ایک اور زینب: دادی صفائی کر لوں گی مگر سکول نہیں جاؤں گی
اکتیس اکتوبر کا سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ایک دفعہ پھر اُن تمام معصوم بچوں کی یاد تازہ کر گیا جن کے ساتھ درندگی اور بدفعلی کی گئی تھی۔ یہ واقعہ ایک اور بابا کی پری، ماں کی راج دلاری کا ہے، جس کو ایک بے حس، بے ضمیر 23 سالہ جانور سے بھی بدتر شخص نے ایک چھ سالہ بچی کو اپنی ہوس کا شکار بنایا اور پتا نہیں اس سے پہلے وہ کتنی ننھی معصوم کلیوں کے باغ کو اُجاڑ چکا ہو گا۔
یاد رہے! ہماری پاک سر زمین، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 2023 کی ایک رپوٹ (ساحل) کے مطابق ہر دو گھنٹے میں ایک بچہ چائلڈ ابیوزنگ کا شکار ہوتا ہے، اور 2024 کے پہلے چھ ماہ میں 1,630 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ہر واقع ہی دل دہلا دینے والا ہے، پر زینب کیس آج بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ افسوس ہر ڈیڑھ دو گھنٹے بعد اس طرح کی درندگیوں کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔
پہلی زینب اور دوسری زینب میں فرق یہ ہے کہ ہماری پہلی زینب لاہور کے ضلع قصور کے ایک گاؤں میں ایک بھیڑیے کا شکار ہوئی تھی۔ اور ہماری دوسری زینب، چھ سالہ "م” کے روپ میں شہر کے اندر دن دیہاڑے لاہور کے ایک علاقے فیصل ٹاؤن میں اسی بچی کے سکول کے ایک ورکر، گارڈ حسن علی کے اُس وقت ہتھے چڑھ گئی جب سکول میں بچوں کی بریک جاری تھی۔
وہ اس معصوم کو بہانے سے سکول کے گرد ہی چالاکی سے ایک پوشیدہ جگہ پر لے گیا، اور اس کی آواز کو اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر بند کر دیا اور زبردستی بدفعلی کرتا رہا، جب بچی کی حالت غیر ہو گئی تو اس کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر، بچی کو کلاس میں یہ کہہ کر چھوڑ آیا کہ ٹیچر یہ بچی باہر رہ گئی تھی۔ چھ سالہ "م” جس کی زخمی حالت یہ بتا رہی تھی کہ اس کے ساتھ بہت غلط ہوا ہے اس کے کپڑوں پر لگے خون کے دھبے نشاندہی کر رہے تھے کہ کوئی بہت بڑی انہونی ہوئی ہے۔ بقول "م” کے، کلاس ٹیچر کو بتایا تھا کہ مجھے درد ہو رہا ہے مگر ٹیچر نے کوئی خاص توجہ نہ دی بلکہ کلاس میں ہی بٹھائے رکھا اور گھر پر اور نہ کسی اور ایمرجنسی نمبر پر کال کی۔ کلاس ٹیچر ناواقف رہی کہ بچی کس کرب سے گزر رہی ہے، وہ بس اُسے نظرانداز کرتی رہی۔ سکول سے چھٹی ہونے پر جب "م” کی والدہ اُسے گھر واپس لائی تو اس کی ماں کا کہنا ہے کہ میری بچی گھبرائی ہوئی تھی، اور اُسے بخار سا محسوس ہو رہا تھا، پر اُس وقت تک مجھے نہیں پتا تھا کہ میری دُنیا اجڑ چکی ہے، میری عزت محفوظ نہیں رہی، اور آج کا دن میرے لئے قیامت سے کم نہیں ہے۔
چھ سالہ "م” جب واپس اپنے گھر پہنچی تو اس کی ماں نے یونیفارم بدلتے وقت دیکھا کہ میری بچی کے کپڑے خون سے خراب ہیں؟ گھر میں موجود دو بزرگ خواتین، "م” کی دادی اور "م” کے والد کی خالہ نے جب اس چھ سالہ بچی کی حالت کو دیکھا تو فوراً بھانپ لیا کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ گھر میں کہرام مچ گیا، وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کبھی ایسا ہو گا۔ ماں اس ظلم کا پہاڑ ٹوٹنے پر زار و قطار رونے لگی اور اسی غم میں "م” کی والدہ اور اس کے والد کی خالہ بچی کو لے کر فوراً سکول واپس پہنچ گئیں اور ان کو "م” کی حالت سے آگاہ کیا لیکن سکول ٹیچر، پرنسپل، انتظامیہ بضد تھے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، بچی کو کلاس میں بینچ لگا ہو گا، کسی ڈیسک سے ٹھوکر لگ گئی ہو گی۔ جب ماں نہیں مانی تو، اس دوران کلاس ٹیچر "م” کی ماں کے ساتھ قریبی کلینک پر گئی تو کلینک والوں نے کہا کہ بچی کو فوراً جناح ہسپتال لے جائیں، مگر ماں بچی کو لے کر فوراً واپس سکول آ گئی۔ مجرم نے بچی کو اس قدر ڈرایا ہوا تھا کہ اگر تم نے کسی کو بتایا تو میں تمہیں تمہارے گھر آ کر جان سے مار دوں گا جس کی وجہ سے بچی اتنی زیادہ خوفزدہ تھی کے مجرم کے سامنے آنے پر بھی اس کی نشاندہی کرنے سے ڈر رہی تھی۔
خیر دیکھتے ہی دیکھتے گلی محلے کے لوگ بھی سکول پہنچ گے۔ اور بچی کو پیار سے سمجھانے اور یقین دلانے پر اس نے ڈرتے ڈرتے اس حیوان کے طرف اپنی انگلی اٹھائی، جس کے بعد لوگوں نے اسے فوراً پکڑ لیا اور ہیلپ لائن کے ذریعہ سے بلائی گئی پولیس مجرم کو پکڑ کر لے گئی، بقول متاثرہ خاندان کے، پولیس بچی کے میڈیکل معائنہ کروانے میں روایتی غفلت کا مظاہرہ کرتی رہی۔ لیکن جب اہل علاقہ کا ایک ہجوم تھانے کے باہر جمع ہوا تب خاندان کے پر زور اسرار پر بچی کو شام کے وقت میڈیکل کے لئے ہسپتال لے جایا گیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کب تک ہم ایسے دل دہلا دینے والے واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہیں گے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر خبر تھی کہ ایک نجی کالج کے بیسمنٹ میں ایک طالبہ سے زیادتی کی گئی ہے، جس واقع کو بعد میں حکومتی انکوائری کے مطابق جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اس واقع کی آواز سوشل میڈیا بنا اور ایک بھرپور تحریک چلی۔
افسوس! نہ تو اس چھ سالہ "م” کا کیس جھوٹا ہے اور نہ ہی بے بنیاد اور اس کیس میں گرفتار مجرم نے اپنا جرم بھی قبول کر لیا ہے کہ اسی نے زیادتی کی ہے۔ میڈیکل رپورٹ سے بھی زیادتی ثابت ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہے کہ مجرم گرفتار ہو چکا ہے اور اگر مجرم کو سزا مل بھی جاتی ہے، تو کیا اس خاندان کو پوری طرح تسلی مل پائے گی۔ متاثرہ خاندان جس کیفیت سے گزر رہا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ کس قدر ذہنی اور جذباتی درد کو برداشت کر رہا ہے۔ روز مرنے اور روز جینے کی حالت میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیٹی ہے، لوگ باتیں کرتے ہیں۔ اس کہ علاوہ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ایک خوف کی سی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں کوئی تحفظ نہیں۔ رات کو نیند نہیں آتی جیسے ابھی کوئی آ جائے مارنے کہ لیے۔
اتنا بڑا سانحہ ہوا ہے لیکن حکومتی سطح پر خاموشی چھائی ہوئی ہے، گھر والوں کا کہنا تھا کہ ہم غریب لوگ ہیں اس لیے ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ کوئی ہماری آواز نہیں بنا۔ افسوس اس بات کا ہے کے جرم ثابت ہو گیا لیکن پھر بھی سکول انتظامیہ اپنے گارڈ کو بچانے میں مصروف عمل ہیں۔ شرم آنی چاہیے، یہ ایک ایجوکیشنل ادارہ ہے لیکن ابھی تک کسی نے سکول سے آ کر یہ نہیں پوچھا کہ آپ کی بیٹی کس حالت میں ہے۔ اور نہ ہی سرکاری سطح پر ہماری آواز کو اُس طرح لیا گیا ہے، جس طرح باقی کیسوں کو لیا گیا، شاید اس لئے کہ ہم غریب ہیں، کمزور ہیں اور پھر مسیحی ہیں۔
