چومسکی کے پانچ اقوال – مکمل کالم
”دنیا میں غریب ملک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہ وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرنے میں ناکامی ہوتی ہے جو کسی ملک کو غریب بنا دیتی ہے۔“
” ایسا کوئی طریقہ نہیں جس کی بدولت سچائی آپ کے ذہن میں خود بہ خود اُمڈ آئے، سچائی کو دریافت کرنا پڑتا ہے۔“
اگر تم عوام کو مسخر کرنا چاہتے ہو تو اُن کا ایک خیالی دشمن پیدا کرو جو تم سے بھی زیادہ خطرناک ہو، پھر تم عوام کے نجات دہندہ بن جاؤ۔ ”
”تاریخ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ حقوق از خود نہیں ملتے، انہیں زبردستی چھیننا پڑتا ہے۔“
”دنیا ایک بے حد پراسرار اور گنجلک جگہ ہے، اگر آپ اِس دنیا کی پیچیدگی کو تسلیم نہیں کریں گے تو لامحالہ کسی دوسرے شخص کے ذہن کا چربہ بن جائیں گے۔“
یہ اقوال پچانوے سالہ امریکی دانشور نوم چومسکی کے ہیں اور حسبِ حال ہیں۔ پہلے قول سے شروع کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ کوریا جانے کا اتفاق ہوا، وہاں ہمارے وفد میں سنگاپور سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی تھا، خاصا ’جولی‘ شخص تھا، پاکستان کے بارے میں بھی تھوڑی بہت معلومات رکھتا تھا، اُس سے اچھی گپ شپ رہی۔ اُس نے بتایا کہ سنگاپور میں ایک چھوٹا موٹا دریا ہے جو اُن کے ضروریات کے لیے ناکافی ہے سو وہ ملائشیا سے پانی امپورٹ کرتے ہیں، اِس کے علاوہ سنگاپور میں استعمال شدہ پانی کو صاف کر کے دوبارہ پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ ہمارے ملک میں دریاؤں کی کمی نہیں، تقریباً ہر سال ہی سیلاب آتا ہے، اِس کے علاوہ دنیا کا بہترین نہری نظام بھی ہمارے پاس ہے۔ اِس بات پر اُس نے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ اِس کا مطلب ہے کہ تمہارے ملک میں پانی کا کوئی مسئلہ نہیں؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں ایسی بات نہیں، ہمارے ہاں بھی پانی کا شدید بحران ہے اور اِس کی متعدد وجوہات ہیں۔ پھر میں نے وہ وجوہات بیان کیں، اُس نے میری باتیں سُن کر کوئی جواب تو نہیں دیا مگر اُس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ دل ہی دل میں کہہ رہا ہو گا ’کون لوگ ہو تسی!‘ وسائل کی بد انتظامی کی اگر کوئی کلاسک مثال ہے تو کم از کم ایشیا میں وہ پاکستان ہے اور وسائل کے بہترین استعمال کی اگر کوئی مثال ہے تو سنگاپور ہے۔
ہمارے ملک میں رکوڈِک میں تانبے اور سونے کے ذخائر دریافت ہوئے، اِن ذخائر کو اگر مروجہ بین الاقوامی طریقے کار کے مطابق استعمال میں لایا جاتا تو اُن کی مالیت تقریباً ایک کھرب ڈالر بنتی، لیکن ہم نے نہ صرف اِس سونے کی کان کو گنوا دیا بلکہ اُلٹا خود پر بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کی بنا پر اربوں ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کروا لیا جو شکر ہے کہ بعد میں ختم ہو گیا۔ یہی سونے کی کان اگر سنگاپور میں دریافت ہوتی تو اب تک وہاں کا ہر شہری اُس سے مستفید ہو چکا ہوتا۔
دوسرا قول سچائی سے متعلق ہے۔ ویسے تو دنیا میں کوئی بھی حتمی سچائی نہیں پا سکتا، تاہم یہ فلسفیانہ بات ہے، سیاسی طور پر البتہ یہ پرکھا جا سکتا ہے کہ کون سی بات سچ ہے اور کون سی جھوٹ، لیکن آخری تجزیے میں سیاست رومان کا روپ دھار لیتی ہے اِس لیے سچ اور جھوٹ گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ چومسکی کا کہنا درست ہے کہ سچائی کو پانے کے لیے آپ کو محنت کرنی پڑتی ہے، حقائق کو کھنگالنا پڑتا ہے، خود احتسابی سے گزرنا پڑتا ہے اور اُن نظریات کی بے رحمانہ طریقے سے پڑتال کرنی پڑتی ہے جنہیں بچپن سے آپ کے دماغ میں ڈرل کر کے یوں ڈال دیا جاتا ہے کہ آپ انہیں جھوٹ مان ہی نہیں سکتے۔ یہی اصل چیلنج ہے اور اِس چیلنج سے صرف آپ کو نبردآزما ہونا ہے، دنیا میں کوئی دوسرا شخص آپ کے لیے یہ کام نہیں کرے گا، اگر آپ کو سچائی تک پہنچنا ہے تو اپنے دماغ کو کام پر لگائیں۔
