ڈاکٹر تنویر حسن خواجہ۔ یادوں کی باز گشت
فون بجتا ہے۔ وقار کی روہانسی آواز آتی ہے ”تنویر ہمیں چھوڑ گیا ہے“ ۔ مگر میں کیسے مان لوں۔ وہ تو ٹوٹتے تعلق کو بھی آخری دم جوڑ لیتا تھا۔ کچھ لمحوں کے بعد یاسر کا فون آتا ہے۔ مگر میں کیسے یقین کرتا، وہ تو ہم سے زیادہ زندہ تھا۔ کیا خبر تھی کہ دوسروں میں زندگی بانٹتے بانٹتے اپنی سانسوں کی ساری نقدی لٹا دی۔
میں سکتہ میں رہ گیا۔
مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ ماما جی سے، ممانی سے اور پھر سعود سے تعزیت کروں۔ غم کی اس گھڑی میں کیسے پرسہ دوں گا۔ کسی ماں باپ سے تنویر ایسا خوش خصال لخت جگر چھن جائے اور کسی کا دوست جیسا سگا بھائی ہمیشہ کے لیے جدا ہو جائے تو کیا لفظوں میں تعزیت ممکن ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں کی تعزیت محض ایک دلاسا ہوتا ہے۔ اصل غم تو والدین، بہن بھائیوں کا ہوتا ہے یا اس شریک حیات کا جس کے ساتھ مستقبل کے کئی خواب وابستہ ہوتے ہیں۔
میری طرح خاندان کے سب چھوٹے بڑے ”سعود تنویر“ کے نام ایک ساتھ لیتے تھے۔ دونوں بھائیوں کی عمر میں ایک سال کا فرق تھا اور ہمہ وقت ایک ساتھ ہوتے، شرارتیں کرنے، کھیلنے کودنے سے لے کر بعد ازاں سکول میں داخلہ کے بعد ایک جماعت ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے دونوں کا نام بھی لازم و ملزوم تھا۔ جہاں آتے جاتے، ایک ساتھ نظر آتے۔ لہذا جب بھی ان کا ذکر ہوتا، ایک ساتھ ہوتا۔ سعود اور تنویر نہیں، صرف سعود تنویر یعنی دونوں کے درمیان کوئی فاصلہ کی گنجائش ہی نہ تھی۔
بہت پہلے سکول کالج کے زمانے میں باقاعدگی سے جلال پور ہیر والا جاتا تو کشش کا مرکز نانی اماں کا گھر ہوتا اور وہاں پہنچ کر پہلا استفسار سعود تنویر کے بارے ہوتا۔ وہ عمر میں تو مجھ سے چھوٹے تھے مگر ان میں ایک دوستانہ خلوص اور گرم جوشی پاتا اور یوں گھنٹوں ساتھ گزارتے۔ کئی ہندی فلمیں ساتھ دیکھیں اور کئی اوٹ پٹانگ کھیل کھیلتے تھے۔ جن میں سے ایک ابھی تک یاد ہے، وہ ہے کاغذ پر کرکٹ کھیلنا۔ یہ گیم میں نے اپنے سکول میں کچھ کلاس فیلوز کو فری پیریڈ کے دوران کھیلتے دیکھا اور جب جلال پور پیر والا گیا تو سعود تنویر کو اس کھیل کی مبادیات بتائیں۔ اسی طرح کچھ کچھ یاد آ رہا ہے کہ جب وہ دونوں بالکل چھوٹے تھے تو ان کو کہانیاں بھی سناتا تھا اور اور ان کے گھر جاتے ہوئے جلال پور کی ایک دکان سے نمکین کراری دال (نمکو کی طرح بھنی ہوئی) ان کے لیے لاتا تھا۔ یاد ہے سب ذرا ذرا۔
کوئی مربوط یادیں تو نہیں کہ یکے بعد دیگرے ان کی تفصیل قلم بند کر سکوں ( کاش ایسا ممکن ہو) ۔ جب وہ میٹرک کے بعد کالج پڑھنے ملتان آئے تو تعلیمی ادارے کی قربت کے لیے گلگشت میں رہائش رکھی گئی۔ میں اکثر ان کے گھر چکر لگاتا۔ پھر یہ جانا موقوف ہوتا چلا گیا۔ میں نے پرائیویٹ اداروں میں ٹیچنگ شروع کر دی اور وہ اپنی تعلیم میں مصروف تر ہوتے گئے۔
