مجھ سے پہلی سی اینٹی بائیوٹک مرے محبوب نہ مانگ

اینٹی بائیوٹکس کی ایجاد اور دنیا کے کونے کونے میں اس کی رسائی کو جدید طب کا اہم ترین سنگ میل کہا جاسکتا ہے۔ پینسلین کو دریافت کرنے کا سہرا برطانوی ڈاکٹر الگزینڈر فلیمنگ کے سر جاتا ہے اس معجزاتی دوا کا ابتدائی استعمال 1942 ء میں ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ایٹم بم کی تیاری کے ساتھ ساتھ پینسلین کی بڑے پیمانے پر خفیہ پیداوار امریکہ کی جنگی کاوشوں کا باقاعدہ حصہ تھی۔ امریکی دوا ساز کمپنی فائزر کو پینسلین بنا کر بیچنے کے جملہ حقوق تفویض کیے گئے۔ اس دوا کے طفیل کم و بیش ڈھائی تین لاکھ زخمی اتحادی فوجی موت سے بچائے جا سکے۔ بعد از جنگ بڑے پیمانے پر پھیلنے والی جنسی بیماریوں پر بھی پینسلین کی مدد سے قابو پایا گیا۔ یہاں سے انسانی ارتقاء کے اس عہد زریں کا آغاز ہوتا ہے جس میں اعضاء کی پیوند کاری، سیزرین سیکشن، انتہائی نگہداشت کے مراکز، کینسر کی کیموتھراپی، جوڑوں کی تبدیلی اور دل کا بائی پاس کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔ اسی کے ساتھ دوا ساز کمپنیوں کی عالمی اجارہ داری اور مقابلے کی دوڑ کی ابتداء بھی ہوتی ہے۔
پینسلین کے موجد فلیمنگ نے بہت شروع ہی میں پیش گوئی کردی تھی کہ اینٹی بائیوٹکس کے بے دریغ استعمال سے بالآخر جراثیم مزاحمت کرنا سیکھ لیں گے اور یہ غیر موثر ہوجائیں گی۔ بیماری پیدا کرنے والے جرثوموں کی مختلف اقسام میں بیکٹیریا، وائرس، فنگس یا پھپھوند اور پیراسائٹ (طفیلیے ) شامل ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے خلاف بننے والی ادویات سے مزاحمت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اس افتاد کو اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس یا اے ایم آر کہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ستمبر 2016 ء میں اس بحران پر پہلی عالمی بیٹھک بلائی تھی جبکہ دوسرا اجلاس دو ماہ قبل منعقد ہوا۔ یہ بات سامنے آئی کہ آٹھ سال کی کوششوں سے کچھ فرق نہیں پڑا اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس نوع انسانی کی بقاء کے لئے اتنا ہی بڑا چیلنج ہے جتنا ماحولیاتی تبدیلی اور کوویڈ 19 جیسی عالمی وبائیں ہیں۔ 2019 ء میں اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے سبب کوئی تیرہ لاکھ اموات ہوئیں جبکہ یہ پچاس لاکھ ہلاکتوں کا بالواسطہ سبب بنا۔ مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق غریب اور ترقی پذیر ممالک سے ہے۔
جرثوموں کی سخت جانی کا اندازہ لگائیں ابھی پینسلین عام استعمال میں نہیں آئی تھی کہ اس سے مزاحم بیکٹیریا کا پہلا کیس رپورٹ ہو گیا تھا۔ 1950 ء میں امریکی کمپنی لیڈرلے ایک نئی اینٹی بائیوٹک ٹیٹراسائیکلین بازار میں لے آئی۔ 1959 ء میں شگیلا جراثیم نے اس سے مقابلہ کرنا سیکھ لیا۔ 1953 ء میں ایک دوسری امریکی کمپنی ایلائی للی نے اریتھرومائیسن کو میدان میں اتارا لیکن بہت جلد سٹریپٹو کوکس نامی جراثیم نے اسے ناک آؤٹ کر دیا۔ یوں اینٹی بائیوٹکس کی کئی کلاسز وجود میں آ گئیں اور مزاحم جرثوموں سے مات کھاتی گئیں۔ ایک کلاس میں تھوڑی سی ترمیم کر کے بنائی جانے والی اینٹی بائیوٹک کو دوسری جنریشن یا نسل کہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ تیسری جنریشن اور چوتھی جنریشن بازار میں لائی گئیں۔
1960 ء میں پینسلین کی دوسری جنریشن کی اینٹی بائیوٹک میتھی سیلین کو متعارف کیا گیا۔ ابھی دو سال ہوئے تھے کہ اس سے شدید مزاحمت والے جراثیم ایم آر ایس اے کی نمود ہوئی جو اب ہر سال سوا لاکھ سے زائد زندگیاں چٹ کر جاتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس محدود اور وسیع سپیکٹرم دونوں طرح کی ہوتی ہیں۔ وسیع سپیکٹرم کو ایک ایسی بندوق سمجھ لیں جو چیونٹی اور مچھر سے لے کر مچھلی، ہاتھی اور عقاب سب کا شکار کر سکتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ خوبی نہیں بلکہ خامی ہے کیونکہ اس سے کئی قسم کے مزاحم بیکٹیریا جنم لیتے ہیں۔
فارماسیوٹیکل کمپنیاں اور منافع کی دوڑ
ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ایک کے بعد ایک اینٹی بائیوٹک بازار میں آ کر مریضوں کی راحت جان اور متعلقہ فارماسیوٹیکل کمپنی کی عالمی پہچان اور بالادستی کا سامان بن رہی تھیں۔ 1987 ء میں یہ عہد تمام ہوا۔ اس کے بعد کوئی نئی کلاس منصۂ شہود پر نمودار نہیں ہوئی البتہ پہلے سے موجود اینٹی بائیوٹک کی ساخت میں کاٹ چھانٹ کر کے جنریشن ضرور تبدیل کی گئی۔ اس کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ اینٹی بائیوٹک کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں کمی اور دیگر انتہائی قیمتی ادویات کی ایجاد ہے۔ عالمی ادارہ صحت بتاتا ہے کہ اٹھارہ سب سے بڑی کمپنیوں میں سے صرف تین اب اس کم منافع بخش کاروبار سے منسلک رہ گئی ہیں۔
اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے صدر مقام
بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے انتہائی گنجان آباد خطوں میں جہاں صفائی ستھرائی کا معیار پست ہے، پینے کا صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا فقدان ہے۔ اینٹی بائیوٹک سے زیادہ طاقتور جراثیم کے لئے سازگار نرسریاں ہیں۔ یہاں سائنسی سوچ رکھنا پاپ ہے، صحت عامہ کی جدید آگہی ناپید ہے۔ اینٹی بائیوٹکس بغیر نسخہ دکھائے مل جاتی ہیں۔ گلوبل اے ایم آر پروجیکٹ کے مطابق ضدی جرثوموں کے ہاتھوں سب سے زیادہ اموات اسی خطے میں ہوں گی جہاں یہ بلا 2050 ء تک ایک کروڑ سے زائد جانوں کا تاوان لے کر جائے گی۔ اینٹی بائیوٹکس کی کھپت کے لحاظ سے دنیا کی اقوام میں پاکستان نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔
اینٹی بائیوٹک سٹیورڈ شپ کیا ہے
عالمی ادارۂ صحت نے مریضوں کے لئے دستیاب اینٹی بائیوٹکس کو تین درجوں میں بانٹ دیا ہے۔ پہلی وہ ادویات ہیں جو اطباء ضرورت پڑنے پر تجویز کر سکتے ہیں۔ دوسرے گروپ کی ادویات کو لکھتے ہوئے دس دفعہ سوچنا لازم ہے اور تیسرے گروپ کی اینٹی بائیوٹکس کو انتہائی ناگزیر صورتحال میں تحریر کرنا چاہیے۔ یہ نگہداشتی پروگرام ایک منظم ترین نظام صحت کا متقاضی ہے جس میں سرکاری اور پرائیویٹ تمام شفاء خانے ایک ہی اینٹی بائیوٹکس گائیڈ لائنز پر سختی سے کاربند ہوں۔ خودمختار فارماسسٹ کے بغیر یہ نظام کام نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں مائکرو بیالوجسٹ بھی درکار ہیں جو آلات سے مزین لیبارٹری میں جانچ کرسکیں کہ کس جراثیم پر کون سی اینٹی بائیوٹک کارگر ہوگی۔ عالمی ادارہ صحت کے خیال میں باقاعدگی سے ویکسین لگوانے سے ہمارا اینٹی بائیوٹکس پر انحصار کم ہو گا۔
یہ ایک تلخ اور تکلیف دہ حقیقت ہے کہ ایتھوپیا سے لے کر ریاست ہائے متحدہ تک طبیب فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا کہا بہت مانتے ہیں۔ غریب ممالک میں مریض بھی ڈاکٹروں پر اینٹی بایوٹک لکھنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں۔
اے ایم آر اور کمرہ میں موجود نادیدہ ہاتھ
دنیا بھر میں بنائی جانے والی تمام اینٹی مائیکروبیل دوائیوں کا بمشکل ایک تہائی انسانی استعمال میں آتا ہے بقیہ دو تہائی مال مویشی، مرغیوں اور فارمی مچھلی کا جزو بدن بنتی ہیں۔ ان جانوروں کو فربہ اندام کرنے اور انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لئے نئی سے نئی اینٹی بائیوٹکس ان کی غذا میں شامل کردی جاتی ہیں۔ جس سے ان کے گوشت، پیشاب اور فضلے میں ان ادویات کی بھاری مقدار شامل ہوجاتی ہے۔ اس سے قابل کاشت زمین اور زیر زمین پانی سب آلودہ ہو چکا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ فصلوں اور باغات میں سٹریپٹو مائیسن اور ٹیٹرا سائیکلین جیسی انتہائی تیز ادویات کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ یہ اینٹی بائیوٹک زدہ خوراک کھانے سے ہمارے جسم میں موجود جراثیم سخت مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔ اس عمل کی تمام ابتدائی ریسرچ امریکہ میں ہوئی جہاں سے یہ مہلک اور نسل کش ٹیکنالوجی سرد جنگ کے دنوں میں مغربی یورپ اور وہاں سے بقیہ ”آزاد“ دنیا میں پھیل گئی۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد اب ساری دنیا اس کی زد میں ہے۔ جانوروں میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے لحاظ سے اس وقت اولین چار اقوام چین، برازیل، بھارت اور امریکہ ہیں جبکہ پاکستان نے دسویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ اینٹی بائیوٹک مارکیٹ پر اس وقت چین کی اجارہ داری ہے جہاں عالمی پیداوار کا 42 فیصد بنتا ہے۔ بھارت 9 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ امریکہ کا نمبر پانچواں ہے۔

