اعجاز نامہ (معجزات) : ایک مطالعہ و تجزیہ


خانوادہ خوشحال خان خٹک نے پشتو شعر و ادب، سِیَر و تاریخ، ترجمہ و توضیح، تاریخ گوئی، وقائع نویسی، سیر و سیاحت اور نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس کی تشریح و توضیح کے لئے تاحال ایک زمانہ درکار ہے اور باوجود مستند اہل قلم اور شارحین کے سالہا سال کی ریاضت اور علمی مشقت کے ان کے کیے گئے کام اب بھی مزید شرح و بسط کے متقاضی ہیں۔

متن شناس محقق پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد ان گنے چنے محققین میں سے ہیں جو بڑے تسلسل اور جانفشانی سے مشکل اور گنجلک موضوعات پر تحقیقات کر کے خبر و نظر کے نئے در و بام وا کرنے کی سعی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی نئی کاوش خوشحال خان خٹک کے فرزند ارجمند صدر خان خٹک یا صدر خوشحال کی منظوم کتاب ’اعجاز نامہ (معجزات) ‘ کی تدوین و تسوید ہے۔ چہار مخطوطات کی مدد سے تیار کی گئی اس کتاب کے انتقادی متن میں واضح انفرادیت، گہرا حزم اور قابل تحسین عرق ریزی نظر آتی ہے۔ مدون ایک طویل علمی و فنی مقدمہ کی صورت میں موضوع کا حق ادا کرتے ہوئے عربی، فارسی، اردو اور پشتو منظوم و منثور سیرت نگاری پر ایک منفرد علمی شہ پارے کو وجود بخشتے ہیں۔ ایک سو تیس صفحات کا متن، اکیس صفحات کا حاشیہ، اکہتر صفحات پر تعلیقات و تخریج، اور اٹھارہ صفحات کی ایک فرہنگ اور نسخہ ہائے اصلی چند کے عکس اس علمی کاوش کو علم و ادب، سیرت و تاریخ اور جدید تحقیق و تدوین کا بیش بہا مرقع بنا دیتے ہیں۔ اعجاز نامہ/ معجزات کا ایک امتیاز باقی موجود مخطوطات کے ساتھ تقابل اور تسامحات کی تصحیح بھی ہے۔ اسلوبیاتی لحاظ سے ڈاکٹر عابد کا انداز تحقیق محاکمانہ کی بجائے تشریحی اور عادلانہ ہے۔ اور ان کی قبل ازیں تحریر کردہ کتابوں کے مقابلہ میں اس کتاب میں نسبتاً زیادہ پختگی دکھائی دیتی ہے۔

تخریج و اصول تخریج کے علم میں متعلقہ اصول و ضوابط اور قواعد کی روشنی میں راوی اور روایات پر صحت یا ضعف کا حکم لگانا ہمیشہ موضوع سے متعلق کلی علم رکھنے کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس کتاب میں بھی تخریج کے وہی اصول پیش نظر رکھے گئے ہیں۔ تاہم ہر ممکن کوشش کے باوجود کہیں کہیں سقم نظر آ ہی جاتا ہے۔ افغانستان کے معروف محقق ڈاکٹر زرین انجور کتاب کے فلیپ پر لکھتے ہیں کہ ’اس تحقیقی شہ پارہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس سے متعلق معلوم اسناد تک رسائی حاصل کی گئی ہے اور صدر خوشحال کی زندگی اور آثار سے متعلق ایک سو چھبیس ماخذات اور منابع سے آپ استفادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ کہنہ مشق محقق اور متصوف ڈاکٹر سید چراغ حسین شاہ کے خیال میں‘ ڈاکٹر عابد کی اپروچ اور تحقیقی طریقہ کار بہت منظم اور سائنسی ہے اور اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ”۔

منقول عربی عبارات کے اردو تراجم میں کہیں کہیں لفظی ترجمہ کی بجائے حاصل ترجمہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح فرہنگ میں بھی کئی مقامات پر بعض تسامحات کتاب کی علمی حیثیت کے مطابق قابل گرفت نہیں کہ یہ ایک اہم علمی کام کی بنیاد ہے۔

