مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا


1981، 83، 85 میں سی ایس ایس کے تین ناکام امتحانوں کا ریکارڈ قائم کرنے کے باوجود اپنا یہی ماننا تھا کہ مجھ جیسے لائق امیدوار کا، کے پی میں پایا جانا تو ممکن ہی نہیں جبکہ پاکستان میں اپنے جیسے بس خال خال ہی ہوں گے۔ لہذا ہو نہ ہو نظام میں کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ اس کی تصدیق بھی خود بخود ہی ہو گئی جب میرا وہ دوست بھی اس امتحان میں کامیاب ہو گیا جو اس کے آغاز سے پہلی رات خواہشمند تھا کہ اسے وی سی آر پر شیام بینیگل کی کوئی آرٹ فلم اگر دکھا دی جائے تو صبح بہتر پرفارمنس کا مظاہرہ کرے گا۔ میں نے اس کے بعد اس کے امتحان کے دوران میری طرف آنے پہ پابندی لگا دی تھی۔

1983 تک امیدوار کی پولیس تصدیق کی خاطر ایف پی ایس سی آبائی تھانے میں کاغذ بھیجا کرتا تھا۔ جبکہ میں نے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ آبائی علاقہ اس وقت چھوڑا تھا جب میں چوتھی جماعت کا طالب علم تھا۔ تب سے راولپنڈی میں صادق آباد تھانہ کی حدود میں سکونت تھی۔

لگتا ہے پھر کسی سیانے نے کہا ہو گا کہ اگرچہ عارضی پتے کی اصطلاح آپ کو اسی طرح پسند نہیں ہے جیسے اس زندگی کے عارضی ہونے کا آئیڈیا لیکن تصدیق کے لیے عارضی پتہ کو ترجیح دیں تو بہتر ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے محکموں میں سیانے کم تعداد میں ہوتے ہیں۔ اگر ان کی تعداد زیادہ ہو جائے تو نظام من پسند انداز میں چلایا نہیں جا سکتا۔ سیانوں کے مشورے کو آسانی سے اس لیے مان لیا جاتا ہے کی ایسا نہ ہو خفا ہو کے کوئی نیا کٹا کھول دیں۔

1985 میں یہ کاغذات صادق آباد تھانے بھیجے گئے۔ جہاں سے ایک اہلکار نے گھر آ کر اطلاع دی کہ مجھے تھانے آنا ہو گا۔ میں سہ پہر کو وہاں پہنچا تو تھانے میں ایک حوالدار اور تین سپاہی موجود پائے۔ میرا تعارف کرانے پر انہوں نے بڑی گرمجوشی سے مبارکباد دی کی میں ایک بڑے امتحان میں کامیاب ہو گیا ہوں۔ بس مٹھائی کھلائیں ( یعنی سو دو سو روپے ٹکائیں ) آپ کے چال چلن کی اے ون رپورٹ بھیج دیں گے۔ آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ واقعہ مجھے چند روز قبل تب یاد آیا جب کے پی، کے آئی جی صاحب نے 2023 میں پولیس لائن پشاور کی مسجد میں بڑے جانی نقصان کا باعث بننے والے دھماکے کے سہولت کار کے بارے میں یہ تکلیف دہ بات بتائی کہ وہ ایک پولیس کانسٹیبل تھا جو 2019 میں بھرتی ہوا تھا۔

میں نے 1987 میں پی سی ایس میں کامیابی کے بعد پولیس میں ڈی ایس پی تا ڈی آئی جی انتیس سال گزارے۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی تامل نہیں کہ میرا شمار ان افسرانِ بالا میں کبھی بھی نہیں رہا جو تگڑے ہونے کا لیبل رکھتے ہوں۔ اس کے باوجود اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق میں نظام میں بہتری لانے کی کوشش کرتا رہا۔

اپنے پولیس تصدیق کے نظام کے روایتی اور ناقص ہونے کا بھرپور احساس اس وقت ہوا جب میں نے کوسوو امن مشن میں 2000 تا 2002 کوسوو پولیس سروس کے بھرتی کے ریجنل ہیڈ آفس میں کام کیا۔ وہاں پولیس تصدیق کو بیک گراؤنڈ چیک کا نام دیا گیا تھا۔ ہم امیدوار کے محلے، سکول/ کالج اور کام کی جگہ پہ جا کر اس کے چال چلن کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے تھے جن کی بنیاد پر پولیس کے لیے اس کی موزونیت کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ اس تجربے کو تقریباً ربع صدی گزر چکی ہے۔ اب حالات اقبال کے بقول ”محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی“ والے ہو چکے ہیں اور فکرِ تازہ کے متقاضی ہیں۔

