طالبان کابل پر قبضے کے لیے تیاری کر چکے ہیں

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ 1988 میں جہادی گروپ زیادہ تعداد میں تھے اس لئے خانہ جنگی ہوئی، اس بار دعوے دار صرف طالبان ہیں تو خانہ جنگی کا مکان نہیں، تو یہ تجزیہ لاعلمی پر مشتمل ہے کیونکہ اس بار خانہ جنگی کا خطرہ پہلے سے بھی فزوں تر ہے۔

صرف اپریل 2019 تک کا وقت باقی ہے۔ طالبان ذرائع سے دستیاب معلومات کے مطابق مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام طالبان اپریل کے فوراً بعد کابل پر قبضہ کی جنگ کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں، طالبان جنگی شوریٰ کے ایک اہم رکن نے بتایاہے کہ انہیں اس بات کا پوری طرح سے احساس ہے کہ کابل انہیں لڑے بغیر نہیں ملے گا اس لئے وہ اپنی پوری تیاری کیے ہوئے ہیں۔

کابل کو چہار جانب سے گھیرا جا چکا ہے۔ شہر کے گرد ایک دائرے کی شکل میں 10 مقامات پر بھاری اسلحہ اور افرادی قوت کو جمع کیا جارہا ہے۔ راز داری اور خاموشی کے ساتھ ہونے والی تمام تیاری کا مقصد یہ ہے کہ موسم بہار کے آغاز کے ساتھ ہی طالبان اپنے شیڈول کے مطابق فیصلہ کن جنگ کا آغاز کردیں گے۔

Read more