پوچھتے ہیں وہ کہ خالد (احمد) کون ہے؟
خالد احمد پر لکھنے سے پہلے اُن کے مشہور زمانہ کزنوں کا تذکرہ ضروری ہے کیونکہ ایک پھوپھی زاد عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے اور اُس کی رہائی کے لیے ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دوسرا چچا زاد ماجد خان دنیائے کرکٹ میں مائٹی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، اور سیاسی یا کسی دوسرے حوالے سے غیر متحرک ہے۔ خالد احمد رواں سال اٹھارہ نومبر کو اکیاسی برس کی بھرپور زندگی گزار کر زمان پارک لاہور میں انتقال کر گئے۔ سوشل میڈیا اور اِکا دُکا ٹی وی چینلوں نے اُن کی وفات کا تذکرہ کیا جب کہ اُن کے صحافیانہ تعارف کے اصل میدان یعنی اخبارات و رسائل میں شاید کبھی بھی کچھ شائع نہ ہو سکے کیوں کہ پاکستان میں تحریری صحافت خالد احمد سے تقریباً ایک دہائی پہلے باقاعدہ انتقال کرچکی تھی۔ صرف چند ایک اخبار یا رسالے سافٹ کاپی کی صورت میں تیار کیے جاتے ہیں اور اِنہیں کاغذ پر صورت گری کا موقع نہیں ملتا۔
خالد احمد کی زندگی اور عالمانہ صحافت پر لکھنے والے کئی معتبر صحافی اور ادیب موجود ہیں اور جو لکھ بھی رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ اس صورت میں میرے جیسے ہیچمدان کا خالد احمد کے بارے میں لکھنا ایک جسارت کے طور پر دیکھا جائے گا، لیکن میں اُس خالد احمد پر لکھنا چاہتا ہوں جس کے ساتھ ایک مختصر سی صحافتی رفاقت رہی، جو آگے بڑھتی ہوئی ایک پختہ عقیدت میں بدل گئی۔ 1994 میں معروف صحافی جوڑے نجم سیٹھی اور جگنو محسن نے نجانے کس ترنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ ایک اردو ہفت روزہ شائع کیا جائے جس کا نام اور پیشانی کا نعرہ نما جملہ معروف ادیب جناب انتظار حسین نے تجویز کیا۔ ہفت روزہ آج کل کے لوگو کے ساتھ لکھا گیا ”جرات تحقیق کا آئینہ دار ہفت روزہ“ چوں کہ معاصر ہفت روزہ رسائل کا تعارف مذہبی، جہادی اور حب الوطنی کے بلند بانگ آدرش نما نعروں سے مزین تھا اس لیے ہفت روزہ آج کل کو ایک سیکولر یا مذہب بیزار ہفت روزہ خیال کیا جاتا تھا جس کے ایڈیٹرز اور پبلشرز سوچتے انگریزی میں تھے اور لکھتے اردو میں۔ خالد احمد اس سے پہلے انگریزی روزناموں پاکستان ٹائمز، دی نیشن اور فرنٹیئر پوسٹ وغیرہ میں کام کرچکے تھے اور اُن کا بطور انگریزی صحافی تعارف خاصا پختہ ہو چکا تھا اس لے اُن کو اردو ہفت روزہ کے ایڈیٹر کے طور پر تسلیم کرنے والے نہ ہونے کے برابر تھے۔ اُن کی وفات تک اُن کا تعارف کروانے سے پہلے لازمی طور پر یہ کہنا پڑتا تھا کہ خالد احمد انگریزی والے۔ بعض لوگ اُن کو معروف شاعر خالد احمد سمجھتے جنہیں یہ بتانا پڑتا کہ وہ خالد احمد شاعر تھے اور برصغیر کی دو نامور افسانہ نگار خواتین حاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کے بھائی تھے، یہ الگ خالد احمد ہیں جو عمران خان اور ماجد خان کے کزن ہیں۔
