وی پی این سے الحاد تک
مذہب کا مقصد ویسے تو انسانی معاشرے کو بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب، سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق دلانا تھا، لیکن ہر دور میں مذہب کی غلط تشریحات اور اسے سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے موجود رہے۔ مذہب چونکہ انسان کا بہت ہی حساس پہلو تھا لہذا موجودہ و سابقہ میکاولیوں نے اسے اپنے مفادات و عزائم حاصل کرنے کا ایک ٹول بنا دیا، اور عام آدمی کو یہ باور کروایا کہ ان پہ آنے والی مصیبتیں ان کے گناہوں کا نتیجہ ہیں، انھیں توبہ و استغفار کرنا چاہیے، ساتھ ہی انھیں زندگی میں ہونے والے استحصال کو قبولیت بخشنے کے لیے یہ میٹھی گولی دی کہ آخرت کی زندگی بہت حسین اور راحتوں بھری ہے، میں بطور مسلمان آخرت پہ کامل یقین رکھتا ہوں لیکن سورہ بقرہ آیت نمبر 201 میں آنے والی اُس دعا (ربنا اتنا فی الدنیا حسنہ۔ ) کا کیا جس میں اللہ سے آخرت سے پہلے دنیا کی بھلائی مانگی گئی؟ یہ دنیا کی بھلائی کیا ہے؟ میرے نزدیک تو دنیا کی بھلائی یہی ہے کہ تمام انسانوں کو بلا تفریق رنگ، نسل مذہب، سیاسی طور پہ امن نصیب ہو، معاشی خوشحال ہو بھوک مسلط نہ ہو، اور سماجی طور پہ وہ کسی ایسی طبقاتیت کا شکار نہ ہوں کہ اس کے اوپر کا سردار چودھری، وڈیرا، خان، ملک وغیرہ اس کا استحصال کرے اور اسے اپنے سے کم درجے کا انسان سمجھے۔
اگر عام آدمی کو اس یوٹوپیا اور من گھڑت عظمت کی کہانیوں سے نکال دیا جائے، اس کے سامنے ایک حقیقی و سانس لیتی زندگی ہو، تو وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرے گا، اور یہی مطالبہ ہی اس ظالم نظام کا سب سے بڑا خوف ہے، اسی خوف سے ماضی میں کئی خیالی سیاسی نظریات و تحریکات گھڑی گئیں، ان تحریکات کا مقصد توجہ ہٹانا تھا، تاکہ عام آدمی کبھی بھی مخمصے سے نہ نکل سکے۔
مذہب کے سامراجی استعمال کو سمجھنے کے لیے تاریخ میں بہت دور جانے کی ضرورت نہیں، صرف وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ دیکھ لیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ مذہب کیسے اس نظام کی آلہ کار اشرافیہ کا ایک پر اثر ٹول رہا، اس ٹول سے کیسے اور کب کب اشرافیہ نے کیا مقاصد حاصل کیے، وہ بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔
1977 میں پی این اے کے نام سے اپوزیشن نے ایک تحریک چلائی جو بنیادی طور پہ الیکشن دھاندلی کے خلاف تھی، لیکن اس میں شامل حضرات نے اس کا رسوخ بڑھانے اور وزن ڈالنے کے لیے اسے تحریکِ نظامِ مصطفیٰ کا نام دے دیا، اس تحریک کے اکابرین کی عجلت و عاقبت نا اندیشی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ نظامِ مصطفیٰ کی اس تحریک میں کئی لیفٹ ونگ کے سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں موجود تھیں۔ جنھیں سرے سے علم ہی نہیں تھا کہ نظامِ مصطفیٰ ہے کیا چیز؟
اسی طرح جب 1979 کی سرد جنگ کے دوران امریکہ کو روس کا راستہ روکنے کے ضرورت پیشہ آئی تو ہم نے سعودی عرب کی مدد سے مجاہدین کی فیکٹریاں لگائیں، ہم نے سوشلزم و کیپٹلزم کی اس جنگ کو مذہب کا چولا پہنا کر، جہاد کا نام دے کر مدح سرائی کی، ان فیکٹریوں سے تیار ہونے والی پراڈکٹ آج تک خطے کا امن تباہ کر رہی ہے، اور اس جنگ کا ایندھن بنا عام آدمی! ساتھ ہی مالِ غنیمت کے طور پہ ملی کلاشنکوف اور ہیروئن۔ اگر کوئی اس بات پہ چیں بہ بجیں ہو تو وہ 22 مارچ 2018 میں واشنگٹن پوسٹ کو دیا محمد بن سلمان کا انٹرویو پڑھ لے، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔
