چوری پکڑی گئی

آفس میں داخل ہوا تو دھواں دھار بحث جاری تھی۔ جس طرح صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی طرح خبروں کے دفتر میں خبروں پر حاشیہ آرائی لازم و ملزوم ہے۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیٹیں چوری ہو گئی ہیں۔ ہر ایک اسی پر طبع آزمائی کر رہا تھا۔ کوئی سچ تو کوئی جھوٹ ثابت کرنے میں اپنے اپنے دلائل کے انبار لگا رہا تھا۔ لازم تھا کہ سیاسی معرکہ آرائی میں،

Read more

آکاس بیل

باجی پہلے مجھے مہندی لگائیے! ایک بچی ہمک کر بولی، دوسری اٹھلائی، نہیں پہلے مجھے! میری خالہ زاد غزل کی شادی کی تقریبات زور شور سے جاری تھیں، رات بھی کافی حد تک بھیگ چکی تھی، شادی شدہ خواتین، لڑکیوں اور بچیوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔ وہ تھی کہ اپنے کام میں مصروف ہر اک کی خواہش پر مسکرا دیتی اور سامنے بیٹھی لڑکی کے نرم گداز ہاتھوں کے دونوں اطراف، گوری چٹی کلائیوں، حد یہ کہ مخملیں پاؤں

Read more

خالد احمد: Sleeveless but Seamless Editor

یادش بخیر دلدار پرویز بھٹی مرحوم آفس کی سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوتے تو ہمیشہ ایک ہی نعرہ مستانہ بلند کرتے، ہاں بھئی کہاں ہیں آپ کے سلیو لیس ایڈیٹر؟ مکرمی خالد احمد صاحب اپنے کیبن کے دروازے سے جھانک کر کہتے، آئیے! آئیے! بھٹی صاحب کیسے ہیں؟ کیا خبریں ہیں؟ پھر دونوں صاحبان کے درمیان جاندار گفتگو شروع ہو جاتی اور ہم علم و ادب کے موتی چنتے رہتے۔ بات ہے ہفتہ وار آج کل کے دور

Read more

صحافی کی دیہاڑی اور ماں جی کے 33 روپے 33 پیسے

وہ تو بھلا ہو، قسمت اچھی تھی۔ ماں جی پنشنر تھیں۔ والد صاحب مرحوم کی پنشن نے آخری دم تک ان کی خودداری اور خوداعتمادی کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی۔ ہم بہن بھائی جب مل بیٹھتے اور بات مذاق ہی مذاق میں خرچے پانی کی طرف نکلتی تو بڑے دھڑلے سے کہتیں، اللہ بخشے پٹواری صاحب کو۔۔ بال بچوں سمیت کسی کا محتاج کر کے نہیں گئے۔ گھر کا کرایہ آتا ہے، پنشن کے پیسے ملتے ہیں۔ زندہ تھے تو

Read more

خبر لیجئے، دہن بگڑا

  بچپن سے ہی ادب کا قرینہ پڑھتے اور سمجھتے آئے۔ بندہ آپ، جناب کہنا سیکھ لے تو جی، حضور سننے کی خواہش کا دل میں چٹکیاں بھرنا قدرتی امر ہے۔ آداب کے اس سلیقے کی عادت کچھ ایسی پختہ ہوئی کہ طبیعت، اب بےادبی کیطرف مائل ہو کے ہی نہیں دیتی۔ بال بچے دار ہوئے تو بزرگوں کی دی گھٹی نے کام دکھایا، پالنے میں لیٹے بچوں کو بھی ہمیشہ آپ کہہ کر ہی مخاطب کیا۔ بچے کہ اب

Read more

بے روزگار صحافیوں کے لئے مشورہ

آج ملک بھر کے صحافی بھائی اپنے حصے کا رزق بچانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔۔۔۔ یہ رات ہم سب پر بہت بھاری ہے لیکن میں آنے والے کل کی روشن صبح تلاش کرتا ماضی کے دھندلکوں میں کہیں کھو گیا ہوں۔۔۔۔ نویں جماعت کے طالبعلم کا اعتکاف بیٹھنا فی زمانہ کچھ عجیب ہی نہیں معیوب بھی لگتا ہے۔۔۔ لیکن بات آج سے تقریبا چالیس پنتالیس برس پرانی ہے جب مسجد کو محلے کا ایک حصہ گردانا جاتا تھا

Read more

جواد نظیر کا آخری نوٹس

افسوس میں آج اپنی صحافتی زندگی کی دوسری کتاب منوں مٹی تلے دفن کر آیا ہوں۔ سینہ ہے کہ شدت غم سے پھٹا جا رہا ہے، اسی لئے مٹی کا مادھو بنا، مجسم بت کی طرح ساکت کھڑا ہوں۔ ابھی شہنشاہ صحافت سیدی عباس اطہر کا غم غلط نہیں ہو سکا تھا کہ تاجدار صحافت محبی جواد نظیر کے نحیف و نزار جسد خاکی کو کاندھا دینا پڑ گیا۔ سیدی شاہ جی میری صحافتی زندگی کی پہلی کتاب کا درجہ

Read more

کچھ ذکر قلم مزدوروں کا۔۔۔ نیز یہ کہ بادشاہ ننگا ہے

شجاع صاحب، یقین جانئے اس سے زیادہ برا وقت نہیں آ سکتا، آج کے بعد ہمارے دن بدل جائیں گے۔۔۔۔ میرے بہت ہی پیارے دوست اور ساتھی نے یہ بات کہی تو میں نے مینہ برساتے آسمان کی طرف دیکھتے ہوِئے پھیکی سی مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔۔۔۔ واقعہ لگ بھگ 25 سال پرانا ہے۔ ہم دونوں ایک ہفت روزہ جریدے کے ملازم تھے۔۔۔ میرے پاس دو ٹانگوں کے سوا دوسری کوئی سواری نہیں تھی۔ دوست کی موٹرسائیکل کے

Read more

ماں جی

بیٹا آپ کھڑے ہو جاؤ، آنٹی کو بیٹھنے دو۔۔۔۔ یہ پہلا حکم تھا جو سن شعور کی ابتدائی یادوں میں آج بھی زندہ ہے اور ماں جی کے اس حکم نے ذہن پر کچھ ایسی مہر ثبت کی کہ آخر دم تک تابعداری نہ گئی۔ پلٹ کر جواب دینا کیونکہ اس زمانے کا رواج نہ تھا اس لئے ہر بات پر سرتسلیم خم کئے رکھا یہاں تک کہ بچوں نے چھیڑ بنا لی کہ پاپا تو مما جان سے زیادہ

Read more