7 برصغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور: قسط


”سر مجھے آپ کا ہاتھ دیکھنا ہے۔ وقت آپ نے بتانا ہے کہ کب آپ کے پاس آؤں؟“
انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے پر اعتماد لہجے میں کہا۔
”سر میں بہت اچھا ہاتھ دیکھتی ہوں۔ حسینہ واجد کا ہاتھ بھی میں نے دیکھا ہے۔ میرے پاس اس کے ہاتھ کے پرنٹ بھی ہیں۔ اُس وقت میرے تن پر آبی رنگی ٹنگائل کی خوبصورت ساڑھی تھی۔ شانوں پر گھنے سیاہ بال لہراتے تھے۔ سانولی رنگت کے ساتھ میں مکمل طور پر ایک بنگالی لڑکی نظر آتی تھی۔ میرے ہیڈ سر نے مسکراتے ہوئے پہلے مجھے اور پھر انہیں دیکھا اور میرا تعارف ویسٹ پاکستانی سٹوڈنٹ کی حیثیت سے کروایا۔ یونیورسٹی لیول کے اساتذہ اور سٹوڈنٹس کے درمیان ہونے والی لطیف سی چھیڑ چھاڑ اور جملہ بازی والے ماحول کے درمیان بالآخر میں نے انہیں رضامند کر ہی لیا۔

ہاتھ دیکھنے، پرنٹ لینے اور اس کے نتائج کو ایک طرف کیجیئے کہ اِس خوبصورت سلسلے سے اس کا تعلق بس اتنا سا ہے کہ اِن ملاقاتوں کے بعد میں نے انہیں اخبار خواتین کے لئے انٹرویو بھی کر لیا۔ انٹرویو میں ایک صاحب علم شخصیت میرے سامنے آئی تھی۔ جنہوں نے ٹیگور کی شاعری کے کئی اور نمایاں پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پہلی چیز شاعری کا بے ساختہ پن ہے۔ آنکھ سے نکلنے والے کِسی بے اختیار و بے تاب آنسو کی طرح، ہونٹوں پر اپنے آپ ہی بکھر جانے والی کِسی مسکراہٹ کی طرح۔ ٹیگور کی شاعری، ان کے گیت، سریلے اور نغمہ بار ہیں، اپنے آپ میں مکمل، ان کی شخصیت کے عکاس، فکر و نظر میں آزاد۔

ٹیگور کی ذات مذہب، فرقہ بندی، قوم و ملت کی بندشوں کو توڑتی ہے۔ انسان کو انسان سے جوڑنے کی ترغیب دیتی ہے کہ ٹیگور نے انسان میں انسانیت کے خدا کو دیکھا ہے۔ اسی لیے وہ اس کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ ذرا غور کرو شاعر کے اِس انداز پر۔

جب میں روشنی کی سنہری باتیں سنتا ہوں
میں محسوس کرتا ہوں
آسمانی فضا کا دل محبت سے بھر گیا ہے
تب میں اس جہان کے ہر ذرّے میں
آگہی اور عرفان کا پیغام محسوس کرتا ہوں
جب گیت کے اندر سے میں دنیا کو دیکھتا ہوں
تب میں اُسے پہچانتا ہوں
تب اُسے سمجھتا ہوں

ان کے یہاں کوئی مخصوص نظریہ یا نمایاں فلسفہ حیات نہیں ملتا۔ مذہباً ٹیگور کا تعلق برہمو سماج سے تھا۔ یہ فرقہ صرف بنگال میں ہے۔ بنگال کی بیشتر عظیم ادبی و سیاسی شخصیات کا تعلق اسی طبقے سے تھا۔ برہمو سماج صرف وحدانیت خداوندی کا قائل ہے۔ ٹیگور کی فنکارانہ زندگی کے تحت الشعور میں یہ تصور ہمیشہ قائم رہا کہ اُن کا مرکز مسرت بس تخلیق ہی ہے۔ وہ ہر ممکن طریقے سے اسی کا اظہار کریں۔

ایک بار اُنہوں نے کہا کہ میں اُن سب لوگوں سے جو مجھے مسند پر بٹھانا چاہتے ہیں کہتا ہوں کہ مجھے نیچے زمین پر ہی بیٹھنے دیں۔ وہ جو کھیل کے قواعد و ضوابط طے کرتا ہے اُس نے میرے لئے کوئی بڑا مدّبرانہ سا کردار نہیں چنا۔ میری زندگی کا رس جو قدرت نے مجھے بخشا ہے وہ اسی مٹی، اسی دھرتی اور اسی گھاس پر ہی نچڑنا چاہیے۔ وہ سب لوگ وہ جو دھرتی پر پہلا قدم اٹھاتے ہیں اور پھر اسی کی گود میں چلے جاتے ہیں۔ میں اُن کا دوست ہوں۔ میں شاعر ہوں۔ میں کوی ہوں۔