بعض سکہ بند صحافی اور ٹی وی اینکر انہیں احمدی قرار دیتے اور ثبوت کے طور پر احمدی خاندان سے تعلق رکھنے والی اُن کی سابقہ اہلیہ کا حوالہ پیش کرتے۔ وہ بالکل نہیں جانتے تھے کہ خالد احمد کا تعلق ایک بریلوی عقیدے کے حامل خاندان سے ہے جب کہ خود خالد احمد کا مذہب اور مسلک علم تھا۔ علم و ادب کے علاوہ خالد احمد کسی عقیدے کے پیروکار نہیں تھے۔ وہ مذہب و مسلک اور عقائد کی تاریخ اور اِن سے جڑی دنیا کے علمی و سماجی رجحانات اور تصورات کے عالم تھے، وہ لسانیات کی بنیادی اکائیوں کی جزئیات کے حافظ تھے اور پون صدی پر محیط اُن کے بے کنار مطالعہ نے اُن کی وہ ذہنی صورت گری کردی تھی جس کی تفہیم ہمارے جیسے کچے پکے سماج میں ممکن نہیں۔

خالد احمد کو ناپسند کرنے والے اُن کی خداداد عالمانہ بصیرت اور صاف بیانی کو آلودہ کر کے دکھانے کے لیے اُنہیں مغرب کا وکیل قرار دیتے، جن کی سادگی زیادہ نمایاں ہوتی وہ خالد احمد کو امریکی ایجنٹ قرار دیتے اور شدید قسم کے زخمی مسلمان عقیدہ مند اُنہیں اسلام دشمن کہنے سے بھی گریز نہ کرتے، لیکن خالد احمد کسی بھی قسم کے اُلجھاؤ یا تنازعے سے آلودہ نہ ہونے کے لیے پیدا ہوئے تھے، وہ اکثر ایسی باتوں پر ہنس دیتے اور اپنا پسندیدہ تکیہ کلام دُہراتے ”بادشاہ“ ہے۔ وہ اپنے مخالفین کو عمران خان سے ننانوے فیصد کم گالیاں دیتے، لیکن دیتے ضرور تھے۔ بعض اوقات وہ بظاہر بہت محترم قرار دیے گئے گردوپیش کے کرداروں کی گوشمالی شروع کر دیتے اور اُنہیں اچھی طرح نہ جاننے والے خاصے حیران ہو جاتے۔
میں نے اُنہیں انتظار حسین، عبداللہ حسین، مظفر علی سید، داود رہبر اور محمد سلیم الرحمن کا بے تابی کے ساتھ انتظار کرتے ہوئے لاتعداد مرتبہ دیکھا ہے۔ وہ اِن پانچ پیاروں کے عشق میں مبتلا تھے اور اپنا شمار اِن کے مداحین میں کرتے۔ خالد احمد کے کے عزیز اور ڈاکٹر مبارک علی کو پاکستان کے بہترین مورخ قرار دیتے جبکہ ڈی ڈی کوسمبی کو قدیم ہندوستان کی تہذیبی تاریخ کا بہترین شارح سمجھتے تھے۔ وہ سرسید کے دیوانے تھے اور اُن کے طرز تحریر کے عاشق۔ خالد احمد کی فارسی دانی نے اُنہیں غالب اور اقبال کا دیوانہ نہیں بنایا اور میں نے عام دانشوروں کی طرح اِنہیں مذکورہ دونوں مشاہیر کے بارے میں متذبذب گفتگو کرتے بہت کم سنا ہے۔ وہ میر تقی میر کے دیوانے تھے اور شبلی نعمانی کی نثر کے رسیا۔ غلام احمد پرویز اور مودودی صاحب کی مفسرانہ چشمک سے لطف لینے والے قاری جبکہ مولانا وحید الدین خان کے متحمل اور داعیانہ طرز تحریر کے معترف۔
