زارا قتل کیس۔ کاش یہ آخری نوحہ ہوتا
زارا کا نوحہ اس لیے لکھا گیا کہ یہاں پہ سفاکیت بربریت کا ننگا ناچ حد سے زیادہ ہی بڑھ گیا تھا وگرنہ ہر دوسرے گھر میں کوئی نا کوئی زارا موجود ہے جو یا تو جذباتی طور پہ مر چکی ہے یا مرنے کے مراحل طے کر رہی ہے۔ کیا ہے یہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش وغیرہ کا عظیم خاندانی نظام جس میں خاندان تو مر جاتا ہے بس نظام سڑاند چھوڑنے کو بچا رہتا ہے۔
ایسے ہر گھر میں ایک امی جان ہوتی ہیں جو بہت مقدس ہوتی ہیں۔ شادی کی رات دلہا صاحب گھونگھٹ اٹھاتے ہی امی کا بہت خیال رکھنا ہے کا درس دلہن کو ایسے دیتے ہیں جیسے وہ امی جان نہیں کوئی دودھ پیتی ننھی منی بچی ہوں جن کا خیال رکھنا عمر میں ان سے آدھی عورت پہ فرض کر دیا گیا ہے۔ کمال یہ ہے کہ اس فرض کی ادائیگی کا کوئی بوجھ امی جان کے اپنے پیدا کیے ہوئے بیٹے بیٹیوں پہ نہیں ہوتا کہ بیٹے تو کمانے والے ہوتے ہیں اور بیٹیاں پرایا دھن۔ تو ہر فرض لے دے کر اس ایک عورت پہ آن پڑتا ہے جو بہو کہلاتی ہے۔ طاقت اور اختیار کی یہ مہا بھارت کچھ سال میں شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی پلڑا کسی خوش شکل بیٹے پیدا کرنے والی زارا کا بھاری ہو جاتا ہے تو کہیں امی جان فتح کا جشن مناتے نظر آتی ہیں۔
اس سارے قصے میں نقصان کس کا زیادہ ہوتا ہے۔ اس اولاد کا جو کبھی بیٹے کی خواہش میں دھڑا دھڑ نازل ہونے والی ان چاہی بیٹیوں کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی نام نہاد خاندان کے وارث جو گھر میں ہونے والی مار پیٹ چیخ و پکار کو اتنا نارملائز کر لیتے ہیں کہ نوے فیصد خود بھی یہی کچھ جاری و ساری رکھتے ہیں۔
یہ مسائل آج سے پہلے بھی تھے کل بھی رہیں گے شاید لیکن بات کرنا اس لیے ضروری ہے کہ بدلے ہوئے وقت کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ اب وہ وقت نہیں رہا جہاں ایک کماتا اور دس کھاتے تھے۔ پچھلے چار پانچ سال میں مہنگائی کا تناسب جتنی تیزی سے بڑھا ہے آمدنی میں ویسا اضافہ کیا دیہات کیا شہر کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا۔ بجلی کے بلوں پہ سگے بھائیوں کے گلے کاٹ دینے والے واقعات سے آپ واقف ہی ہوں گے۔
بدلتے وقت کا تقاضا ہے کہ عورت اور مرد دونوں زندگی کا بوجھ بانٹنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ نا تو ماں بیٹیوں کو یہ آس دلائے کہ ان کے جہیز جوڑنے اور گھر بسانے کا دردِ سر بھائی کا ہے نا ہی بیوی شوہر کی کمائی کے آسرے ہی بیٹھی رہے۔ ہر عورت کے ہاتھ میں ایسا ہنر ہونا چاہیے جس سے وہ اپنا گزارا کرنے کے قابل ہو۔ اس ہنر کا تعلق ہرگز چار جماعتوں کے پڑھ جانے سے نہیں ہے۔ یہ ہنر کھانا پکانا بھی ہو سکتا ہے۔ سویٹر بننا اور کئی کام ہیں جو گھر میں رہ کر کیے جا سکتے ہیں۔ بیکار رہنا اور چھ آٹھ عورتوں کی ضرورتوں کا بوجھ ایک مرد پہ ڈال دینا خود غرضی کی انتہا ہے۔
دوسری ایک جہالت جو آج کے زمانے میں بھی جاری و ساری ہے وہ ہے جوائنٹ فیملی سسٹم۔ اس نظام میں یا تو خوش قسمتی سے ابا جی نے چار پیسے جوڑ کر اپنا گھر بنا لیا ہوتا ہے اور کثرتِ اولاد کی برکات سے پانچ چھ بیٹے خود بچے پہ بچہ جن رہے ہوتے ہیں لیکن بضد ہوتے ہیں کہ رہنا ابا جی کے گھر ہی ہے کیونکہ بچوں کی دیکھ بھال سے بھی جان چھٹی رہتی ہے اور خرچہ بھی کم ہوتا ہے۔ اسی بدنیتی میں آبادی بڑھائے جاتے ہیں اور بیوی نفسیاتی اور جسمانی مریض بنتی جاتی ہے۔ کم کمانے والے بھائی کی اولاد باقیوں کے رحم و کرم پہ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے نظام میں نسل در نسل پرورش پانے والے مارکس پیدا ہونے سے تو رہے وہ شدت پسند ہی بن سکتے ہیں۔
جہالت اور شدت پسندی کے تانے بانے سے بنے اس معاشرے میں زارا کا قتل پہلا تو نہیں تھا لیکن دعا گو ہوں آخری ہو۔ وہ ماں باپ جو بچی کو بیاہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ جان چھٹی۔ مار کھائے لیکن گھر بسائے۔ وہ ماں باپ بھی اتنے ہی قصور وار ہیں جتنے کہ سسرال والے اور شوہر۔ اگر شادی شدہ بیٹا ماں باپ کے ساتھ رہ سکتا ہے تو وہ بیٹی بوجھ کیوں بن جاتی ہے جس کی شادی کسی بھی وجہ سے نہیں چل پا رہی ہوتی۔ کیا اس کی لاش کا بوجھ اس کے زندہ وجود سے بھی بھاری ہو جاتا ہے؟

