ڈائنو سار کی ڈائری سے ایک ادھورا صفحہ


ایلیٹ اور ایلیٹزم کی بھینٹ چڑھ جانے والی پاکستانی بہاری بین الاقوامی شاعرہ کے نام

پاکستان میں سماج، شناخت، کلاس، معاشی حیثیت اور فکری اڑان سے جڑے سمجھوتوں، گردابوں اور عذابوں کو صرف وہی پوری طرح جان سکتے ہیں جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتے ہوں اور زندگی کو، اس کی تمام رعنائیوں کو اپنی گرفت میں بھی رکھنا چاہتے ہوں۔

یاد کی دھند میں گزرے ماہ و سال میں ایسے انسانوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں تو 1978 کی ایک دوپہر ایک وینٹیج کی طرح سامنے نظر آ جاتی ہے۔ میں اسکول سے آئی تو دیکھا کہ ہمارے گھر ایک بہت ہی کیوٹ سی لڑکی ساری میں ملبوس موجود تھی۔ ایک مسکراتے چہرے والے صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔ پتہ چلا کہ یہ پیارا سا کپل ہمارے سادے سے گھر میں لنچ پر مدعو ہے۔ ابو جان نے مجھ کو دیکھ کر کہا کہ اپنی نظموں والی کاپی لے آؤ، اس کاپی سے ایک صفحہ پھاڑا اور کہا کہ ان سے آٹوگراف لو، یہ اردو کی سب سے بڑی اور مقبول شاعرہ ہوں گی۔ وہ پہلی بار اسلام آباد آئی تھیں انڈیا کا ویزہ لینے۔

میں بہت کچھ لکھنا چاہتی ہوں لیکن پھر سوچتی ہوں، کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

وہ مختصر سی حیات میں بے شمار کام اور اعلیٰ درجے کا علمی اور تخلیقی کام کر کے اس دار فانی سے جا چکی ہیں۔ ان کے مشاعرے، ان کے انٹرویوز، ان کی میزبانی میں ٹی وی پروگرامز، ان کے اردو کالمز، ان کی کتابیں، ان کے کلام پر گائی ہوئی نظمیں اور غزلیں، ان کا درس و تدریس سے وابستہ کیریئر، ان کا سی ایس ایس کرنا، پاکستان کسٹمز سروس کے بارہ سال، ان کے فل برائٹ اسکالر شپس، ان کا ہارورڈ سے پڑھنا، سنگل مدر ہونا، آج بھی اہل ذوق اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔

زندگی نے ان سے ان کی ذہانت اور ظاہری حسن کا خراج کس طرح لیا، یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں یا اس کا پورا ادراک رکھتے ہیں۔ ان کی وہ نظمیں اور غزلیں جو ان دکھوں اور کڑواہٹ کی عکاس ہیں، وہ یا تو عام قاری سے اوجھل ہیں یا اس طرح سے ہٹ نہیں ہیں جیسے کہ ان کی وہ شاعری جو بے حد رومانوی ہے اور جس کو خوبصورت میوزک اور گلوکاری نے زبان زد عام بھی کیا اور دوام بھی بخشا۔ وہ بہت خاص تھیں، افسوس ایلیٹ کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ بہار کی، کراچی کی، پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ شاعرہ۔ کاش! اس شہرہ آفاق غزل کے اس شعر کے معنی ’اذیت‘ اور دکھ کو بھی سمجھا گیا ہوتا

تیرا پہلو تیرے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی

مگر کیوں سمجھا جائے جب فیمینزم اور صنفی امور پر کچھ گروہوں کی اجارہ داری ہو اور بظاہر سنجیدہ فورمز، ماڈرن خواتین اور بے جان بڈھے (عمر کا طعنہ مردوں کو بھی دیا جا سکتا ہے ) بھی جنسی لذت کو انٹلیکچولائز کر کے توجہ حاصل کرتے ہیں۔
ان کی نظم مسفٹ کتنے کو یاد ہے؟ مارکیٹ کی ڈیمانڈ ہاٹ ہاٹ مال ہے

ان کی سی ایس ایس کرنے سے پہلے کی نجی زندگی کی سچائی پر مبنی کی جھلک ان خطوط میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جو انھوں نے اردو کے ممتاز ادیب و نقاد پروفیسر نظیر صدیقی کے نام بھیجے۔ وہ میرے مرحوم والد بھی ہیں اس حوالے سے بھی بہت سی باتوں پر لکھنا زیب نہیں دیتا۔ بس اتنا ضرور لکھوں گی کہ پروین ایک دردمند دل رکھنے والی زندگی سے محبّت کرنے والی پیاری سی لڑکی تھی۔ جس کو شاید اس پہیلی جس کو نصیب کہتے ہیں نے پیریک فتح کا روٹ دے دیا۔ یہ بے حد خطرناک اور المناک ہوتا ہے۔ حسن، ذہانت، ایمبیشن اور غربت کا امتزاج بہت ہولناک ہوتا ہے۔

پروین شاکر کی ایک نظم ”چین ری ایکشن“ جو خودکلامی میں شامل ہے، ایسی نظم ہے جو صرف میں سمجھ سکتی ہوں اور میں بھی ایک عمر گزار کر ہی سمجھ پائی۔ اور کسی کو بھی اپنا بے حد ذاتی دکھ اور کرب بتا نہیں سکتی، اور اگر بیان کرنے کی کوشش بھی کروں تو نہ کوئی یقین کرے گا بلکہ بہت سے ان دیکھے مزید خسارے اور مشکلات کا یقین ہے۔

پروین نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے دور سے پہلے ہی جان لیا کہ سرپرستی اور طاقت کی اپنی الگ ہی تاثیر ہے اور سالک بننے میں بھی کیا مضائقہ ہے؟ یہ سب بھی بہترین تخلیقی کام کو بھی پذیرائی دینے کے لیے ناگزیر ہیں۔

سوچتی ہوں پروین اگر اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں نہ ہوتیں، ان کو عمر کی حد میں رعایت نہ ملتی، وہ افسر نہ بن پاتی، تو اسلام آباد جس کا فیصلہ ملک کے لیے برباد ہونے والے بہاریوں کے لیے ظالمانہ ہے، کبھی بھی ایک بہارن کے نام پر مارگلہ روڈ سے منسلک سڑک نہ منسوب کرتا، وہ سڑک جہاں وہ 1994 میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ ”حادثے“ کا شکار ہو کر دنیا کے اسٹیج سے اوجھل ہو گئیں۔

شکریہ کامران لاشاری صاحب، آپ نے اپنی سول سروس کی کولیگ کے نام پر سڑک کا نام رکھ دیا۔ اشرافیہ کی اپنی الگ کلاس ہے اور اس کا بہاری ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اب ایلیٹ ہیں۔

خاص لوگ اشرافیہ اپنے اسٹائل میں ان کو یاد کرتے ہیں اور فوائد بھی حاصل کرتے ہیں۔ عام لوگ اپنے رنگ میں ان کو دیکھتے ہیں۔ کانوں میں ”بالی پتہ“ (بہار کا زیور ہے ) گوری کرت سنگھار کے گیت پر اب بھی مہندی پر جھوم جھوم جاتے ہیں۔ سیاسی بیاں بازی میں ”بات تو سچ ہے، بات ہے مگر رسوائی کی“ ان کا یہ مصرعہ ضرب المثل بن چکا ہے :

بہت کانٹے دار راہ پر چلیں، مگر لوگوں کو اس سے کیا؟ آپ نے دان بھی تو دے دیا۔
سیدہ پروین شاکر اللہ آپ کے درجات میں اضافہ کرے اور آپ کی اور شاید کئی اور خواتین کی زندگی کو تباہ کرنے یا کوشش کرنے والے تمام صاحبان سے خود انتقام لے۔

Facebook Comments HS