بھارت کو اپنے دریا دینے کی حماقتوں کی کہانیاں
مسلم لیگی ارباب دانش کی یہ بات درست ہوسکتی ہے کہ قائد اعظمؒ نے اپنے ساتھیوں کو کبھی کھوٹے سکے نہیں کہا، لیکن جس نے بھی منسوب کیا خوب کیا۔ تاریخ کے بے رحم دستاویزات بتاتی ہیں کہ جسےبھی کوئی ذمہ داری ملی اس نے یہ ثابت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی کہ یہ ملک’’ قائدؒ اور ان کے ٹائپ رائیٹر نے بنایا‘‘۔ تقسیم ہند مسلم لیگ کا ایجنڈا تھا، عمل شروع ہونے پر پتہ چلا تیاری کانگریس کی زیادہ تھی۔ حیرت ہوتی ہے ذاتی زندگی میں اپنے مفادات کی خاطرعقل کے اعلیٰ معیار کے فیصلے کرنے والے یہ ارباب قیادت و سیادت قومی فیصلوں کے وقت اتنے بھولے کیسے بن گئے کہ دانت ٹوٹ گئے مگر ان کی ہاتھوں سے دی گئی گرہیں کھلنے میں نہیں آرہیں۔ باؤنڈری کمیشن میں بھیجا گیا وکیل اپنے عہد کا کامیاب وکیل کہا جاتا ہے، اس کے بعد بھی عالمی شہرت کا دعویٰ ہے۔ مگر وہاں اپنے ہی کیس کے خلاف نہ صرف دستاویز جمع کروا دی بلکہ تقسیم کے یونٹ کے معاملہ میں اپنے موکل کے مفاد کے خلاف رائے اختیار کی۔ کشمیر کا قضیہ اس نو مولود ریاست کی گردن میں ایسا فٹ کیا کہ پون صدی اس کی نذر ہوگئی، آئندہ بھی آزادی کا کوئی لمحہ میسر آتا دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری جانب پانی کا مسئلہ بھی اتنی ہی مہارت سے پاکستان پر مسلط کیا گیا کہ مملکت کا خون پانی کے بھاؤ ہوگیا مگر مسئلہ الجھتا ہی چلا گیا۔ دو طرفہ کمیٹیاں تمام منقولہ و غیر منقولہ تقسیم کی ذمہ دار تھیں، اختلاف کی صورت ایک ٹربیونل بنا دیا جس کی مدت31مارچ 1948کو ختم ہونا تھی، بنگال کی تقسیم کمیٹی نے پانی سمیت سب معاملات طے کرلئے مگر پنجاب میں ایسا نہیں ہوا یہاں تقسیم کمیٹی کے کرتا دھرتا سردارشوکت حیات تھے، بھارتی پنجاب سے سردار سورن سنگھ۔ دونوں میں پرانی یاری بھی تھی۔ جوپاکستان کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ کئی حوالوں سے ثابت شدہ ہے کہ کہ سیکریٹیریٹ کے کمیٹی روم میں ایک اجلاس کے بعد ہمارے سردار نے اصلی سردار سے بے تکلفی میں کہا ’’اوئے سردارا تسیں ساڈا پانی تے بند نئیں کردیو گے‘‘۔ سورن سنگھ نے جواب دیا ’’کی کہندے او یارا؛ کدی کوئی بھرانواں دا وی پانی بند کردا اے‘‘۔ سردار شوکت نے پارٹی ہائی کمان کو لکھ بھیجا کہ انہوں نے بھارتی وفد سے پانی پر گارنٹی حاصل کرلی ہے۔ اور جیسے ہی ٹربیونل کی مدت ختم ہوئی اور گھڑی کی سوئیوں نے 31 مارچ کی شب بارہ بجائے، بھارتی حکومت نے تمام ہیڈٖ ورکس بند کرکے نہریں خشک کردیں۔ افسوس کہ کسی نے سردار شوکت کو نہیں پکڑا کہ تمہاری گارنٹی کدھر گئی۔
سندھ طاس کے سلسلہ میں مذاکرات کو دور برس ہا برس چلتا رہا سہروردی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس مسئلہ کو توجہ دی اور سخت موقف اختیار کیا کہ عالمی قوانین کے تحت بھارت پاکستان کا پانی روکنے کا اختیار ہی نہیں رکھتا نہ ہی اسے ایسا کرنے دیا جائے گا۔ عالمی بینک نے فارمولا پیش کیا جس میں بند کیے گئے تین دریاؤں کے ذخیرہ شدہ پانی کا نصف پاکستان کو دینے کی بھی تجویز تھی۔ پاکستان نےمسترد کرکے مذاکرات ختم کرنے کی دھمکی دی۔ ایوب آئے تو نصف ذخیرہ کے بغیر بھی اسی معاہدہ پر دستخط کا حکم جاری کردیا۔ مذاکراتی ٹیم نے پس وپیش کی تو سفیر نے دستخط کردئےاور شاید پڑھنے کی بھی زحمت نہ کی ہو۔ یہ لطیفہ بھی کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ ایوب حکومت نےاس سندھ طاس معاہدہ کے میڈیا میں ذکر پر پابندی لگا دی۔
مذاکراتی وفد کے ایک رکن نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انہی دنوں ایک عالمی سفر کے دوران بھارتی حکومت کے مذاکراتی ٹیم کے پہلے سربراہ اے این کھوسلہ سے آمنا سامنا ہواتو اس نے دور سے ہی چوٹ کرتے ہوئے پنجابی میں کہا ’’اسیں اک دریا منگیا سی تسیں تن ای دے دتے‘‘۔ اس کا پس منظر یہ رہا کہ ابتدا میں بھارت نے صرف ایک دریا کا پانی روکنے کا حق مانگا تھا۔ اور یہی کھوسلہ اس کی درخواست لے کر آئے تھے، پاکستان نے عالمی قوانین حمایت میں انکار پر کھوسلہ نے پیشکش کی کہ بھارت اس ایک دریا پر ذخیرہ کردہ پانی اک نصف پاکستان استعمال کرسکے گا۔ مگر ہم حق چھوڑنے پر آمادہ نہ تھے۔ مغربی طاقتیں درمیان میں آئیں تو تین دریا سرنڈر کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ ب باقی تینوں پر بھی عملاً سرنڈر کا صرف اعلان ہی باقی ہے، کام تو سارا جماعت علی شاہ کرکے جا چکا۔ اعتراض موجودہ حکومت کو بھی نہیں۔ بس اللہ ہی خیر کرے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنگال کمیٹی نے بھارت سے پانی سمیت سب امور طے کرلئے، پنجاب کمیٹی کیوں نہ کر سکی؟ فرق تو صرف اتنا ہی تھا کہ پنجاب میں کمیٹی کے رکن جاگیر دارانہ سیاست کے اس قبیل سے تھے جو چندہ تو مسلم لیگ کو دیتے مگر سیاست کمشنر کی کرتے تھے۔ اور بنگال کمیٹی کے رکن خالص سیاستدان تھے۔