اُن کے ہاں مسائل حیات کے تعمیری پہلو، تہذیب نفس، کردار کی پاکیزگی، حق گوئی و بیباکی کے لئے ایک دائمی پکار ملتی ہے۔ اس کے لئے وہ اپنے ساتھیوں کو آواز دیتے ہیں۔ کوئی نہیں ملتا تو کہتے ہیں۔

جب تیری پکار پر کوئی نہ تیرا ساتھ دے
تنہا ہی چل تو اکیلا ہی چل

گیتا انجلی زیادہ زیر بحث رہی۔ بہت زیادہ پڑھی گئی۔ انگریزی ترجمے نے دنیا میں گھما دی۔ نوبل انعام یافتہ ٹھہری۔ کوئی شک نہیں کہ وہ ایک شاہکار ہے۔ مگر میرے نزدیک ”بلا کا“ اس سے بھی بڑا مجموعہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ گیتا انجلی کے نیچے دب سی گئی اور یوں اُبھر کر سامنے نہ آئی جیسے اُسے آنا چاہیے تھا۔

یہ شعری مجموعہ محبت، انسان، خدا اور انسانیت کے گرد گھومتا ہے۔ ٹیگور نے اِس خواہش کا اظہار کیا کہ وشنومت کو وشنو اور برہما کو برہمنوں کے چنگل سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ مسیحیت کو سمجھو۔ اسلام کا مطالعہ کرو۔ محبت لافانی ہے جو خدا اور بندے کے درمیان ہونی چاہیے۔

شبنم سے بھیگا ہوا صبح کا یہ منظر کیسا حسین ہے
درخت سورج کی کرنوں میں جھلملا سے رہے ہیں
اسی لئے میں سمجھتا ہوں
یہ دنیا عالم خیال کے بے کراں سمندر
کی موجوں پر ناچتا ہوا ایک کنول ہے
میں سمجھتا ہوں
میں اسی کا پیغام ہوں
میں اس کے گیت کی تان ہوں
میں زندگی میں روح زندگی ہوں
میں ظلمت کے سینے کو چاک کر کے نکلنے والے اُسی
رقصاں نور کی درخشاں کرن ہوں

میرے لئے یہ امر بھی کچھ تعجب انگیز سا تھا کہ ابو سعید چوہدری اقبال، حافظ اور مولانا رومی سے بھی بڑے متاثر تھے۔ اقبال کو ٹیگور کے پلّے کا شاعر مانتے تھے۔ ان کی گفتگو میں دو تین بار ٹیگور کا اِن تین بڑی شخصیات کے ساتھ موازنہ بھی سامنے آیا۔ ٹیگور کے عاشق الیکس آرونسن کے بارے میں باتوں نے میرے اوپر فکر و آگہی کے نئے دروازے کھولے۔ آرونسن ایک بے چین، مضطرب، علم کی پیاسی روح، تلاش حق کے لئے بھٹکتی کبھی جرمنی کبھی فرانس، ٹیگور کے ناول Home and the world سے متاثر شانتی نکیتن آ پہنچی تھی جہاں انہوں نے انگریزی ادب پڑھانا شروع کیا تھا۔ یہاں آرونسن کی ایک تحریر ٹیگور کی شخصیت کے ایک اور پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری ملاقات جب بھی ٹیگور سے ہوتی۔ مجمع میں یا تنہائی میں، وہ باتیں کر رہے ہوں یا خاموش ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بنیادی طور پر وہ ایک تنہا آدمی ہیں جو اپنے خیالوں میں غرق رہتا ہے۔ گیتوں کو گانے والا۔ خوابوں کا بننے والا۔ وہ مجمع کے لئے کوئی پیغام رساں نہیں ہے۔ جس کی آس میں مجمع اکٹھا ہوتا تھا۔

کیسا شاعر تھا جسے رکشہ چلانے والا اور پتھر کوٹنے والا اگر گاتا تھا تو وہیں حکمرانوں کی آنکھوں کا بھی تارا تھا۔ دلّی کی سیاحت کے دوران اندرا گاندھی میموریل کو دیکھنے گئی تو ان کی سٹڈی میں جو نظم موجود تھی وہ ٹیگور کی ہی تھی۔

جہاں ذہن میں ڈر اور خوف نہ ہو
جہاں انسان سربلند ہو کر جئیے
جہاں علم کا حصول ہر خاص و عام کے لئے ہو
جہاں یہ ہماری دنیا ٹکڑوں میں بٹ کر تقسیم نہ ہو
٭٭٭

Facebook Comments HS