اس متاثرہ بچی کی صرف دو ہی بہنیں ہیں ایک پانچ سال کی اور دوسری ایک سال کی۔ بچی کا والد اور والدہ غریب خاندان سے ہیں، دن رات کام کر کے، یعنی دو نوکریاں کر کے وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ یہ دونوں میاں بیوی صفائی کا کام کرتے ہیں۔ لیکن بچی کی ماں جو پہلے اپنے میاں کے ساتھ صفائی کا کام کرتی تھی، پر اس نے اپنا کام "م” کیلے چھوڑ دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو اپنی نگرانی میں خود گھر سے سکول اور سکول سے گھر لایا کرے گی۔ وہ کہتی ہے کہ سکول چھوڑنے کہ بعد میں بالکل بے فکر ہو جاتی تھی، سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ سکول میں بھی ایسا واقع ہو سکتا ہے۔ "م” کی ماں کے نزدیک وہ سکول کو سب سے زیادہ محفوظ جگہ تصور کرتی تھی، پر افسوس اب اس کا اس بات پر سے بھی بھروسا اُٹھ گیا ہے۔
حکومت کو عملی طور پر اس مسئلے کو بڑے پیمانے پر دیکھنا ہو گا، جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سخت سے سخت سزا دینے کی ضرورت ہے۔ ان والدین کو جو اپنے بچوں یا پیاروں کی رپورٹ کرتے ہیں ان کو تحفظ اور ریاستی سطح پر ان کی ایسی حوصلہ افزائی کی جائے کے وہ شرمندگی میں زندگی بسر نہ کرتے رہیں۔
ایجوکیشنل سسٹم میں مزید ریفارم لانے کی ضرورت ہے، تعلیمی نصاب میں چائلڈ ابیوزنگ کے حوالہ سے مواد آسان لفظوں میں ڈالنا ہو گا۔ ٹی وی چینلز پر ہر زبان میں چائلڈ ابیوزنگ کہ حوالہ سے اشتہار دینے کی ضرورت ہے پبلک میسج کے طور پر۔ چائیلڈ ابیوزنگ کے خلاف بطور معاشرہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ہمیں بھی کھل کر سامنے آنا ہو گا۔ ہم اپنے بچوں کو گھروں میں خاندانی طور پر چائلڈ ابیوزنگ کے بارے میں بتائیں۔ دوستانہ انداز میں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے متعلق بچوں کو آگاہ کریں۔ سکول کالجز، یونیورسٹیز میں اور گراس روٹ لیول پر پسماندہ علاقوں میں احتیاطی تدابیر اپنانے پر چائلڈ ابیوزنگ کے خلاف مہم شروع کی جائے۔ لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے درندے، بھیڑیے اور ذہنی مریض جو ہمارے اپنے ہی خاندانوں میں اور ہمارے اردگرد ہمارے اپنے ہی بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لئے تاک لگائے بیٹھے ہیں ان کو تلاش کریں، ان سے بچیں اور احتیاط سے ان کی نشاندہی کریں۔
میں سمجھتا ہوں کہ "م” کے ماں باپ نے اپنی بچی کہ ساتھ ہونے والے ظلم، زیادتی اور بدفعلی کے خلاف صرف آواز بلند نہیں کی بلکہ ان ماں باپ کی آواز بھی بنے ہیں جن کے پیاروں، معصوموں کے ساتھ اسی طرح کی زیادتی کی گئی تھی جس طرح "م” کہ ساتھ ہوئی ہے۔ پر وہ معاشرے کے دباؤ یا کسی وجہ سے خاموش رہے، ان کا نام ظاہر نہ کرسکے۔ ہمیں خود ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہے، چائلڈ ابیوزنگ کے خلاف معاشرتی شرم سے باہر آنا ہے۔ متاثرہ والدین کا خاموش رہنا، اس طرح کے بھیڑیوں کو مزید طاقتور بناتا ہے۔
یاد رہے! چھ سالہ "م” کی ماں اپنی بیٹیوں کو اس لیے پڑھانا چاہتی ہے کہ اس کی بیٹیاں بھی پڑھ لکھ کر کوئی بڑی افسر بنیں، "م” ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اور جس طرح یہ دونوں ماں باپ خود صفائی کرتے ہیں ان کی بیٹیاں لوگوں کے گھروں کا کوڑا نہ اٹھائیں وہ اپنے ماں باپ کی طرح صفائی کرنے والی نہ ہوں۔ لیکن اس واقعے کے بعد "م” کی دوسری چھوٹی پانچ سالہ بہن، "م” کی تکلیف کو دیکھ کر گہرے صدمہ میں چلی گئی اور اس قدر خوفزدہ ہو گئی کہ اپنی دادی سے کہتی ہے کہ ’دادی میں صفائی کرلوں گی پر سکول نہیں جاؤں گی۔‘