میں جب 2010 میں انگلینڈ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان آ گیا تو تب تک سعود اور تنویر سے دوستانہ ملاقاتوں میں بہت بڑا وقفہ آ چکا تھا۔ کم و بیش نو ساڑھے نو سال کا وقفہ جس کا سبب کچھ خاندانی اتار چڑھاؤ تھے۔ اب سعود اور تنویر نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خلیج کو پاٹنا شروع کر دیا اور میں عمر میں بڑا ہونے کے باوجود پہل نہیں کر سکا۔ دونوں بھائیوں سے پھر ملاقاتیں روز کا معمول بننے لگیں کیونکہ اس وقت یہ دونوں اکیلے ملتان میں تھے اور ان کے ساتھ ملتان والے گھر میں وقار بھی رہتا تھا اور کبھی کبھار یاسر بھی جلال پور سے ملتان آ جاتا تو وہ بھی رات گئے ملاقاتوں میں شریک ہوتا۔ پھر یکے بعد دیگرے سب ادھر ادھر ہوتے گئے۔ کوئی جلال پور چلا گیا تو کوئی سعودیہ روانہ ہوا، کسی کی شادی ہوئی اور رات کی ملاقات برطرف، مگر تنویر سے ملاقاتوں میں اس لیے رخنہ نہ آ سکا کہ وہ ملازمت اور شادی کے بعد بھی ملتان رہا اور یوں معمول کی ملاقات کبھی مختصر کبھی طویل جاری رہی۔
جب مارچ 2020 میں پاکستان میں کووڈ کی پہلی لہر آئی اور لاک ڈاؤن شروع ہوا۔ ہماری مصروفیات تو معطل ہوئیں مگر تنویر کی مصروفیات بطور ڈاکٹر بڑھ گئیں کہ وہ شہباز شریف ہسپتال ملتان میں ایمرجنسی میڈیکل افسر کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا۔ وبا کے دنوں میں شہر کے مرکز میں واقع ہسپتال میں کام کرنا اپنی جگہ بہت مشکل مرحلہ تھا اور خاص کر ان دنوں میں جب وبا پھیلنے اور اموات کی شرح بھی زیادہ تھی۔ کرونا کا پہلا فیز ہی تھا جب اس کی شادی ہوئی۔ مختصر سی تقریب اب بھی یاد ہے۔ دوسرے دوستوں کی شادیوں کا حتمی نتیجہ یہ نکلا تھا کہ ملاقاتیں ختم ہو گئی تھیں۔ اب میرا گمان تھا کہ تنویر سے بھی اب روزانہ ملاقات کا سلسلہ ختم ہوا۔ شاید کبھی کبھار ملاقات ہو جایا کرے۔ مگر تنویر نے اس بار بھی مجھے غلط ثابت کر دیا۔ اسے کبھی دن، کبھی سہ پہر، کبھی رات کے وقت ایمرجنسی ڈیوٹی کے لیے ہسپتال جانا ہوتا تھا تو جب اسے وقت ملتا، اس کا فون آ جاتا اور کسی دن میں فون کرتا کہ کہاں پر ہیں اور ملاقات ممکن ہے یا نہیں، یوں یہ سلسلہ جاری رہا۔
2010 کے اواخر سے 2023 تک رات گئے اس نشست نے مجھے کبھی تنہا نہیں ہونے دیا۔ بلکہ مجھے تسلی رہتی تھی اور گھر والوں کو کہہ رکھا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا، صحت کا کوئی مسئلہ ہوا تو تنویر موجود ہے نا۔ ہائے! اب یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔ اب بھی جب رات کے ساڑھے نو دس بجتے ہیں تو نگاہ بار بار فون کی طرف اٹھتی ہے کہ اب گھنٹی بجے گی، کوئی میسیج آئے گا۔ ”کیا ہو رہا ہے۔ چائے کا کیا پلان ہے“ ۔ مگر اب کوئی فون نہیں آتا۔ انتظار، لمبی خاموشی اور یادیں کچھ دیر ساتھ دیتی ہیں اور پھر یہ ساتھ بھی ختم ہو جاتا ہے۔
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور


