خالد احمد: Sleeveless but Seamless Editor


یادش بخیر دلدار پرویز بھٹی مرحوم آفس کی سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوتے تو ہمیشہ ایک ہی نعرہ مستانہ بلند کرتے، ہاں بھئی کہاں ہیں آپ کے سلیو لیس ایڈیٹر؟ مکرمی خالد احمد صاحب اپنے کیبن کے دروازے سے جھانک کر کہتے، آئیے! آئیے! بھٹی صاحب کیسے ہیں؟ کیا خبریں ہیں؟ پھر دونوں صاحبان کے درمیان جاندار گفتگو شروع ہو جاتی اور ہم علم و ادب کے موتی چنتے رہتے۔ بات ہے ہفتہ وار آج کل کے دور کی۔ مال روڈ پر واقع وین گارڈ بکس کی بالائی منزل پر ایک ہی چھت کے نیچے دو مختلف الخیال جریدوں کے آفس تھے۔ بس راہداری کا درمیانی دروازہ دو زبانوں کی ترجمانی کرنے والے صحافیوں کے درمیان حد فاصل تھا۔

جناب محترم خالد احمد صاحب سے باضابطہ تعلق اردو ہفتہ روزہ آج کل کی نوکری کے درمیان ہی بنا جو ان کے دم آخر تک خوب نبھا۔ محترم نجم سیٹھی صاحب اور محترمہ جگنو محسن صاحبہ کے ساتھ تعلق تو انگریزی جریدے ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز کے دنوں سے تھا بس پھر اسی خوب صورت، خوب سیرت اور پڑھی لکھی جوڑی کے توسط سے خالد احمد صاحب کے ساتھ بھی ناتا جڑ گیا۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ میں روزنامہ نوائے وقت لاہور سے روزنامہ پاکستان اسلام آباد کی ملازمت سے وابستہ ہوا، اس کامیاب روزنامے کا اجرا بھی کیا۔ لاہور سے گئی ٹیم کا اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کی عقبی دیوار کے ساتھ واقع ایم این اے سوئیٹس میں اس وقت کے رکن قومی اسمبلی جناب اکبر علی بھٹی مرحوم (کیا سادہ دل انسان تھے) کے پرتعیش فلیٹ ہی میں اپنا بسیرا تھا۔

ایک روز دوپہر میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے ایڈیٹر جناب محترم اظہر سہیل مرحوم (اپنی ذات میں انجمن اظہر سہیل صاحب بھی متنازع ہی رہے لیکن بذلہ سنج تھے، عالی مرتبت آغا شورش کاشمیری کے شاگردوں میں سے تھے، اس لئے انشا پردازی میں بھی یکتا تھے۔) نے اپنے آفس بلایا اور ایک صاحب ذی وقار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دریافت کیا، کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟ میں نے صوفے پر بیٹھے صاحب کی طرف دیکھا اور پہچاننے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ آواز ابھری، پارٹنر اتنی جلد بھول گئے کیا؟ میں شکل تو نہ پہچان پایا، البتہ آواز کے زیرو بم نے کئی پچھلی یادیں تازہ کر دیں۔ حیرانی سے استفسار کیا، سیٹھی صاحب؟ اظہر سہیل صاحب اور نجم سیٹھی صاحب، دونوں مسکرائے اور پھر ڈھیر ساری باتیں شروع ہو گئیں۔ فرائیڈے ٹائمز کے دنوں میں سیٹھی صاحب شیو بنایا کرتے تھے لیکن اس بار جو دیکھا تو جناب داڑھی میں تھے، اس لئے پہچاننے میں دیر ہو گئی تھی۔ باتوں باتوں میں سیٹھی صاحب نے لاہور سے اردو کا ہفت روزہ جریدہ نکالنے کا ارادہ ظاہر کیا اور مجھے لاہور آ کر ملنے کی دعوت بھی دی۔

روزنامہ پاکستان اسلام آباد سے استعفی دیا اور لاہور سدھارا۔ محض اتفاق جانیے کہ محترمی قدرت اللہ چودھری صاحب مرحوم سے ہلکے سے اختلاف نے استعفی دلوایا اور قدرت نے نئی راہیں پیدا کر دیں۔ (چودھری صاحب منجھے ہوئے صحافی تھے لیکن قوت فیصلہ کی کمزوری نے شخصیت میں خاص قسم کا خوف پیدا کر دیا تھا)۔ بیروزگاری کے دن تھے، خیال سیٹھی صاحب کی طرف جا نکلا۔ ایک روز وین گارڈ بکس پر جا پہنچا۔ نجم سیٹھی صاحب سے عرض گزاری، وہ کرسی سے اٹھے، مجھے ساتھ لیا اور ایک دروازے سے گزر کر ہفت روزہ آج کل کے دروازے میں داخل ہوتے ہوئے خالد صاحب سے کہا، خالد! محمد شجاع الدین ہیں، ہمارے ساتھ فرائیڈے ٹائمز میں کام کر چکے ہیں، دیکھ لیجیے گا؟ خالد صاحب نے موٹے شیشے کی عینک کے اوپر سے مجھے دیکھا، سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور صرف یہی پوچھا صحافت شوق سے کر لیں گے؟ میرے اثبات میں سر ہلانے پر اپنی ٹیم میں بخوشی شامل کر لیا۔ اس طرح سیٹھی صاحب نے سفارش کی نہ خالد صاحب نے سفارش مانی۔

اردو ہفت روزہ آج کل کی ٹیم کا حصہ بنا تو خالد احمد صاحب کی شخصیت کھل کر سامنے آئی۔ زندگی کھلی کتاب کی مانند دیکھی، منافقت اور دروغ گوئی ان کی ذات کا حصہ نہیں تھی۔ آفس کے درمیانی کمرے کی چار دیواروں کے ساتھ ساتھ عبدالقیوم صدیقی صاحب، شیراز راج صاحب، مجاہد حسین صاحب، عندلیب صاحبہ، سلیم خان گمی صاحب اور میری میزیں، کرسیاں تھیں، خالد احمد صاحب کا اپنے چھوٹے سے کیبن میں دل گھبراتا تو ٹی شرٹ کی آستینیں کندھوں تک چڑھائے کمرے کے عین وسط میں آ بیٹھتے اور پھر علمی، ادبی، سیاسی و مذہبی الغرض ہر موضوع سخن پرزور دار بحث شروع ہو جاتی۔ بذلہ سنج دلدار پرویز بھٹی اسی نسبت سے انہیں سلیو لیس ایڈیٹر پکارتے تھے۔

انگریزی کی نسبت اردو صحافت سے وابستہ صحافی برادری کا ایک حلقہ ہلکی پھلکی ہیرا پھیری کو معیوب نہیں سمجھتا، اسے احساس کمتری کہیے، قلیل آمدنی جانیے، تنخواہوں کی عدم ادائیگی مانیے یا پھر ایک علت کہ آفس کے کاؤنٹر پر کسی دوسرے کے نام پر آنے والا کھانے کا دعوت نامہ بھی اکثر اوقات اچک لیا جاتا ہے۔ انگریزی صحافت میں یہ عادت بد اگر ہے بھی تو کم ضرور ہے۔ سارک کے زیراہتمام سنٹر فار ڈیفنس سٹڈیز نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے پر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور باہمی اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لئے بھارت میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پاکستان میں جناب پرویز ہود بائی اس کے روح رواں تھے۔ ہود بائی صاحب ایک روز آفس آئے اور خالد احمد صاحب سے ملاقات میں ہفت روزہ آج کل کی طرف سے کانفرنس میں نمائندہ بھجوانے کے لئے نام کا کہا تو انہوں نے بلا تامل میرا نام لے دیا۔ کیا پدی؟ کیا پدی کا شوربہ؟ اور پھر کہاں راجہ بھوج؟ کہاں گنگو تیلی؟

ایٹمی عدم پھیلاؤ کے سی بی ایمز کے بین الاقوامی معاملے کی کانفرنس میں مجھ ایسے غیر ایٹمی صحافی کا بھجوایا جانا کچھ سمجھ نہ آیا؟ لیکن خالد احمد تو پھر خالد احمد تھے، میرے استفسار پر بولے آپ، ہفت روزہ کے عالمی صفحات کی ادارت کرتے ہیں، لہذا آپ ہی کا حق ہے۔ تقریب پاکستان میں ہو، بھارت میں یا خطے کے کسی بھی ملک میں؟ یہی وہ صحافتی ایمانداری ہے جو انہیں دیگر صحافیوں سے ممیز کرتی تھی۔ خود بیرونی دورے پر جانے کے بجائے مجھ ایسے جونیئر کا نام تجویز کرنا ہی پیشہ ورانہ اصول کی پاسداری ہے۔ پیر و مرشد سیدی عباس اطہر شاہ صاحب مرحوم و مغفور میرے صحافتی کیریئر میں پہلے شخص تھے جو نوآموز صحافیوں کے لئے بھی اس حد تک حسن ظن رکھتے تھے کہ اپنی تخلیق کردہ شہ سرخی بھی ان کے سامنے رکھ دیتے اور اس پر کھلی بحث کی دعوت دیتے۔ الغرض بندہ حق خالد احمد کی بدولت ہی مجھے شعبہ صحافت کے اوائل دنوں میں ایک عالمی تقریب کا حصہ بننے کا موقع ملا۔ یہ الگ بات کہ بیروزگاری آئی تو یہی تمغہ نوائے وقت میں میری دوبارہ نوکری کے چانس کو لے ڈوبا کیونکہ اس وقت کے ایک مدیر اعلی نے میری عرضی کے حاشیہ میں لکھا، صاحب درخواست بھارت کا دورہ کر کے آئے ہیں، ان کی حب الوطنی پر شک ہے۔ تفصیل پھر کسی موقع پر سہی، ان شا اللہ۔

خالد احمد صاحب کو جب بھی دیکھا ٹریک سوٹ اور جوگرز میں دیکھا۔ ہلکے براون رنگ کا کھدر کا شلوار کرتہ اور پشاوری چپل، اسی دن پہنا جاتا جب انہوں نے کسی سیمینار میں شرکت کرنا ہوتی۔ وہ اپنے کندھے پر بڑا سا سفری بیگ ضرور اٹھائے رکھتے، جس میں یہ موٹی موٹی کتابیں ٹھسی ہوتیں۔ شاید کتابیں ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ مہینے دو مہینے بعد لکشمی میں بسم اللہ چانپ پر ضرور محفل جمتی۔ ہلکے پھلکے مزاح کے ساتھ محفل میں ادب، فلم، فن اور دیگر موضوعات پر باتیں بھی چلتی رہتیں۔ قیوم، مجاہد اور شیراز کی اٹکھیلیاں محفل کو کشت زعفران بنا دیتیں (شرارتی تگڑم کے ناموں کے ساتھ اس بار صاحب کا صیغہ دانستہ نہیں لگایا کہ کشت زعفران کا مزہ جاتا رہتا ) ۔ محفل کے اختتام پر سبز کشمیری چائے کا دور لازمی جزو ہوتا۔ افسوس! پچھلی سردیوں کی محفل آخری ثابت ہوئی۔ شیراز راج صاحب سات سمندر پار سے آئے، عبدالقیوم صدیقی صاحب حکمرانوں کے شہر اسلام آباد سے پہنچے، بس میں اور صابر نذر صاحب لاہوریے نکلے۔ خالد احمد گزر گئے، اللہ محفل یاراں کے باقی دوستوں کو عمر خضر عطا کرے۔

چند سال ہفت روزہ رہنے کے بعد آج کل، شام کے اخبار میں ڈھل گیا تو صحافت کے کئی ہیرے نصیب ہوئے جن کے ساتھ عزت و احترام کا رشتہ خوب نبھ رہا ہے۔ اسی عرصے میں 3 اصحاب گدڑی کے لعل ثابت ہوئے، نوید چودھری صاحب، میاں عابد صاحب اور صابر نذر صاحب۔ تینوں یکتائے روزگار ہیں۔ نوید چودھری صاحب دھڑے کے پکے ہیں، میاں عابد صاحب سچی دوستی کے امین اور صابر نذر صاحب کینوس کے بے تاج بادشاہ۔ اللہ، اللہ خالد احمد صاحب کی یاد کہاں سے کہاں لے آئی۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

Facebook Comments HS