تیسرا قول بھی ہم جیسے معاشروں پر فِٹ بیٹھتا ہے۔ اوّل تو یہاں عوام کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور جب کبھی موقع ملا اور عوام نے کسی کو اپنے سر پر بٹھایا تو اُس نے بجائے عوام کے مسائل حل کرنے کے، ایک خیالی دشمن تخلیق کیا اور اسے عوام کے مسائل کی وجہ قرار دے کر لوگوں کو یہ یقین دلا دیا کہ جب تک تم اُس دشمن سے نجات نہیں پاؤ گے خوشحال نہیں ہو سکو گے، اور یوں عوام بیچارے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ گئے، نہ اُن کی پریشانیاں دور ہوئیں اور نہ اُن کے گھر میں گھی کے چراغ جلے، تاہم وہ لیڈر نجات دہندہ بن گیا۔ اور جیسا کہ ہم پچھلے پیراگراف میں پڑھ چکے ہیں کہ سچائی تلاش کرنا مشکل کام ہوتا ہے، سو کوئی بھی سچائی جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتا، کیونکہ ایسی سچائی جو رومانس ہی ختم کردے، کم لوگوں کو ہضم ہوتی ہے۔
چوتھا قول سادہ ہے اور اِس میں کوئی ابہام نہیں۔ پسے ہوئے طبقے کو حقوق تھالی میں رکھ کر کوئی پیش نہیں کرتا اِس کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور ضروری نہیں کہ وہ جدوجہد پُر امن ہی ہو، البتہ یہ بات بحث طلب ہے کہ کیا حقوق کی لڑائی اسی پسے ہوئے طبقے سے جنم لیتی ہے یا پھر اشرافیہ میں سے کوئی دانشمند اور دردِ دل رکھنے والا شخص اُس طبقے کے لیے آواز بلند کرتا ہے اور پھر قافلہ بنتا چلا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تاریخ میں پسے ہوئے طبقے کے لیے جنگ کی شروعات کسی ایسی شخص نے کیں جس کا اپنا تعلق اُس طبقے سے نہیں تھا اور اِس کی وجہ سوچنے سمجھنے کی وہ عیاشی تھی جس کا وہ متحمل ہو سکتا تھا۔ کسی بھی قسم کی جدوجہد کے لیے جس ذہنی مشق اور بیانیہ تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایسے ماحول میں ہی پنپ سکتا ہے جہاں دو وقت کی روٹی کے لیے جسمانی مشقت نہ کرنی پڑتی ہو۔ جس شخص کو روزانہ پتھر توڑ کر رزق کمانا پڑتا ہو وہ بیچارہ یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ اپنے حق کے لیے کہاں اور کیسے آواز بلند کرے۔ تاہم یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر تاریخی حقائق کے ساتھ پھر کبھی بات کی جائے گی کہ آیا یہ مفروضہ درست بھی ہے یا نہیں۔
نوم چومسکی کا پانچواں قول فلسفیانہ ہے اور میرا پسندیدہ ہے۔ ہم روزانہ مختلف فیصلے کرتے ہیں، اِن فیصلوں کی بنیاد وہ معلومات ہوتی ہیں جو ہماری دسترس میں ہوتی ہیں، لیکن جیسا کہ چومسکی نے کہا کہ یہ دنیا بے حد پُراسرار ہے اِس لیے ہمیں کبھی بھی یہ کامل علم نہیں ہو سکتا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور میں آ جائے گا۔ اِس دنیا کی پیچیدگی سے گھبرانے کی بجائے اگر ہم اِس حقیقت کو قبول کر لیں کہ یہ ایک گورکھ دھندا ہے تو کم از کم ہمیں آئے روز لوگوں کے رویوں اور زندگی میں پیش اچانک آنے پیش آنے والی مصیبتوں پر مایوسی نہیں ہوگی، بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ مایوسی تو شاید ہوگی، حیرانی نہیں ہوگی۔ دوسری صورت میں ہم حیران و پریشان رہیں گے اور اپنے مصائب کا موازنہ کسی دوسرے شخص سے کرنے کی غلطی کریں گے، اور یہ وہ صورتحال ہوگی جہاں ہم اُس دوسرے شخص کے ذہن کا چربہ بن جائیں گے۔
آپ سوچ رہے ہوں کہ اِن پانچوں اقوال کا آپس میں کیا تعلق ہے تو آپ درست سوچ رہے ہیں، اِن کا آپس میں سوائے اِس کے کوئی تعلق نہیں کہ یہ سب باتیں مختلف اوقات میں چومسکی نے کیں۔ جس طرح غزل کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے اور لطف دیتا ہے اُسی طرح آپ اسے نوم چومسکی کہ غزل سمجھ کر لطف لیں، پچانوے برس کا یہ چراغ پھڑپھڑا رہا ہے، نہ جانے کب بجھ جائے۔