آپ نے مرحوم و حیات خادم رضویوں (حیات اس لیے کے میرے نزدیک خادم رضوی ایک استعارہ ہیں، ان کی روح کبھی، زید زمان حامد میں حلول کر جاتی ہے، کبھی اوریا مقبول جان میں تو کبھی شہیر حیدر ملک سیالوی میں ) کی زبان سے کئی مرتبہ یہ جملہ سنا ہو گا کہ ”ہم دہلی کے لال قلعہ پر اسلام کا پرچم لہرائیں گے، ہم کشمیر فتح کریں گے، ہم اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔“ اور آگے بیٹھے نوجوانوں نے کبھی یہ تک نہیں پوچھا کہ لال قلعہ پر اسلام کا پرچم لہرانے سے پہلے اپنے ہی ملک میں کتے کے کاٹنے سے مرنے والے لوگوں کا علاج ہی کیوں نہ کرا لیا جائے؟
دراصل پین اسلامک کا یہ افیون صرف اس لیے دیا جاتا ہے کہ قومی سوچ پیدا نہ ہو، قوم اپنی حالت سدھارنے کے بجائے کشمیر و فلسطین پہ لگی رہے۔ اور قومی وسائل پہ سامراج ہاتھ صاف کرتا رہے، مجھے علم ہے کہ کچھ دوست اس بات پہ یہ اعتراض اٹھائیں گے کہ فلسطین و کشمیر کے مظلوموں کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے، لیکن کیا رسول اللہ ﷺ نے پہلے قیصرِ روم و کسریٰ شاہ فارس کو فتح کیا یا مدینہ و مکہ کو امن اور سلامتی دی؟
مذہب کو بطور سیاسی ٹول استعمال کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، یہ ایسی ترکیب ہے جو بے شعور و جذباتی عوام پہ سال کے بارہ مہینے کارگر ہے، پچھلے دنوں اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک فتویٰ دیا کہ وی پی این حرام ہے، جس کی ذرائع ابلاغ میں خوب تشہیر ہوئی کیونکہ موجودہ طور پہ اشرافیہ کی منشا یہی ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کم سے کم ہو، اس فتویٰ پہ مجھے اتنا سا اعتراض ہے کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل کے مفتیانِ کرام ایک فتویٰ اس بارے بھی عنایت کریں گے کہ ”اظہارِ رائے کی آزادی سلب کرنا حرام ہے یا حلال؟“
اسی طرح کل سے ایک کلپ دیکھ رہا ہوں جس میں ایک شیخ الاسلام یہ فرما رہے ہیں کہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری حضرت عمر فاروق کے نقشِ قدم پہ گامزن ہیں، کیونکہ حضرت عمر فاروق غرباء کی پرسش کے لیے راتوں کو چکر لگاتے تھے اور کامران خان ٹیسوری بھی ویسے ہی کر رہے ہیں۔
یہ مذہب کی تعلیمات نہیں، مذہب نے کبھی ظالم کو گلوریفائی نہیں کیا، یہ مفاداتی تشریح ہے، اسی رویے کی وجہ سے آج نوجوان اذہان پراگندہ و خلفشاری کا شکار ہیں،
آج آپ کے اردگرد پھیلتے الحاد کی وجہ مذہب کی سامراجی و مفاداتی تشریحات ہیں، جنھوں نے نوجوان کو مذہب بیزار کر دیا ہے۔ آج کا نوجوان جب اس طرح کی تشریحات کو دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ مذہب تو کوئی ایسی چیز ہے جو انسان کو ترقی پذیر رکھنا چاہتی ہے، اس کے پاس انسانی سوسائٹی کے مسائل کا کوئی حل ہی نہیں۔ لہذا ہمارے مذہبی طبقے کو اس ظالم نظام کا آلہ کار بننے سے انکار کرنا ہو گا، اور مذہب کی وہ تشریح پیش کرنی ہو گی جو واقعتاً مذہب کا مقصود ہے، یعنی سیاسی، سماجی اور معاشی عدل۔


