خبر لیجئے، دہن بگڑا

  بچپن سے ہی ادب کا قرینہ پڑھتے اور سمجھتے آئے۔ بندہ آپ، جناب کہنا سیکھ لے تو جی، حضور سننے کی خواہش کا دل میں چٹکیاں بھرنا قدرتی امر ہے۔ آداب کے اس سلیقے کی عادت کچھ ایسی پختہ ہوئی کہ طبیعت، اب بےادبی کیطرف مائل ہو کے ہی نہیں دیتی۔ بال بچے دار…

Read more

بے روزگار صحافیوں کے لئے مشورہ

آج ملک بھر کے صحافی بھائی اپنے حصے کا رزق بچانے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔۔۔۔ یہ رات ہم سب پر بہت بھاری ہے لیکن میں آنے والے کل کی روشن صبح تلاش کرتا ماضی کے دھندلکوں میں کہیں کھو گیا ہوں۔۔۔۔ نویں جماعت کے طالبعلم کا اعتکاف بیٹھنا فی زمانہ کچھ عجیب ہی…

Read more

جواد نظیر کا آخری نوٹس

افسوس میں آج اپنی صحافتی زندگی کی دوسری کتاب منوں مٹی تلے دفن کر آیا ہوں۔ سینہ ہے کہ شدت غم سے پھٹا جا رہا ہے، اسی لئے مٹی کا مادھو بنا، مجسم بت کی طرح ساکت کھڑا ہوں۔ ابھی شہنشاہ صحافت سیدی عباس اطہر کا غم غلط نہیں ہو سکا تھا کہ تاجدار صحافت…

Read more

کچھ ذکر قلم مزدوروں کا۔۔۔ نیز یہ کہ بادشاہ ننگا ہے

شجاع صاحب، یقین جانئے اس سے زیادہ برا وقت نہیں آ سکتا، آج کے بعد ہمارے دن بدل جائیں گے۔۔۔۔ میرے بہت ہی پیارے دوست اور ساتھی نے یہ بات کہی تو میں نے مینہ برساتے آسمان کی طرف دیکھتے ہوِئے پھیکی سی مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔۔۔۔ واقعہ لگ بھگ 25 سال پرانا…

Read more

ماں جی

بیٹا آپ کھڑے ہو جاؤ، آنٹی کو بیٹھنے دو۔۔۔۔ یہ پہلا حکم تھا جو سن شعور کی ابتدائی یادوں میں آج بھی زندہ ہے اور ماں جی کے اس حکم نے ذہن پر کچھ ایسی مہر ثبت کی کہ آخر دم تک تابعداری نہ گئی۔ پلٹ کر جواب دینا کیونکہ اس زمانے کا رواج نہ…

Read more