مصنوعی ذہانت یا دو دھاری تلوار

یہ تقریباً تئیس سال پہلے کی بات ہے، جب ہم حیدرآباد میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں شریک تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی رفیق اور مشہور دانشور (مرحوم) ڈاکٹر مبشر حسن نے عالمی استعماری قوتوں کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کے طریقہ کار اور ایجنڈے کو تفصیل سے بیان کیا، اور کہا کہ مستقبل میں ملکوں اور قوموں پر قبضہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائنسی ایجادات اور تکنیکی کنٹرول کے ذریعے کیا جائے گا۔
ڈاکٹر مبشر حسن کے مطابق، ڈبلیو ٹی او ہائبرڈ تخم دنیا بھر میں پھیلا رہی تھی، جس سے مقامی بیج معدوم ہو رہے تھے۔ اس کا مقصد زرعی پیداوار کو کنٹرول کر کے کمزور ممالک کو اپنے فیصلوں کا پابند بنانا تھا۔ آج، تئیس سال بعد ، ایسا لگتا ہے کہ استعماری قوتیں اس سے بھی آگے نکل چکی ہیں۔ اب وہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کر رہی ہے۔
ابتدا میں گوگل، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز مفت اور آسان رسائی کے ذریعے لوگوں کو اپنا عادی بناتے رہے۔ نوجوان نسل ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ اب جب دنیا ان کی غلام بن چکی ہے، تو یہ کمپنیاں دھیرے دھیرے سبسکرپشن کے ذریعے ان خدمات کو مہنگا بنا رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی انقلابی ایجاد بھی ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ یہ زندگی کو بہتر بنانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ آج پانچ سالہ بچے سے لے کر بوڑھے تک، ہر فرد کے پاس ایسا ”استاد“ دستیاب ہے جو لاجواب ہے، جس کی معلومات لامحدود ہیں، اور جو چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے۔ لیکن اس کے اثرات خطرناک بھی ہیں۔
کتاب پڑھنے، علم کو یاد رکھنے، اور زبانیں سیکھنے کی ضرورت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مہارت کا حصول غیر ضروری لگنے لگا ہے۔ کمپنیاں ملازمتیں ختم کر رہی ہیں، اور ایک شخص کمپیوٹر پر بیٹھ کر 50 افراد کا کام انجام دے رہا ہے۔ لیکن یہ سب وقتی سہولتیں ہیں، جن کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
جب دنیا مکمل طور پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے لگے گی، تو اس کے مالکان ہر خدمت کو سبسکرپشن کے ساتھ جوڑ دیں گے۔ لوگ مجبور ہوں گے کہ اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے پیسے خرچ کریں کیونکہ نہ ان کے پاس مہارت ہوگی اور نہ متبادل ذرائع۔
سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ پرائیویسی ختم ہو چکی ہے۔ AI صارفین کی انتہائی ذاتی معلومات تک رسائی رکھتی ہے۔ یہ کمپنیاں اور ہیکرز ان معلومات کو جب چاہیں عام کر سکتے ہیں۔
اے آئی کمپنیاں اور ترقی یافتہ ممالک دیگر ممالک کے نظاموں کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اگر وہ چاہیں تو کسی بھی ملک کے جہاز اڑنا بند کر سکتے ہیں، نیوی گیشن کو غیر فعال کر سکتے ہیں، اور حتیٰ کہ پورے ملک کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کو یقینی بنائیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو خود کو اس قابل بنانا ہو گا کہ وہ ترقی یافتہ ممالک اور غیر ملکی کمپنیوں پر مکمل انحصار نہ کریں۔ تعلیمی اداروں، پالیسی سازوں، اور عوام کو مل کر ایسی حکمت عملی بنانی ہوگی جو ان ممکنہ خطرات کو کم کر سکے۔
مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کا خدشہ بندر کے ہاتھ میں استرے کی طرح ہے۔ یہ انقلاب ہمیں فائدہ بھی دے سکتا ہے اور ہمیں برباد بھی کر سکتا ہے۔ ابھی وقت ہے کہ ہم خود کو اس انقلاب کے لیے تیار کریں، ورنہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔


مستقبل کے جو خدشات آپ نے لکھے ان سے کوئی انکار نہیں لیکن ان کو مصنوعی ذہانت سے جوڑنا فی الوقت قبل از وقت ہوگا۔ شاید متعدد لوگوں کے علم میں نہ ہو کہ امریکہ متعدد ملکوں کو جو اسلحہ فروخت کرتا ہے مثلاً ایف سولہ اس کی کچھ اندرونی سہولتوں اور بیرونی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لئے ہر کچھ عرصے کے بعد صارف کو امریکہ سے کوڈز لینے پڑتے ہیں۔ بے شک مفت ہی ہوں اور اس کے بغیر وہ جہاز یا میزائیل ۔۔ محض کھلونا بن جاتے ہیں۔
امریکی ریڈار اور مختلف یورپی اسلحے اور جہازوں میں بھی یہی معاملہ ہے۔
ملائشیا کا جو جہاز 370 سات آٹھ سال پہلے گم ہوگیا تھا وہ بھی اسی کہانی کا ایک حصہ ہے جس میں اصل ہاتھ پائلٹ کا تھا۔
ابتدا میں JF 17 کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا مگر پاکستانیوں نے اس کا حل نکال لیا یہی وجہ ہے کہ آہستہ آہستہ پاکستانی ریڈار اور ڈرون دنیا بھر میں اپنی جگہ بنارہے ہیں کیوںکہ ان کے ساتھ ہم ٹیکنالوجی اور صفر سبسکرپشن دیتے ہیں۔
آج سے تیس سال پہلے جب سیٹلائٹ ڈش پر اسٹار ٹی وی اور زی مقبول ہوئے۔ اس وقت بھی یہی تھا کہ چینل مفت تھے اور پھر سبسکرپشن لگادی گئی۔ یہ کوئی غلط بات یا گناہ نہیں یہ تو مارکیٹنگ کا طریقہ ہے غلطی آپ کی ہے کہ کیوں اس نشے کے عادی بنے۔
کہتے ہیں ۔۔۔ دنیا میں کچھ بھی مفت نہیں ہوتا
لیکن ہم مفتے کے عادی ہیں
یہ تو سامنے کی بات ہے کہ میرے زمانے میں مجھے پہاڑے اور الگورتھم کے ٹیبل تک یاد ہوتے تھے۔ رشتے داروں کے پتے، ان کے ٹیلیفون نمبر، بچوں کی تاریخ پیدائش اور سب ست بڑھ کر قرآن کو حفظ کرنا۔
جب ہم اپنے دماغ کے حافظہ کو استعمال ہی نہیں کریں گے تو قصور ہمارا ہے نا کہ ٹیکنالوجی کا۔
ہمارا تعلیمی نظام ویسے بھی 18 ویں ترمیم کے بعد فوت ہوچکا ہے کہ یہ ہر صوبے نے خود دیکھنا ہے