آن لائن سکولنگ اور خصوصی بچے


کووِڈ کے دوران پہلی مرتبہ ہمیں لاک ڈاؤن اور آن لائن سکولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تجربے نے تدریس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں آگاہی پیدا کی۔ بہت سے آن لائن ریسورسز کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سی نئی تعلیمی ٹیکنالوجی بھی سامنے آئی۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کووڈ کے بعد تدریس کے عمل میں عمومی طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہوا کیونکہ معلمین و متعلمین کی اس پر مہارت اب کہیں بہتر ہو چکی ہے۔

اگر میں خصوصی تعلیم میں آن لائن تدریس کی بات کروں تو کووڈ کے دوران اساتذہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میں کچھ تو انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی نہ ہونے یا والدین میں آگاہی کی کمی جیسے مسائل تھے جن کا سامنا ہر طرح کی آن لائن تدریس میں اساتذہ اور والدین کو کرنا پڑا۔ کچھ ایسے خاص مسائل تھے جو خاص طور پر خصوصی بچوں کی تدریس میں سامنے آئے مثلاٗ آٹسٹک یا ہائپر ایکٹو بچوں کو آن لائن سیشن کے لیے متوجہ اور متحرک کرنا والدین کے لے ایک مشکل کام تھا۔ اسی طرح جن بچوں کو سپیچ تھیراپی یا فزیکل تھیراپی کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے سیشن میں والدین یا بہن بھائی کا شامل ہونا بہت ضروری ہوتا تھا۔ بعض اوقات بہت کوشش کے باوجود تھیراپی پر بہت محدود حد تک ہی کام ہو پاتا تھا۔ کچھ بچے ایسے بھی تھے جن کو زیادہ دیر تک تھیراپی نہ ہونے کی وجہ سے بعد میں سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

سموگ کی وجہ سے جب ہمیں ایک بار پھر آن لائن تدریس کی طرف جانا پڑا تو یہ تمام مسائل پھر سے سامنے آنے لگے۔ بعض والدین کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے، گھر میں سمارٹ فون ایک ہے جو والد ساتھ لے جاتے ہیں یا پھر دیگر بہن بھائی آن لائن کلاس لیتے ہیں اس لیے خصوصی بچے کے سیشن کے لیے وہ میسر نہیں ہوتا۔

کچھ ایسی حکمت عملیاں جو ہمارے معاشرتی حالات میں موثر ہو سکتی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ ان تمام مسائل سے نبٹنے کے لیے پہلا اصول تو یہ بنایا جانا چاہیے کہ والدین کے لیے ایک سے زیادہ آپشنز دیے جائیں تاکہ وہ اپنے حالات اور وسائل کے مطابق ان میں سے کسی کا انتخاب کر سکیں۔ روزانہ آن لائن سیشنر کے علاوہ ویڈیو گائیڈز، اردو میں تحریری ہوم پلان اور فون کال کے ذریعے رہنمائی دی جا سکتی ہے۔ والدین کے لیے اپنے مسائل شیئر کرنے کے لیے دن میں ایک وقت مختص کیا جا سکتا ہے جب وہ ماہرین اور اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرسکیں۔

والدین کے واٹس ایپ پر گروپ بنائے جا سکتے ہیں۔ تمام والدین کی ہمت افزائی کے لیے جو والدین گھر میں بچے کو اچھا کام کروا رہے ہوں ان کی ویڈیو یا تحریری کام دیگر والدین کے ساتھ شیئر کریں اور ہفتے کے اختتام پر بچے اور اس کی فیملی کو ایک ڈیجیٹل سٹار یا بیسٹ فیملی آف دی ویک کا سرٹیفیکیٹ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے دیگر والدین میں تحریک پیدا ہو گی کہ وہ بھی مزید اچھا کام کریں۔ جہان ممکن ہو زوم لنک پر میٹنگز اور سیشنز بھی رکھے جا سکتے ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ والدین، بالخصوص والدہ پر آن لائن سکولنگ کی صورت میں دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔ انہیں کونسلنگ اور ہمت افزائی کی بہت شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ فون پر، واٹس ایپ پر، تحریری پیغام کی صورت میں، کسی بھی طرح ان سے رابطہ میں رہیں۔ انہیں یہ یقین دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ گھر کے دیگر افراد خاص طور پر والد اور بہن بھائی کو اس سیکھنے کے عمل میں شامل کرنے میں والدہ کی مدد کریں تاکہ ان پر سے ذمہ داری کسی حد تک کم کی جا سکے۔

ابھی حال ہی میں ہمیں اپنے ادارے رائزنگ سن میں ایسی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ کچھ بچے جو کہ ایک سے زیادہ یا شدید معذوری کے ساتھ ہیں ان کو تھیراپی کی اور ان کی فیملی کو سکول کے ساتھ کی شدید ضرورت تھی۔ تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اور اپنی ٹیم کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ ہفتے میں ایک دن اساتذہ اور ماہرین کی ٹیم ان کے گھروں میں جا کر تھیراپی اور گائیڈینس دیں گی تاکہ بچے کی ضرورت بھی پوری ہو سکے اور والدین کو بھی کونسلنگ اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔

اگر میں ایک تعلیم اور نفسیات کے طالبعلم کے طور پر سوچوں تو شاید یہ تمام اقدامات بھی کافی نہیں۔ تحقیق کی بنیاد پر ہمیں ایک بہت مربوط اور جامع پروگرام کی ضرورت ہے جو کہ مستقبل میں تمام خصوصی بچوں کے والدین کے لیے رہنمائی کا ایک سسٹم بن سکے۔

اسکے ساتھ ساتھ ایک اور اہم بات کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ سکول کو ہر قدم پر والدین اور فیملی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف استاد یا تعلیمی ادارہ تنہا کچھ نہیں کر سکتا، والدین کی توجہ اور محنت بھی یکساں بلکہ کچھ حالات میں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ بعض اوقات والدین بوجوہ اپنے بچے کے تدریسی عمل میں اُس طرح حصہ نہیں لیتے جیسا کہ انہیں لینا چاہیے۔ ہمیں ایک استاد یا پروفیشنل کے طور پر والدین کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے، ان کی طرف مثبت رویہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ مسلسل کوشش کرتے رہیں تاکہ والدین یا فیملی میں سے کچھ اور ممبرز کو اپنے خصوصی بچے کے تعلیم اور تربیت کے عمل میں شامل کر سکیں۔ اس سے یقیناً زیادہ بہتر اور دیرپا نتائج سامنے آئیں گے۔

آخر میں میں اس بات پر زور دینا چاہوں گی کہ اساتذہ کی ٹریننگ ایک مسلسل عمل ہے اور اس میں حالیہ تقاضوں کے مطابق موضوع شامل کیے جانے چاہیے۔ گزشتہ دنوں میں نے ایک ٹریننگ میں حصہ لیا جس کا موضوع تھا کہ آن لائن تدریس میں طلبہ کو کس طرح سے زیادہ موثر طریقے سے شامل کیا جا سکتا ہے اور یونیورسل ڈیزائن فار لرننگ کے اصول اس سلسلے میں کس طرح رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کرام اور دیگر پروفیشنلز کے لیے اس طرح کی ٹریننگز کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ وہ آن لائن تدریس کے بارے میں زیادہ اچھے سے جان سکیں۔

Facebook Comments HS