من آنم کہ من دانم
سب سے پہلے مجھے زبان و ادب کی خدمت پر قومی سطح پر مامور ادارہ فروغ قومی زبان کے سربراہ ان کے معاونین کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے زبان و ادب کے ایک طالب علم کے ساتھ مکالمہ کی اس نشست کا اہتمام کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس عزت افزائی کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ میں نے اپنی زندگی کی ترجیحات مرتب کرتے ہوئے اُردو زبان اور ادب کو سب سے اوپر رکھا اور شاید ہی کوئی ایسا لمحہ گزرا ہو گا کہ مجھے ان ترجیحات کی ترتیب قائم رکھنے کے لیے اُس جنون کا ہاتھ سختی سے تھام کر نہ رکھنا پڑا ہو جس کی جنم گھٹی میرے حلقوم میں ٹپکا دی گئی تھی۔ یہ جنون مجھے کھینچ گھسیٹ کر آگے چلنے والا بھی رہا اور میرے اندر رچ بس بھی گیا۔ شاہ تراب علی قلندر نے کہا تھا :
سوہی چنریا رنگ دے موکا او رنگریج رنگیلے یار
تو یوں ہے کہ میری سچی طلب نے مجھے اندر باہر سے اس علمی و ادبی فضا کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ ورنہ آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر کیسے پڑ سکتی تھی جس نے ضلع اٹک کی قدیم ترین مگر مرکز کے نسیان میں پڑی ہوئی تحصیل کے ہیڈ کوارٹر پنڈی گھیب میں پونے اڑسٹھ سال پہلے ایک ایسے خانوادے میں جنم لیا تھا جس کے سربراہ مطالعے کے رسیا تو تھے مگر اس بڑے سمیت خاندان کا کوئی فرد ادیب نہ تھا۔ میرے والد محترم سیاسی سماجی کارکن تھے ؛ مذہب، ملک اور اپنی تہذیبی اقدار سے وابستہ ؛ اور اسی سبب اپنے علاقے کے معززین میں شمار ہوتے تھے مگر اس دائرے سے باہر کوئی پہچان نہ رکھتے تھے۔ میں نے ہارٹیکلچر یعنی بقول سید ضمیر جعفری بستانیت کی تعلیم پائی تھی اور رزق کمانے کو بینک میں ہندسوں سے کھیلتے صبح سے شام کرتا رہا تھا۔ یہ طلسم تو اس تخلیقیت کے سوتے کا ہے جو میرے اندر سے پھوٹا اور مجھ پر قسمت یوں مہربان ہوئی کہ مجھے ادیبوں اور لفظ سے محبت کرنے والوں کی محفل کی آخری صف میں بیٹھنے کو جگہ مل گئی۔ اور وہ بھی وہاں، کہ پہلی صف والوں کی نظر میں آ گیا ہوں اور محبت سے دیکھا جانے لگا ہوں۔
چار، ساڑھے چار دہائیوں پر مشتمل اپنے ادبی سفر میں مجھے جتنی محبتیں ملی ہیں اور میری کج مج تحریروں کو جتنے پہلوؤں سے لائق توجہ گردانا گیا اور ان پر تواتر سے لکھا گیا ہے ایسا بخت تو کسی کسی کا مقدر ہوتا ہے۔ آج سے اکتالیس بیالیس سال پہلے جب، فیصل آباد میں طالب علمی کے زمانے میں لکھی گئی میری پہلی کتاب ”پیکر جمیل“ شائع ہوئی تھی تو میرے والد صاحب بستر مرگ پر تھے۔ ان کی علالت کو گیارہ برس ہو چلے تھے۔ اکہتر میں پاکستان ٹوٹنے کی المناک خبر نے انہیں توڑ دیا تھا۔ دماغ کے اندر کوئی رگ رسنے لگی تھی اور وہ بستر سے جا لگے تھے۔ میں نے جب اپنی پہلی کتاب، جس کا انتساب انہی کے نام تھا، ان کی آنکھوں کے سامنے کی تھی تو ان کے ہونٹ کچھ کہنے کو پھڑپھڑائے تھے اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔ خدا نے انہیں صرف پچپن سال کی عمر میں ہم سے عین اُس وقت چھین لیا تھا جب میں اُن سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ شاید وہ بھی مجھ سے بہت سی باتیں کرنا چاہتے ہوں گے۔ مگر آخری کے بیس اکیس روز ہم چپ چاپ اندر ہی اندر آنسو پھینکنے اور ایک دوسرے سے کچھ نہ کہنے پر مجبور تھے۔ میرے حلقوم میں دُکھ نے رخنے ڈال دیے تھے جب کہ اُن کی زبان پر بھی فالج کا حملہ ہوا تھا؛وہ کچھ بولنا چاہتے تو اُن کے ہونٹ کپکپا کر رہ جاتے اور آنکھیں بولنے لگتی تھی۔ میری کہانیوں میں موت کا بار بار اپنا چہرہ دکھانا اور حزن کے پانیوں کا ایک کیفیت ہو کر تسلسل میں بہے چلے جانا ناقدین نے بھی آنکا ہے۔ اس کا سبب شاید یہ ہو کہ میں اپنے بھائی بہنوں میں کچھ زیادہ ہی حساس تھا، مجھے خوشیاں لمحوں کا کھیل لگنے لگی تھیں، بالکل پانی کی سطح پر تیرتے اس آدھے بلبلے جیسی ؛جو کچھ رنگ اچھال کر پھوٹ جاتا ہے۔ آسائشوں کے لیے ہلکان ہونا نہ جانے کب سے میرے لیے زندگی کی توہین کے مترادف ہو گیا تھا اور برداشت کی گئی اذیتیں، دکھ اور درد میرے وجود میں تہہ بہ تہہ جگہ بنانے لگے تھے یوں، جیسے ہماری پیڑھی کی مائیں ایک موسم گزرنے پر جستی پیٹوں میں لحاف تہہ بہ تہہ سینت کر رکھتی تھیں کہ پھر سے، ویسے ہی تلخ موسم نے آ لینا تھا اور یہ پیٹیاں فینائل کی گولیوں کی بساند کے ساتھ کھل جانی تھیں۔ تو یوں ہے کہ میرے ان دُکھوں کو نہ کیڑا لگتا تھا نہ یہ ”مرن جوگے“ مرتے تھے۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے میرے ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ کو پڑھ کر کہا تھا ”دُکھ شاید سب کچھ سکھا دیتا ہے“ ۔
میں نے اپنی زندگی کے تجربے سے سیکھا کہ آدمی کا وجود اس ٹین کے بکسے جیسا نہیں ہوتا جسے باہر سے زنگار کھاتا رہتا ہے ؛ اگر یہ مَحض مادی وجود ہوتا تو اس میں وہ روح کیوں کر سماتی جو وجود کے مختلف مراتب قائم کرتی ہے ؛ ان مراتب وجود سے کنی کاٹ کر زندگی گزارنا تو گویا حیوانی سطح پر زندگی کرنا ہوا۔ سکاٹش فلاسفر جون میک مرے کی زبان میں یہ مشینی اخلاق کی غلطی ہے کہ انسان کو مادی جسم سمجھا جائے اور معاشرتی اخلاق کا دھوکا کہ اسے نامیاتی وجود کہہ ڈالیں۔ میں اگر لکھتا رہا ہوں تو یوں نہیں ہے کہ ایسا میرا شوق تھا اور مجھے ادیب کہلوانا تھا بلکہ یہ میرے وجود کی تاہنگ رہی ہے کہ اس گتھی کو سلجھاؤں اور اس گرہ کو کھول پاؤں جو اندر کہیں پڑی ہوئی ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے اِنسانی جسم ایک سانچے اور شکنجے جیسا ہے اور انسانی فطرت اس سانچے کی قید کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔ وہ اس قید خانے سے باہر جست لگاتی ہے۔ مَحض ایک بار نہیں، اس اسیری سے رہائی کی جدوجہد اور بے قراری مسلسل ہے اور اسی کیفیت کے اندر رہ کر مجھ پر تخلیقی لپک کے بھید کھلنے لگتے ہیں۔
یہیں، میں وہی بات یہاں دہرانا چاہتا ہوں جو اپنی خود نوشت ”خوشبو کی دیوار کے پیچھے“ میں بھی ایک مقام پر کہہ رکھی ہے یہی کہ جوں جوں عمر بڑھتی گئی ہے میں یہ راز بھی پا گیا ہوں کہ میری جنگ میرے اپنے ساتھ ہے۔ میں کسی اور سے گتھم گتھا نہیں اپنے خیالات اور اپنے نظریات کے ساتھ ہوں۔ یہ جنگ میرے اپنے وجود کے ساتھ بھی رہی کہ میں اِسے گیلی چکنی مٹی کی طرح گوندھتا رہا۔ شاید یہ بات میں نادرست کہہ گیا ہوں ؛ جب میں اپنے وجود سے الگ کچھ نہیں تو میرا اسے گوندھ کر ایک صورت دے لینا کیوں کر ممکن ہو سکتا تھا؟ میرا وجود تو کہیں اور سے گوندھا جا رہا تھا؛ وہاں سے جہاں میرا بس نہیں چلتا تھا۔ مجھے دوچار ممالک گھومنے کا اور لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ایسے ایسے لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا کہ انہوں نے میرے خیالات کو بلو کر رکھ دیا تھا؛ یوں، جیسے چاٹی میں دہی بلوتے ہیں۔ میں نے حکومتوں کو بنتے ٹوٹتے دیکھا۔ سیاست دانوں اور مذہبی پیشواؤں کے چہروں سے نقاب الٹتے دیکھے۔ میں نے اپنے ساتھ کے لوگوں کو پچھڑتے دیکھا اور جانا تھا کہ سب کچھ ناپائیدار ہے۔ سب سے زیادہ ناپائیدار اور کھوکھلا تو میں خود تھا۔ ساری عمر آگ میں مٹی کے پکے ہوئے کوزے کی طرح کھن کھن بولتا رہا۔ اس کوزے کی طرح جسے بالآخر ٹوٹ جانا تھا۔ یہ ناپائیداری مجھ میں تھی اور میری فکریات میں بھی اور مجھے اعتراف ہے کہ یہی وہ علاقہ ہے جس پر مجھے بہت گھمنڈ رہا تھا۔ میرے تجربے میں وہ دُنیا آتی چلی گئی جو تنوعات اور حیرتوں سے بھری ہوئی ہے اور جس زندگی کا تجربہ اور مشاہدہ مجھے ہو رہا تھا وہ امکانات کا دوسرا نام تھی۔ اب میرے لیے زندگی شکست یا فتح کا نام نہیں رہا تھا۔ کوئی مجھ سے آگے نکل رہا تھا یا میرے تعاقب میں تھا اس سے کیا فرق پڑنا تھا۔ جب میں کسی سے مقابلے میں تھا ہی نہیں تو کوئی مجھ سے مقابلہ کر رہا ہوتا تو میں نے اُس سے کنی کاٹ کر ایک طرف ہو رہنے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔ میں نے دیکھا تھا کہ لکھنے والوں میں ایک مسابقت کا سلسلہ چل نکلتا تھا جو مخاصمت پر منتج ہوتا۔ میرے ہاں بھی یہ منفی جذبہ رہا تھا مگر میں نے بڑے جتنوں کے بعد اسے اپنے وجود سے بے دخل کر دیا ہے۔ اس میں کچھ تاخیر ہوئی مگر یہ کام ہو گیا۔
میں جان گیا تھا کہ ادب کا تخلیقی علاقہ ہر ایک کے پاس اپنا ہوتا تھا۔ اپنا اور بس ہر تخلیق کار سے خاص۔ اور جانا کہ لکھنے والوں کا مقدر ایک سا نظر آ سکتا ہے مگر مختلف ہوتا ہے۔ کاغذ پر اُترتے ہی سب کا اپنا اسلوب بنتا ہے اور ہر ایک کی تحریر سے اس کی اپنی جمالیات کا دھارا پھوٹتا ہے۔ تخلیق عمل کی بارگاہ ہے ہی ایسی۔ یہاں سب کو اکیلا ہو جانا ہوتا ہے۔ یہ وہ میدان نہیں جہان جھنڈی لہرانے والے، سیٹی بجا کر جیت کا اعلان کرنے والے اور جھنڈ کے جھنڈ تالیاں بجانے والے ایستادہ ہوں۔ یہاں آگے نہیں نکلنا ہوتا پہلو بہ پہلو چلنا ہوتا ہے، مقبول ہونا نہیں الگ ہو جانا ہوتا ہے۔ میں الگ پڑا اپنے کام میں جتا رہا۔ میں نے دوسروں کی تکریم کو اپنے اوپر لازم کر لیا تو میرا دِل غنی ہو گیا اور اسی کے طفیل میں اپنی زندگی جینے لگا۔ مان لیجیے ہر کوئی اپنی زندگی جیتا ہے۔ وہ، جو ایسا نہیں چاہتا اس کا مقدر بھی یہی ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ہر کوئی اپنی زندگی کے تجربات کا قیدی ہوتا ہے۔ ہماری زندگی کا دائرہ ہی ایسا پنجرہ ہے جس سے آخری سانس تک رہائی ممکن نہیں ہے۔ جب ہر تخلیق کار کی زندگی ہی مختلف ہے تو وہ کسی دوسرے لکھنے والے جیسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر مسابقت کیسی؟
جب میں نے اپنی زندگی کی چادر میں اپنا وجود سمیٹ لیا تو بہت جلد اُس بچے جیسا ہو گیا تھا جو اپنے نئے کھلونوں کو حیرت سے دیکھتا اور تجسس سے اُلٹتا پلٹتا ہے۔ اس حیرت اور تجسس اچھالنے والے کھلونے کا مقام میرے اپنے اندر وہاں کہیں ہے جہاں دیگر کاٹھ کباڑ کے ساتھ آئینہ جہاں نما دھرا ہے۔ ایک ادیب کی حیثیت سے مجھے یہی رویہ عزیز تر ہو گیا ہے ؛ اُس جواب سے کہیں زیادہ عزیز، جو کسی بھی دانشور کے ہاں زندگی کی معنویت کے باب میں ہو سکتا ہے۔
آخر میں ایک بار پھر آپ احباب کا شکریہ کہ آپ سب میری عزت افزائی کو اس محفل کا حصہ ہیں اور آپ نے توجہ سے مجھے سنا۔
(ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد سلیم مظہر اور ڈاکٹر راشد حمید کے شروع کیے گئے پروگرام ”مکالمہ“ کے سلسلے کی پانچویں نشست میں پیش کی گئی گزارشات)




