ذہنی مریضوں کے ساتھ ماضی میں کیسا برتاؤ کیا جاتا تھا؟


ماضی میں نفسیاتی یا ذہنی مریضوں کے علاج کے طریقے اکثر سخت اور غیر سائنسی تھے، کیونکہ اُس دور میں ذہنی بیماریوں کی وجوہات اور علاج کے بارے میں بہت کم علم تھا۔ قدیم زمانوں میں، ذہنی مریضوں کو اکثر شیطانی قوتوں یا بدروحوں کا شکار سمجھا جاتا تھا، اور ان کا علاج مذہبی رسومات، دعاؤں، اور جادو ٹونے سے کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ان مریضوں کو زنجیروں میں باندھ کر قید کیا جاتا، یا دور دراز مقامات پر جلا وطن کر دیا جاتا تھا تاکہ وہ معاشرے سے الگ رہیں۔ یا تو اکثر کو بیچ دیا جاتا یا ان کی پیدائش کے بعد الٹا ماں کو ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا۔ یہ علاج کے طریقے تاریخ کے زیادہ تر حصے میں انتہائی سخت اور غیر انسانی رہے ہیں۔ اس دور میں یہ عام عقیدہ تھا کہ ذہنی بیماری شیطانی طاقت کے قبضے، جادو ٹونے، یا کسی ناراض خدائی طاقت کی وجہ سے ہوتی ہے۔

مثال کے طور پر، مڈل ایجز میں، غیر معمولی انسانی رویوں کو شیطانی یا بھوت پریت یا چڑیل کے اثر کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اگر کسی کو ان کے اثر کا شکار سمجھا جاتا، تو اس کی روح کو آزاد کرنے کے لیے مختلف علاج کیے جاتے تھے۔ سب سے عام علاج ایکسورسیزم تھا، جو عام طور پر پادریوں یا دیگر مذہبی شخصیات کے ذریعہ انجام دیا جاتا تھا، ان پر بہت فلمیں بھی بن چکی ہیں، اور بھوت پریت پر یقین رکھنے والے افراد اب بھی شوق سے دیکھتے ہیں۔ ان مریضوں کے جسم پر دعائیں اور مخصوص منتر پڑھے جاتے، اور انہیں کچھ دوائیں دی جاتیں۔ انتہائی شدید کیسوں میں ٹریفائنگ کا عمل بھی کیا جاتا تھا، جس میں متاثرہ شخص کے سر میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیا جاتا تاکہ روحیں جسم سے نکل جائیں۔ زیادہ تر لوگ جو اس طرح کے علاج سے گزرے، وہ مر گئے۔ ایکسورسیزم اور ٹریفائنگ کے علاوہ، دیگر طریقے بھی شامل تھے جن میں نفسیاتی امراض کے شکار لوگوں کو سزائے موت دینا یا قید کرنا شامل تھا۔ کئی لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا، اور وہ بھکاری بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ ابتدائی عقائد کے مطابق تمام ناقابل فہم ذہنی صحت کے واقعات کو اچھے یا بُرے دیوتاؤں سے منسوب کیا جاتا تھا۔

سن 1400 ء کے اواخر سے 1600 ء کے اواخر تک، کچھ مذہبی کمیونٹی کے مطابق یہ عام عقیدہ تھا کہ کچھ لوگ شیطان سے معاہدے کرتے ہیں (ڈاکٹر فاسٹس مشہور ڈرامہ) اور خوفناک اعمال کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو جادوگر سمجھا جاتا تھا اور عدالتوں میں ان پر مقدمہ چلایا جاتا تھا۔ انہیں اکثر زندہ جلا دیا جاتا تھا (آرتھر ملر کا مشہور ڈرامہ Crucible اور 17 ویں صدی کے مشہور Witch Trails) ۔ مشہور محقق ہیِم فِل نے اپنی 1966 میں کی جانے والی تحقیق میں یہ اندازہ لگایا دنیا میں اب تک ہزاروں ذہنی مریضوں کو جادوگر ہونے یا جادو کے زیر اثر ہونے کے الزام میں قتل کیا گیا۔

18 ویں صدی تک، جن لوگوں کو عجیب و غریب سمجھا جاتا تھا، انہیں آسائلمز یا پاگل خانے میں رکھا جاتا تھا۔ آسائلمز وہ پہلی جگہیں تھیں جو خاص طور پر نفسیاتی امراض کے شکار لوگوں کو رکھنے کے لیے بنائی گئی تھیں، لیکن ان کا مقصد ان کی بیماریوں کا علاج کرنے کے بجائے انہیں معاشرے سے الگ کرنا تھا۔ اکثر ان لوگوں کو کھڑکیوں کے بغیر تہہ خانوں میں رکھا جاتا تھا، انہیں مارا پیٹا جاتا تھا، بستر سے زنجیروں سے باندھ دیا جاتا تھا، اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے ساتھ بہت کم یا بالکل بھی رابطہ نہیں ہوتا تھا۔ ایسے مریضوں کو مارنا پیٹنا عام تھا کیونکہ لوگ سمجھتے تھے وہ چوٹ دراصل اس عفریت کو پہنچا رہے ہیں۔

اسی صدی کے اواخر میں، ایک فرانسیسی طبیب، فلپ پنل نے ذہنی مریضوں کے زیادہ انسانی سلوک کے حق میں دلائل دیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ انہیں آزاد کیا جائے اور ان سے بات کی جائے، اور یہی کام انہوں نے 1795 میں پیرس کے ہسپتال میں مریضوں کے لیے کیا۔ اس انسانی سلوک کے نتیجے میں مریضوں کو فائدہ ہوا، اور بہت سے مریض ہسپتال چھوڑنے کے قابل ہو گئے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں، ذہنی امراض کے علاج میں تبدیلیاں آئیں، جب ”موریل تھراپی“ جیسے نرم رویے کے طریقے سامنے آئے۔ ڈاکٹر فلپ پنل نے فرانسیسی اسپتالوں میں قیدیوں کی طرح زندگی گزارنے والے مریضوں کو آزاد کیا اور انہیں احترام کے ساتھ دیکھ بھال فراہم کی۔

انیسویں صدی کے آخر میں، جدید نفسیات کی ترقی کے ساتھ، ذہنی بیماریوں کے علاج میں نفسیاتی تجزیہ اور سپیچ تھراپی کا استعمال شروع ہوا۔ دوسری طرف امریکہ میں ڈوروتھیا ڈکس پہلی خاتون سوشل ریفارمر تھی جنہوں نے ذہنی طور پر بیمار غریبوں کی وکالت کی اور امریکہ میں پہلے ذہنی پناہ گاہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کانگریس سے مسلسل لابنگ کے ذریعے ان اداروں کے قیام اور ان کی فنڈنگ کے لیے جدوجہد کی۔

آج ایسے تمام امراض کے لئے علاج مہیا ہے اور نفسیاتی طب کے شعبے میں ایسے مریضوں کو دیکھا اور علاج کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں باقاعدہ ذہنی مریضوں کے علاج پر ریسرچ ہوتی ہے تاکہ جدید تر علاج کو دیکھا جا سکے۔ ماہرین اب خودکشی جیسی کئی بیماریوں کو ذہنی بیماری یا شدید ڈپریشن، جینیاتی تبدیلی یا ماحولیاتی اثر کے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تحریر لکھنے کا مقصد اپنے ذاتی تجربات اور ذہنی مریضوں کی علاج گاہوں کے جائزہ کے بعد لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس میں کسی بھی شخص یا طبقہ کی دل آزاری مقصود نہیں۔

Facebook Comments HS