلاف کرتے ہوئے الٹا سوال کر دیا ”ماں کے پیٹ سے کوئی انسان کتنے لفظ سیکھ کر آتا ہے۔ ؟ ماں کی گود سے پچاس ساٹھ سے زائد لفظ نہیں سیکھ سکتا“ ان کی نظر میں زبان سیکھنی پڑتی ہے اور جون ایلیا نے زبان باقاعدہ سیکھی ہے۔ جون ایلیا امروہہ کے ایسے ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا ادب کے بغیر ادھورا ہے۔
وہ شفیق ایلیا کے فرزند تو رئیس امروہوی اور محمد تقی جیسے شخص کے بھائی تھے۔ اردو ہندی اور سنسکرت پر عبور رکھتے تھے۔ تاریخ اور فلسفہ ان کے لئے بچوں کا کھیل تھے۔ ہے مذہب اور بین المذاہب پر عبور رکھنے والے جون ایلیا بہت بڑے مصنف ادیب اور نقاد تھے۔ بہت سی کتابوں کے تراجم کیے ۔ کافی عرصہ ”عالمی ڈائجسٹ“ کی اشاعت کرتے رہے۔
جون ایلیا 1957 میں ہندستان کے شہر امروہہ سے کراچی منتقل ہوئے۔ اپنے انداز شاعری اور منفرد انداز میں مشاعرے پڑھنے کی وجہ سے مقبول ہوتے چلے گئے۔ ان کی موجودگی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہوتی۔ وہ شعر کو اپنی حرکات و سکنات کے ذریعے سامعین کے قلوب و اذہان تک منتقل کرتے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے۔ ان کے کلام میں انسانی نفسیات اور حسّیات کا مکمل امتزاج موجود ہے جو انہیں میر تقی میر کے قریب لا کھڑا کرتا ہے۔
جون ایلیا کی ذاتی زندگی میں جگہ جگہ لا ابالی پن، زندگی سے بے اعتنائی اور حقائق کو نظر انداز کرنے کی روش پائی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر اسے ایک کامیاب زندگی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ بات البتہ ان کے چاہنے والے نہیں مان سکتے۔ وہ خوابوں اور خیالی دنیا کے انسان تھے۔ زاہدہ حنا سے ان کا تعلق، عشق، دوستی شادی میں تبدیل ہوئی اور طلاق پر ختم ہوئی۔ ان کے تین بچے، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوا۔ طلاق کے بعد بچوں کی باپ سے علیحدگی کا جون کی ذہنی اور جسمانی صحت پر بہت برا اثر ہوا اور وہ شراب نوشی کثرت سے کرنے لگے جو بالآخر ان کی موت کا باعث بنی۔
جون ایلیا کی بائیسویں برسی کے موقع پر ان کی بڑی بیٹی نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے جو ان کے بقول لوگوں کی جون اور ان کی فیملی کے بارے غلط قسم کی افواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہ امر مجبوری جاری کیا گیا ہے
جون ایلیا کی بیٹی فینانہ کے بقول بے شک ان کے والد جون ایلیا بہت بڑے شاعر تھے اور ان کے فینز کا حق ہے کہ وہ ان کے بارے اپنی مرضی کی رائے قائم کریں مگر ان کے لئے تو جون صرف ایک باپ تھے اور وہ جون ایلیا کو اپنے باپ کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ ان کے بقول وہ ایک آئیڈیل باپ نہیں تھے۔ ان کی اپنی اہلیہ سے اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ فینانہ کے بقول جون کے خاندان نے ان کی والدہ کو کبھی اپنے خاندان کا حصہ نہیں سمجھا شاید اس لئے کہ وہ امروہہ کی رہنے والی نہیں تھی یا کچھ ایسی ہی وجوہات تھیں جس کے نتیجے میں ان کی والدہ کو طلاق ہوئی اور خاندان ٹوٹ گیا۔ بہر حال ہم بہن بھائی ابو سے دور ہو گئے۔
آج جون ایلیا کی برسی کے موقع پر ان کے ایک شاگرد ندیم ناجد کا فون آیا۔ وہ ”معیار حرف“ نامی تنظیم کے تحت جان ایلیا کی یاد میں شعری نشست کرنا چاہتے تھے۔ مجھے اس نشست میں مہمان خصوصی کی نشست پر بٹھایا گیا۔ جون ایلیا کی روح کے لئے ایصال ثواب کیا گیا۔ ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی گئی۔ اس محفل کے شرکا جون ایلیا کے بڑے فین نکلے۔ ان میں اکثر کو جون کے اشعار زبانی یاد تھے۔


