جمہوری اور آمرانہ ترامیم کا جھانسا!


محترمی و مکرمی وجاہت مسعود صاحب نے آمرانہ ترامیم کا کچھ یوں تذکرہ فرمایا:

” پاکستان کا سیاست دان 1973 ء کا دستور مرتب کرتا ہے تو ہم 1985 ء کی آٹھویں ترمیم کا جال بچھاتے ہیں۔ چودہ برس کی محنت سے گاڑی سیدھے راستے پر مڑتی ہے تو 2003 ء کی سترہویں آئینی ترمیم مسلط کی جاتی ہے۔ فروری 1999 ء میں بھارتی وزیراعظم لاہور میں کھڑے ہو کر پاکستان تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو کارگل ہو جاتا ہے۔ سیاست دان میثاق جمہوریت کرتے ہیں تو محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا جاتا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم لاتے ہیں تو میموگیٹ کا ہانکا کیا جاتا ہے۔ 21 اکتوبر 2024 ء کو منظور ہونے والی آئینی ترمیم 1996 ء کے الجہاد ٹرسٹ فیصلے اور 2011 ء کی 19 ویں آئینی ترمیم کا جمہوری جواب ہے۔“

آئیے ان نام نہاد ترامیم کی گنتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جمہوری و آمرانہ کا کیا جھانسا ہے :

1973 میں سیاستدان دستور مرتب کر کے اس میں خود ہی ”سات“ جمہوری ترامیم فرماتا ہے اور پھر 1985 میں ”آٹھویں“ آمرانہ ترمیم کا شور اٹھتا ہے۔ پھر چودہ برس کی محنتِ شاقہ سے لیڈران اسی آئین میں مزید ”آٹھ“ جمہوری ترامیم فرماتے ہیں۔ تو 2003 میں ایک بار پھر ”سترہویں“ آمرانہ ترمیم گھسیڑ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد پھر جمہوری ترامیم کا ایک سیلابِ بیکراں ہے جو ”اٹھارہویں“ سے شروع ہو کر ”چھبیسویں“ تک پہنچا ہے اور امیدِ واثق ہے کہ ابھی ؎

عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

اس آئین کی جتنی دھجیاں ان ”سیاہ۔ ست۔ دانوں“ نے بکھیری ہیں، آمر تو مفت میں بدنام ہیں۔ موم کی نام کی طرح ہر کوئی اسے اپنے فائدے کے لئے موڑے جا رہا ہے۔ عدلیہ نے تو اس قانون کی ایسی ایسی تشریحات دریافت بلکہ ایجاد کی ہیں، جن کا آئین و قانون سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں، بابا رحمتا یاد آ گئے

کیا خوب فرما گئے
”قانون وہ ہو گا جو تشریح ہم کریں گے“ ۔
یعنی آج اگر لال ہے تو کل یہ پیلا اور پرسوں نیلا ہو سکتا ہے۔ کیسے کیسے نابغے ہمیں عطا ہوئے۔

باجوہ کی محبت میں کھوسہ صاحب ”ایکس۔ ٹینشن“ کا ایک نیا قانون ایجاد فرما گئے، جس میں تمام پارٹیوں (سوائے جماعت اسلامی کے) نے با جماعت کھڑے ہو کر باجوائی محبت کا اقرار دل و جان سے کیا اور اس قانون کو پاس کرنے کے بعد انتہائی عجلت میں ”ایکس۔ ٹینشن“ عطا فرما دی، جلد بازی ایسی کہ صدر کی جگہ وزیرِ اعظم نے اس مُحبتی ”ایکس۔ ٹینشن“ والا آرڈر جاری کر ڈالا۔ اور وہ ایکس وزیرِ اعظم جو ڈھول پیٹ پیٹ کر شور و غوغا مچایا کرتا تھا کہ میں کسی ایسے فیصلے اور قانون کے خلاف ہوں، ایسا خاموش ہوا کہ دھڑکنوں کی صدا بھی نہ سنائی دے۔ انہی عجلتوں نے ہمیں یہ دن دکھلائے ہیں، ماضی قریب کی بات نہیں کر رہا، ماضی بعید کا واقعہ ہے جب ایک آرمی چیف کو اسی طرح عجلت میں ایک ”چِٹ“ پر ایکس۔ ٹینشن عطا کی گئی اور پھر چل سو چل ہے آج تلک ہمارے وہی چالے ہیں اور نرالے ہیں۔

ان ترامیم و تشریحات نے آئینِ پاکستان کے ایسے بخیے اُدھیڑے ہیں کہ رفو کرتے کرتے عمریں بیت جائیں۔ ہر کوئی اپنا اُلو سیدھا کرنے میں لگا ہے، ملک و قوم جائیں بھاڑ میں۔ آج تک جتنی ترامیم و تشریحات ہوئیں، کسی کا فائدہ اس ملک کے لئے یا عوام کے لئے؟ بالکل نہیں!

فائدہ اٹھاتے ہیں، لیڈران، جج، جرنیل، بیوروکریٹس اور اشرافیہ بلکہ مافیا۔ عوام تو ”آوے ای آوے، جاوے ای جاوے“ تک محدود ہے۔ ان سب لغویات کا عوام اور ملکِ پاکستان سے کچھ لینا دینا نہیں، ترامیم کریں، تشریحات کریں، غریب کو تو بس روزی روٹی کی فکر ہے۔ جو کہ اس سے چھینی جا رہی ہے بلکہ چھینی جا چکی ہے۔

Facebook Comments HS