افغانستان کے کہنہ مشق محقق زلمی ہیواد مل اپنی اہم کتاب فرہنگ زبان و ادبیات پختو میں صدر خان خٹک کے ترجمہ میں اس کتاب کا نام ’معجزات حضرت محمد‘ لکھتے ہیں۔ اور صدر خان خٹک سے متعلق صفحہ دو سو ستاون پر تحریر فرماتے ہیں کہ:

’ صدر خان خٹک فنون حرب و بلاغت و ادب را از پدر شہیرش آموخت در بعضی رزمہا باوی ہمراہ بود‘ ۔ یعنی صدر خان خٹک جنگ، بلاغت اور ادب کے فنون اپنے مشہور والد سے سیکھ چکے تھے اور بعض جنگوں میں تو آپ کے ہمراہ تھے۔

ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کے اس انتخاب مخطوطہ، تدوین متن، تعلیق نویسی اور تشریح و تحشیہ سے متعلق داد دیتے ہوئے افغانستان کے مستند محقق استاد محمد آصف صمیم یہ رائے دینے میں حق بجانب ہیں کہ ’عابد صاحب اپنے معاصرین جوان لکھاریوں کے لیے بمنزلہ ایک روشن چراغ کے ہیں‘ ۔ ڈاکٹر عابد اس مخطوطہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’اس کا اساسی نسخہ مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان گنج بخش کتب خانہ میں موجود ہے اور یہ انتقادی متن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد شعبہ پاکستانی زبانیں کا ایک تحقیقی پروجیکٹ تھا جو مجوزہ دورانیہ میں پایہ تکمیل تک پہنچ چکا تھا‘ ۔ پشتو اکیڈمی، پشاور یونیورسٹی میں آٹھ سو اکیاسی نمبر پر معجزات کے نام سے موجود اس مخطوطہ کے آخر میں درج ہے کہ:
’ تمت تمام شد نسخہ معجزات بزبان افغانی تصنیف صدر خان ولد خوشحال خان عرف خٹک برائی عنداللہ و عندالرسول‘ ۔

اگرچہ ڈاکٹر عابد بحوالہ ڈاکٹر محمد عبداللہ عباس ندوی تحریر فرماتے ہیں کہ ’منظوم سیرت نگاری کی شروعات تیسری صدی ہجری میں ہوئی ہے۔ محمد بن المستز/المستنیر بن احمد کے ہاں قصیدہ کے شکل میں نبی کریم ﷺ کے معجزات 72 اشعار کی شکل میں ملتے ہیں۔ اسی طرح لسان الدین ابن خطیب کے استاد ابن لجیاب الغرناطی اور دیگر کے قصائد میں ملتے ہیں اور بعد میں سلاجقہ کے ہاں فارسی شاعری میں نمودار ہوئے‘ ۔ ابن الجیاب اندلس میں مسلمانوں کے آخری حکومت غرناتا میں بنو ناصر کے ہاں وزیر رہے اور جن کے اشعار شاید اب تک الحمرا کی دیواروں کو منقش کیے ہوئے ہیں۔

تاہم ملحوظ خاطر رہے کہ منظوم جزوی سیرت نگاری اور نعت گوئی کے ضمن میں قرونِ اولیٰ میں ابوطالب کے علاوہ، جگر گوشہ رسولﷺ فاطمۃ الزھرا ؓ، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حسان بن ثابت الانصاری، حضرت کعب بن مالک، کعب ابن زہیر بن ابی سلمی رضی اللہ عنہم، علامہ محمد بن سعید البوصیری اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی نعت گوئی سے لے کر دور حاضر کی پاکستانی زبانوں کی نعت گوئی میں منظوم سیرت نگاری کی ایک واضح جھلک ملتی ہے اور ان میں معجزات کا بھی ایک ضمنی ذکر موجود ہوتا ہے۔

پشتو ادب میں موضوع کے اعتبار سے اتنے وقیع، جامع اور مفصل مقدمہ سے مزین کتاب شاید ہی زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہو۔ جو تحقیق و تدقیق کے نئے در وا کرنے میں نوجوان محققین کے لئے مشعل راہ ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ جان عابد اس علمی کاوش پر تحسین و تہنیت کے مستحق ہیں۔

Facebook Comments HS