شرمگاہ کی کہانی
میرے ماں باپ جغرافیائی اہمیت کی حامل ایک وادی میں، گاؤں والوں کی مرضی سے مل جُل کر دُکھی رہتے تھے۔ میرے خوش شکل ماں باپ کے سر ایک ہی سائز اور شکل کے تھے گویا کسی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔ وادی میں تفریح کے مواقع بہت کم تھے اور جو تھے وہ بہت مہنگے تھے۔ اس لیے انہوں نے ایک کھلونا گھر لانے کا سوچا۔ لہذا جب میں اس دنیا میں لائی گئی تو میں بہت خوبصورت تھی اور میرے پیارے پیارے دو پنکھ تھے۔ ان پروں سے میں پورے گھر میں اڑتی پھرتی، قہقہے لگاتی، قلقاریاں مارتیں۔ میری ماں مجھے دیکھ کر بہت خوش ہو جاتی اور جب مجھے دیکھ کر ہنستی تو ان کے دانت جگمگاتے اور رخسار دمکنے لگتے۔
مگر جب میں بڑی ہوئی تو میرا باپ بہت پریشان ہوا۔ انہیں ڈر لگا کہ ایک دن میں اڑتے اڑتے کہیں آسمان نہ چھو لوں، اُن کی دسترس سے باہر نہ نکل جاؤں۔ اس لیے انہوں نے ایک دن میرے پر َ چپکے سے کاٹ دیے۔ میری ماں سوچا کرتی تھی کہ وہ نہیں اُڑ سکی تو کیا ہوا، میری اڑان اس کو نہال کر دے گی۔ اپنا سپنا بکھرتا دیکھ کر میری ماں نے غم سے آنگن میں لگے سارے پودے جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور پھر دھیرے دھیرے صبر کا لبادہ اوڑھ لیا۔ میں بھی بے بسی سے بہت تڑپی۔ بار بار اڑنے کے لیے زور لگایا مگر سب بے سود۔
پھر میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی۔ میں ماں کے گرد دوڑتی پھرتی۔ ماں پھر چمکنے دمکنے لگی۔ کبھی کبھی میں انہیں ناچ کر بھی دکھاتی۔ جب میں رقص کرتی تو وہ خوب کھلکھلاتیں، اتنا کہ ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں۔ مگر یک دم کسی درد انگیز یاد کا سایہ ان کے چہرے کو تاریک کر جاتا اور وہ سہم کر مجھے رقص کرنے سے روک دیتیں۔
” تم ناچ نہیں سکتیں، زور سے ہنس بھی نہیں سکتیں، تیز تیز بھاگ بھی نہیں سکتیں، تم شرمگاہ ہو، تمہارے یہ اعمال زلزلے لاتے ہیں، قیامت آ سکتی ہے۔“ مگر ماں کے ڈراوے مجھے سمجھ نہیں آتے، مجھے ڈر سمجھ ہی نہیں آتا۔ مجھے لگتا کہ وہ مجھ سے جلتی ہیں کیونکہ ان کے پر نہیں تھے۔
میں بھاگتی رہی، دوڑتی رہی، ناچتی رہی۔ میں خود مختار ہونے لگی۔ میری اپنی پسندیدہ جگہوں تک میری رسائی ہونے لگی۔ میرے مضبوط اور پراعتماد قدموں سے میرا باپ پھر ڈر گیا کہ کہیں میرے قدموں کی دھمک زمین پر لرزہ نہ طاری کر دے، اس لیے ایک دن میرے باپ نے میرے پاؤں کاٹ دیے۔ میری ماں نے غم و غصے میں میرے باپ کے سارے جوتے جلا دیے اور سات دن کھانا بھی نہیں بنایا۔
میرے ہاتھ سلامت تھے۔ میں تصاویر بنانے لگیں۔ شوخ رنگ تصاویر۔ میری امی کی آنکھیں انہیں دیکھ کر چمکنے لگتیں، ان کے چہرے پر سکون ہلکورے لینے لگتا مگر پھر انہیں کوئی خیال لرزا دیتا اور وہ میری تصویریں چھپا دیتیں۔ لیکن پھر میری تصاویر میرے باپ کے ہاتھ لگ گئیں۔ وہ ڈر گئے کہ کہیں میں اپنی دنیا میں اپنی مرضی کے رنگ نہ بھر لوں، اور ایک دن انہوں نے میری انگلیاں کاٹ ڈالیں۔ میری امی انگلیوں سے محروم میرے ہاتھ چوم کر بے بسی سے بہت روئیں، اور طیش میں میرے باپ سے انتقام لینا بھی چھوڑ دیا۔
