کہ جس کو چھو لیا جائے اسے پوجا نہیں کرتے
تخیل کی پرواز لا محدود نہیں ہوتی، انسان اپنے ماحول، مہیا وسائل اور علم کے دائرے میں جی رہا ہے۔ تخیل کی پرواز ان سب کے بڑھنے سے بڑھتی ہے۔ ہم گاؤں میں زندگی گزار رہے تھے۔ لائبریری جیسی عیاشی تو کجا ہمارے سکول کی عمارت ہی کوئی نہیں تھی۔ کمرہ نہیں، کلاس روم نہیں تو باقی دنیا سے مقابلے کی سوچ کہاں سے پیدا ہوتی! اپنے ماحول سے بیزاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ بیزاری موازنے سے پیدا ہوتی ہے اور موازنے کے لئے علم کا ہونا ضروری ہے۔
اردو سے محبت کب ہوئی ٹھیک سے یاد نہیں۔ میں ایک ”سٹوری ریڈر“ تھا۔ پھٹے پرانے ڈائجسٹ حاصل کرتا اور کچھ دوستوں کو جمع کر کے ٹیوب ویل پر مطالعاتی نشست جما لیتا۔ اونچی آواز میں کہانی پڑھتا جاتا اور باقی ہمہ تن گوش سنتے رہتے۔ ہماری پسندیدہ کہانی لڑکپن میں وہ تھی کہ جب حالات سے اکتا کر گاؤں کا ایک لڑکا شہر چلا جاتا ہے۔ وہاں وہ ایک بنگلے میں بطور ڈرائیور رکھ لیا جاتا ہے۔ اس کی ڈیوٹی سیٹھ کی اکلوتی بیٹی کو کالج چھوڑنے اور لانے کی تھی۔ سی ایس ایس اور پی ایم ایس پتہ نہیں کہاں تھے، ان دنوں ہماری ڈریم جاب یہی ہوا کرتی تھی۔ انہی دنوں فرحت عباس شاہ نامی شاعر میرے ایک جاننے والے کا پسندیدہ تھا۔ ظفر وال کی ایک دکان جہاں سے ڈائجسٹ کرائے پر ملتے تھے اسی دکان سے میں نے معلوم کیا کہ کیا آپ کے پاس فرحت عباس شاہ نامی شاعر کی ”شام کے بعد“ کتاب ہے۔ اس نے لا علمی کا اظہار کیا۔ نارووال شہر جا کر میں نے تلاش کی مگر یہ کتاب نہیں ملی۔ جب حاصل نہ ہوئی اور جس کو طلب تھی میں اس کی پسند کو اہمیت دیتا تھا تو بالواسطہ میں بھی فرحت کا فین ہو گیا۔
” جو نہیں ہے خوبصورت ہے“
برسوں بعد لاہور میں فرحت عباس شاہ سے ملاقات ہوئی تو مجھے وہ دن یاد آئے کہ جب میں ان کے شعری مجموعے کی تلاش میں مارا مارا پھرا کرتا تھا۔
ہر دور اور عمر میں سکول، کالج، یونیورسٹی اور بعد ازاں کام کی جگہ پر آپ کو ”لو گورو“ ملتے ہیں۔ ایسے ہی ایک گورو نے ایک بار کہا تھا کہ جس سے محبت ہو اس سے شادی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایسا نقصان ہے جس کا عمر بھر فائدہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر اگر آپ لکھاری ہیں تو سمجھ لیں لاٹری لگ گئی۔ تقسیم ہند نے لکھاریوں کو لا تعداد موضوعات دیے اسی طرح ٹوٹے دلوں نے بھی لٹریچر کی کوکھ قیمتی کتابوں سے بھر دی۔
