منزل دور نہیں
زمانی اور مکانی حدود سے بالاتَر، ہر عہد میں، ہر زمانے میں، ہر شہر اور ہر بستی میں اچھے، خوبصورت، محبت کے قابل اور احترام کے مستحق لوگ ہوتے ہیں۔
ڈھلتی ہوئی شام کو میری نظریں ریل کی پٹری کے اوپر تھیں اور میں بے تابیِ سے ریل کا انتظار کر رہا تھا میرے ساتھ میڈیا منڈی کے مصنف اکمل شہزاد گھمن صاحب تھے سنا تھا کہ اب ریل کی آمد اور روانگی میں کچھ باقاعدگی دَر آئی ہے مگر ہم یہ منظر دیکھنے سے محروم ہی رہے، ریل حسب روایت بے قاعدگی سے خراماں خراماں مارگلہ جنکشن پر پہنچی۔ دھیمے دھیمے ریل نے مارگلہ کے جنکشن کو خیرباد کہا اور میں نے کتاب کے صفحات پلٹنا شروع کیے یہ کتاب میڈیا منڈی تھی اور میری خوش نصیبی یہ تھی کہ کتاب کا مصنف میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور لاہور میں پنجاب کا مقدمہ لڑنے کی تیاری کر رہا تھا۔ میں نے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنف سے معصومانہ سوالات شروع کر دیے اور مصنف نے تشفی بخش جواب عنایت کیے۔ ریل بھی اپنی منزلِ مقصود کی جانب رواں دواں تھی اور ہم بھی پڑھنے میں مشغول تھے۔
گوجرانوالہ اسٹیشن کے قریب ٹرین پہنچتے ہی مجھے ریل کی سیٹی کے وہ جملے یاد آئے جس میں حسن معراج صاحب نے لکھا ہے گوجرانوالہ ایک کہانی نہیں، بلکہ داستان سرائے ہے۔ چونکہ شہر انسانوں کا تعارف ہوا کرتے ہیں اور انسان شہروں کو شناخت عطا کرتے ہیں، سو گوجرانوالہ کا دامن بھی ایسے بہت سے موتیوں لبریز ہے۔ کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد ٹرین نے اپنی دھیمی رفتار سے چلنا شروع کیا کیونکہ ہم دونوں کی منزل لاہور تھی۔
ریل گاڑی کی اپنی الگ دنیا ہے، شہر کی وہ سڑک جو ریلوے اسٹیشن کی طرف مڑتی ہے، اُس پر مڑتے ہی نہ صرف ماحول کی بلکہ مڑنے والے کے شعور کی کیفیت بھی بدلنے لگتی ہے۔ وہیں سے فضا کے رنگ اور ہوا کی بو بدلنے لگتی ہے، ریل کے سفر کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”جب سے ریل گاڑی چلی ہے لوگ اپنی بیٹیوں کو دُور دُور بیاہنے لگے ہیں۔“ میڈیا منڈی کے چند صفحات ہی پڑھے تھے اور میں نے مصنف سے پوچھا کہ آپ کی کتاب کے متعلق لکھی ہوئی تحریر دی نیوز میں پبلش کیوں نہیں ہوئی؟ مصنف نے اس کی وجہ میر شکیل الرحمٰن صاحب کو ٹھہرایا اور میں نے پوچھا کہ حمید نظامی صاحب کے بھائی مجید نظامی صاحب سے اتنے سخت سوالات کیے ہیں جیسا کہ، مجید نظامی اپنی تقریروں میں ہندوؤں کو مکار، عیار کہتے ہیں کہیں پاکستانی ہندوؤں کی دل آزاری نہیں ہوتی ہوگی؟ نوائے وقت میں نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب جیسے سیاست دان کا مذاق اڑایا گیا؟ کیا ایڈیٹر کا یہ فرض منصبی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرے؟ عارف نظامی صاحب کا الزام ہے کہ مجید نظامی نے اخبار کی پالیسی بدل کر جرنیلوں کی خوشامد کرنا شروع کر دی۔ حمید نظامی ہر خود تراشیدہ انسان کی طرح نظامی صاحب نے آدرشوں کے سہارے زندگی گزاری۔ مارشل لاء لگا تو علم ہوا کہ پاکستان میں خواب بچانا کتنا مشکل ہو گا۔ عزیز ہم وطنو! کی پہلی قسط ہی ان کی زندگی کی آخری قسط ثابت ہوئی۔
ایک منزل کے بعد دوسری منزل تک پہنچنے کی آرزو اور ایک نئے سفر کا آغاز ہو جاتا ہے دھیمے رفتار سے ریل اپنی منزل پہ پہنچ گئی اور ہم لاہور اسٹیشن پر اتر گئے۔
لاہور، شہرِ عشق، شہرِ ادب، شہرِ فن، شہرِ تاریخ، اور شہرِ رومان۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی، اپنی تاریخ، اپنی ثقافت، اور اپنی رومانیت کے لیے مشہور ہے۔