میری تین دہائیوں پر پھیلی پولیس سروس جس کا بڑا حصہ کے پی کے میں گزرا، اس دوران بے شمار ایسی تبدیلیاں دیکھیں جنہیں بدلتے تقاضوں کے زیرِ اثر اپنایا گیا۔ جیسے آئی ٹی کے نظام کو اپنانا۔ یا پھر جانثاری کے بے نظیر جذبے کے ساتھ اس آگ کے دریا کا سامنا کرنا جو دہشت گردی کے ریلے کے ساتھ ابھرا۔ دیکھا جائے تو ان شیر دلیروں کی تربیت بھی ابتداء میں ایسی نہیں ہوئی تھی لیکن اپنے جسم و جاں کی ڈھالوں کے ساتھ ایسے ڈٹے کہ اس دعویٰ کو سچ کر دکھایا۔

تیرے بیٹے تیری آبرو کے لیے
یوں جلائیں گے اپنے لہو کے دیے
مسکرائے گی تاریکیوں میں کرن
اے وطن

جب سے جنونیوں کا مذہبی چورن فروشی کا کاروبار چمکا ہے انہوں نے پولیس لائنز اور فوجی بارکوں میں بھی خفیہ فرنچائزیں کھولنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ فرنچائز ملائی و پیری کے کشتوں سے استفادہ کرتے جوان ہوئے۔ ملازمین میں جو آخرت میں کامیابی کے شارٹ کٹ کے متلاشی ہوتے ہیں، بہت مقبول ہوتے ہیں۔ راولپنڈی میں صدر پرویز مشرف پر جھنڈا چیچی کے مقام پر ہونے والے حملے کے تمام کردار ایسی فرنچائزوں سے دیوانے بنائے گئے باوردی مجاہد تھے جو فوج اور فضائیہ کی بیرکوں میں ایسے کھولی گئیں کہ

خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے

کالج میں ہمارے اردو کے پروفیسر کہا کرتے تھے کہ دوسروں پہ ہنسنا بڑی بات نہیں لیکن اپنے آپ پہ ہنسنا بہت بڑی بات ہے۔ اردو کی کلاسیکی شاعری میں اس ہنر کا مظاہرہ صرف غالب نے کیا ہے۔ یوں یہ بھی اس کی یکتائی کا ایک پہلو مانا جاتا ہے۔

یہاں مجھے ایک دفعہ ایک مرنجاں مرنج اے ایس پی کی کہی ہوئی شگفتہ بات یاد آ رہی ہے۔ ( وہ آج کل ایف آئی اے کے وڈے افسران میں سے ایک ہیں ) بولے کیا ستم ہے کہ اے ایس بھرتی ہونے والے ہم لوگ ریٹائرڈ تھانیدار کے طور پر ہوتے ہیں۔

اے ایس پی ہوں یا کمیشنڈ افسر، درحقیقت یہ وہ لیڈر ہوتے ہیں جنہوں نے بدلتی رتوں کا مقابلہ نئی حکمت اور عزم کے ساتھ کرنے کی راہ کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ تھانے کے رجسٹروں سے مکمل شناسائی اور افسران میسں میں نشست و برخواست کے آداب اب ویسے ضروری معاملات نہیں رہے، خیال رہے، وگرنہ

ایسا نہ ہو کہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو

Facebook Comments HS

One thought on “مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

  • 25/11/2024 at 9:00 شام
    Permalink

    جھنڈا چیچی تو اللہ کا کرم تھا کہ لطیفہ بن گیا۔ اس سے چند سو گز بعد پھر اس سڑک پر پٹرول کے پمپ کے سامنے اس سے زیادہ بھیانک حملہ ہوا۔ جھنڈا چیچی والے اتنے طاقت ور تھے کہ بعد میں قید کے سیل سے بھی ایسے نکل گئے جیسے جن دیوار پار کرجاتا ہے ظاہر ہے اپنے ہی ہمراہی نگراں ہوں تو خوف کیسا۔ لیکن پولیس میں واقعی سلیپرز کو ڈھونڈنا خاصہ مشکل کام ہے۔ بالخصوص جب لوگ چھوٹی موٹی مالی کرپشن میں بھی ملوث ہوں۔

    میرا بس چلے تو سب سے پہلے فوج اور پولیس میں الہدی والوں پر پابندی لگائی جائے پھر ساتھ تبلیغیوں پر۔ لیکن جب چار آنے کی تنخواہ دے کر باوردی لوگوں کو جذبہ شہادت پر مائل کرنا ہو تو مجبوراً ان سے الگ بھی نہیں ہوا جاسکتا۔
    ایف آئی اے کا ہیڈکوارٹر ہو یا جی ایچ کیو کے اندر گھس جانا۔ اندر والے اگر ملے ہوں تو سب کچھ ممکن ہے۔
    میرا ہمیشہ ماننا ہے اچھا تھانیدار وہ ہے جو خود زبردست چور رہا ہو۔ یعنی چور سے دو ہاتھ آگے سوچتا ہو۔ دہشت گردی میں یہی ہونا چاہئے کہ آپ آگے کی سوچیں۔ جب کہ ہمارے یہاں حال ہے کہ سانپ گزرنے کے بعد لکیر کو پیٹتے ہیں۔
    اللہ تعالی ہی ہم پر رحم کرے۔

Comments are closed.