میرے پاس زبان تھی۔ میں نے نغمے گانے شروع کر دیے۔ میرے رسیلے نغمے سُننے کے لیے شاندار پرندے گھر کی منڈیر آ بیٹھتے اور میری ماں کے ساتھ مل کر میرے مسحور کن گیت سنتے۔ کبھی کبھی کسی خیال سے ماں کی بوڑھی آنکھوں میں خوف کے تاریک سائے لہرانے لگتے۔ وہ مجھے نم آنکھوں سے اشارہ کرتیں کہ میں اپنی زبان بند رکھوں۔ مگر میں خاموش نہیں ہوتی۔ میرا باپ ڈر گیا کہ کہیں میرے نغمے رسوائیوں کا سبب نہ بن جائیں اور اس نے میری زبان کاٹ دی۔ میری ماں سسکیاں لے لے کر بہت روئی، گُم صم ہوئی اور ایک دن باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے بے خیالی میں اپنی اوڑھنی میں آگ لگا بیٹھیں اور خوشی خوشی جل کر مر گئیں۔ گھر میں ہر سمت گہرا سناٹا چھا گیا۔ میرا باپ جب بھی گھر میں داخل ہوتا تو خاموشی کے شدید شور سے بچنے کے لیے کانوں میں ائر پلگ لگا لیتے۔
میرے پاس آنکھیں تھیں۔ میں نے آنکھوں میں خوبصورت خواب سجانے شروع کر دیے۔ میرے باپ نے مجھ سے نظریں چرانے کی بہت کوشش کی مگر میری خوابوں سے معمور نگاہیں اُن کا پیچھا کرتیں۔ وہ خوف زدہ ہو گئے، اُن سے بھاگ کر بھاگ تھک گئے۔ انہیں لگا کہ کہیں میرے اونچے خواب ان کی دنیا درہم برہم نہ کر دیں اور ایک دن انہوں نے میری آنکھیں بھی نکال دیں۔ آخری نظارہ جو میں نے دیکھا وہ اُن کی آنکھوں کی خوفناک تاریکی تھی، اپنے اندر سب کچھ نگل جانے والی تاریکی۔
اب مجھ سے کچھ نہیں چھینا جا سکتا، اس خیال سے میرے رگ و پے میں ایک لطیف احساس سرایت کرنے لگا۔ خوف اور درد سے آزادی کا احساس۔ ستم کی حد اور ستمگر کی بے بسی کا فرحت بخش احساس۔ میرے ذہن میں قہقہے سر اٹھا ہی رہے تھے کہ مجھے دردناک سسکیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ میرے باپ نے کہا، ”مجھے معاف کر دینا۔“ اس کے بعد اُن کی سسکیاں پھنکاروں میں بدلیں اور کوئی کیڑا میرے سیدھے کان کے اندر رینگتا ہوا، کھوپڑی کے اندر اترنے لگا۔ اب اُس کی اذیت ناک سرسراہٹ میرے سر میں دھماکے کر رہی ہے، وہ میرے دماغ کے نرم نرم گوشت میں ڈنک مار رہا ہے، دماغ کو نوچ نوچ کے کھا رہا ہے۔ اُس کا ہر ڈنک میرے رگ و پے میں آگ بھر رہا ہے، ہر نیا ڈنک میری دنیا دھندلا رہا ہے، میرا وجود آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہا ہے، اب مجھے بس آخری ڈنک کا انتظار کرنا ہے۔



شاید لکھاری کو خود بھی علم نہیں کہ عام زبان میں شرمگاہ کے کیا معنی ہوتے ہیں !
برائے مہربانی پنی ایبنارمل سوچ کو معاشرے میں پھیلانے سے گریز کریں
یہ ایک افسانہ ہے اور اس کا شمار اچھی کوشش میں ہوگا۔ ہر لکھنے والے کو اپنا تخیل یا تحریر (اگر وہ حدود و قیود میں رہتے لکھی جائے) دوسروں سے شیئر کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ یہ افسانہ میں نے پہلے دن ہی پڑھ لیا تھا۔ مگر جب اس نے دس بیس ھزار ریڈرشپ لی تو احساس ہوا کہ قصور لکھاری کا نہیں ۔ ہم پڑھنے والوں کا ہے جو click bait کے اس دور میں بس عنوان دیکھ کر دوڑ پڑتے ہیں۔