خلیل الرحمن قمر میرے پسندیدہ ڈرامہ رائٹر ہیں۔ ایک زمانے میں ان سے ملنے کی بھی خواہش رہی۔ اور کئی سال پہلے جب ان سے ملاقات ہوئی تو پہلے پہل اچھا لگا۔ فرحت عباس شاہ کے بعد ان سے مل کر ذہن میں نجانے کیوں خیال آیا کہ جن کے آپ فین ہوں ان سے ملنا نہیں چاہیے۔ ان کے بارے میں بہت زیادہ جاننا نہیں چاہیے۔ یہ سوچ اپنی جگہ مگر میں مستنصر حسین تارڑ اور بھارتی شاعر و ادیب گلزار سے ملے بغیر اس دنیا سے جانا نہیں چاہتا تھا۔ تارڑ صاحب کو مختلف سیمینارز میں دیکھا، بانو قدسیہ کے جنازے پر دیکھا مگر وہ مواقع مناسب نہ تھے۔ سفر نامہ نگار دوست اعجاز مہاروی صاحب کے توسط سے بالآخر ایک روز میں اپنے پسندیدہ لکھاری مستنصر حسین تارڑ کے گھر میں بیٹھا تھا۔ یہ وہ ملاقات تھی کہ شاید زندگی میں اب کسی اور سے مل کر ایسی کیفیت طاری نہ ہو۔ اپنی عمر کے سالوں جتنی کتابیں، ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار کتاب دینے والا لکھاری میرے سامنے بیٹھا تھا، زبان گنگ ہو چکی تھی۔ ملاقات کے پہلے تیس منٹ میں خاموش رہا، تارڑ صاحب نے دو بار کہا ”سلہری صاحب تسی وی کج بولو“ ۔ لیکن میں کیا بولتا۔ مجھے یقین کرنے میں ہی وقت لگ گیا کہ ”پیار کا پہلا شہر“ سے لے کر ”قربت مرگ میں محبت“ کا لکھاری میرے سامنے موجود تھا۔ ”راکھ“ اور ”بہاؤ“ جیسے شاہکار جن انگلیوں نے لکھے تھے وہ میرے سامنے سگریٹ سلگا رہی تھیں۔ اپنی ساری زندگی کا خلاصہ کروں تو یہ ان چند ملاقاتوں میں سے ہے کہ جن پر مجھے ناز ہے۔ تارڑ صاحب کی کتاب خریدوں تو ایسے پڑھتا ہوں جیسے بچپن میں ہم قلفی کھایا کرتے تھے۔ ندیدوں کی طرح۔ آہستہ آہستہ، چوس چوس کر کہ کہیں جلدی ختم نہ ہو جائے۔ اور جب ختم ہو جاتی تو گویا مسرت و شادمانی کا ایک دن تمام ہوتا۔ تارڑ صاحب کے جملوں کے ذریعے میں نے ملکوں ملکوں سیر کی۔ مشاہدہ کیسے کیا جاتا ہے یہ ان سے جانا۔ تحریر کو روایت کی قید سے نکال کر کیسے لفظوں کے ساتھ باسکٹ بال کھیلنی ہے، یہ گر سیکھنے ہوں تو تارڑ صاحب کو پڑھئے۔
ایک ملاقات کے بعد میں نے دل پر پتھر رکھ لیا۔ پہلے میری سوچ تھی اب عقیدہ ہے کہ جن کے آپ فین ہوں ان سے زیادہ میل جول مت بڑھائیں۔
محبت بندگی ہے، اس میں تن کا کرب مت مانگو
کہ جس کو چھو لیا جائے اسے پوجا نہیں کرتے



کیا شان دار خیال ہے
محبت بندگی ہے اس میں تن کا قرب مت مانگو
کہ جس کو چھو لیا جائے، اسے پوجا نہیں کرتے
لکھاری بھی اسلامی نظریاتی کونسل کا علامہ راغب بن گیا ٹائپنگ کی غلطی کچھ کا کچھ کردیتی ہے۔
میرے ناقص علم کے مطابق "تن کا کرب” نہیں بلکہ "تن کا قرب” ہے