لاہور یاترا کا مقصد پنجابی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کرنا تھی یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پنجاب میں بسنے والے بلاشبہ عجیب لوگ ہیں ان کی زمین ہو یا دل ان کا دامن سب کے لیے کھلا ہے۔ حقائق کے آئینے میں دیکھیں تو پنجاب کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن بدنصیبی سے ایک سازش کے تحت پنجاب کے ہیروز کو ولن ثابت کرنے کی کوشش کی گئی جس میں پنجاب دشمن بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ یہ سلسلہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب یہاں بیرونی حملہ آوروں کی آمد ہوئی۔ سکندر آیا تو اس کے سامنے پورس ڈٹ کے کھڑا ہوا اور دنیا کی مضبوط ترین فوج کا مقابلہ جواں مردی سے کیا۔
پنجاب نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے، یہاں کبھی تعصب آیا ہی نہیں۔ پختون بھائی ہوں یا سندھ سے آئے ہم وطن یا پھر بلوچ قوم پرست، پنجاب نے کھلے بازوؤں سے خوش آمدید کہا ہے۔
پنجاب اور پنجابی سیاستدان کے سیشن کی صدارت اعتزاز احسن صاحب کر رہے تھے اور ماڈریٹر کے طور پر کام سرانجام دے رہے تھے اکمل شہزاد گھمن صاحب سے سامعین میں سے کسی نے بچگانہ سوال کیا کہ پنجابیوں کو پاکستان سے اتنی محبت کرنی چاہیے جتنی بلاول بھٹو صاحب پاکستان سے محبت کرتے ہیں؟ حالانکہ اعتزاز صاحب نے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی گفتگو کو جا ری رکھا سوال سے قبل اعتزاز صاحب بتا رہے تھے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اتنا سخت رویہ نہیں اپنانا چاہیے کہ ان کی مشکلات کا باعث ہو جائے۔
اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ نواز شریف کو کریڈٹ دیتا ہوں انہوں نے واجپائی کو پاکستان بلایا۔ میں چاہتا ہوں ایسے مواقع دوبارہ آئیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان صاحب نے بتایا کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں ممبران کو مادری زبان میں گفتگو کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے۔ یہ روایت یا اجازت اس سے پہلے موجود نہیں تھی۔
لاہور کہانیوں کا شہر ہے۔ یہاں کیسے کیسے کہانی کار نہیں رہے، شاعر، مصور، ادیب۔ ہر شہر کی اپنی ایک روح ہوتی ہے اور لاہور کی روح شاید توانائی ہے، جو تخلیق پر مجبور کرتی ہے، پھر اس کا تعلق فنون لطیفہ کے کسی بھی شعبہ سے ہو۔ اس شہر نے جو بھی یہاں آیا اس کو بھرپور اپنایا اور اس کو پہچان دی۔
سیالکوٹ کے محمد اقبال کو شاعر مشرق بنا دیا۔ نارووال کے فیض احمد کو فیض احمد فیض، خوشاب کے احمد شاہ کو احمد ندیم قاسمی بنا دیا، جالندھر کے شیر محمد کو ابن انشا، بمبئی کے سعادت حسن کو منٹو اور قصور کی اللہ و سائی کو ملکہ ترنم اسی شہر نے بنایا اور کتنے نام گنواؤں انتظار حسین، منیر نیازی، ناصر کاظمی، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، واصف علی واصف، ساغر صدیقی، صوفی تبسم، سب کی پہچان اسی شہر طلسمات کی دین ہے۔
شہر لاہور میں یادگار شام نامور مؤرخ ڈاکٹر مبارک علی صاحب کے ساتھ گزاری ان کی علمیت اور شخصیت سے ملاقات کرنا میرے لیے بہت اعزاز کی بات تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تجربات اور تاریخی معلومات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح امر کوٹ عمر کوٹ بنا؟ جی ایم سید صاحب نے جنرل ضیا الحق صاحب کو اپنا محسن کیسے سمجھا؟ اور شیخ ایاز صاحب کس طرح سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے؟ میرے استاد گرامی جناب ڈاکٹر ناظر محمود صاحب کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بہت سارے دیگر موضوعات پر بھی روشنی ڈالی۔ یہ لمحے میرے لیے بہت قیمتی ہیں اور میری زندگی کے خوبصورت لمحات میں سے ایک ہیں۔