ہفت روزہ آج کل میں ایک دن میں نے معروف جہادی جرنیل حمید گُل کی شکر گڑھ میں ’زمین درازی‘ کے بارے میں ایک رپورٹ لکھی تو بہت خوش اور حیران ہوئے۔ جواب میں حمید گُل نے نجم سیٹھی اور اُن کو مجھ سمیت گالیاں اور دھمکیاں دیں تو کہنے لگے کہ حمید گُل ایک زبردست کردار ہے اور تم نے اس کی پاکدامنی پر وار کیا ہے۔ بعد میں میری رپورٹس جب لیاقت علی خان، فاروق احمد لغاری، غلام مصطفیٰ کھر، مولانا الیاس قادری، چوہدری ظہور الہی خاندان، میاں منظور وٹو، آصف زرداری، شریف برادران، سپاہ صحابہ، تحریک جعفریہ، جماعت اسلامی، لشکر طیبہ، طالبان و القاعدہ اور بعض ناقابل مواخذہ قرار دیے گئے فوجی جرنیلوں کے اثاثوں اور کارناموں کو بیان کرنے لگیں تو اُنہیں اس بات پر حیرت ہوتی کہ میں ابھی تک محفوظ کیسے ہوں۔ میرے ملک سے بھاگ جانے پر وہ بہت خوش تھے کہ میں کہیں بھی بیٹھ کر لکھ سکتا ہوں۔ میں شاید بہت خوش قسمت ہوں کہ اُنہوں نے میری چھ کتابوں کا مقدمہ لکھا اور اس سال شائع ہونے والی کتاب کا بیک ٹائٹل لکھا۔
اُنہیں کھابے پسند تھے اور خاص طور پر لکشمی چوک لاہور کی بسم اللہ چانپ کے تکے اور چانپیں۔ لاہور گلبرگ میں ارجنٹینا برگرز کے سہ منزلہ برگر رغبت سے کھاتے۔ قیوم صدیقی، شجاع الدین، صابر نذر، شیراز راج اور میں ہر وقت اس تاک میں رہتے کہ کب خالد احمد کو گھیر کر لکشمی چوک لے جائیں۔ وجاہت مسعود اور تنویر جہاں کے گھر پر اُنہیں کئی مرتبہ سننے کا موقع ملا جہاں وہ تنویر جہاں کے خصوصی طور پر تیار کروائے گئے پکوانوں سے لطف اندوز ہوتے اور سامعین اُن کی گفتگو کا بھی ساتھ ساتھ مزہ لیتے۔ وجاہت اور تنویر جہاں کی بیٹی کامنی کے ساتھ وہ تاریخ عالم پر گفتگو کرتے تو ہم سب حیران رہ جاتے کہ یہ خالد احمد کوئی انسان ہے یا دیو، کوئی موضوع ایسا ہے ہی نہیں جو اس کی دسترس میں نہ ہو۔ تنویر قیصر شاہد اُن کے پسندیدہ صحافی تھے جو ملک کی مذہبی سیاست اور مذہبی جماعتوں پر سند کا درجہ رکھتے تھے۔ ہم سب نے خالد احمد اور تنویر قیصر شاہد کی لاتعداد مرتبہ ایسی زبردست گفتگو سنی ہے جس کو بھلا دینا ممکن نہیں۔ تنویر قیصر شاہد کے بارے میں وہ کہتے کہ یہ ایک زبردست صحافی ہے جس کا دماغ اور سوچ ترقی پسندانہ ہے لیکن یہ رجعت پسندوں کے ساتھ کام کرتا ہے۔ خالد احمد ملکی مذہبی جماعتوں خاص طور پر فرقہ پرست اور انتہا پسند جماعتوں کے بارے میں معلومات اور مطبوعات حاصل کرنے کے لئے ایک معروف جہادی نوجوان کو ماہانہ تنخواہ دیتے تھے۔
کبھی کبھی وہ انگریزی صحافت کے تجربات کا تذکرہ کرتے تو کہتے کہ مجھے امیتاز عالم، امیتاز گُل، محمد مالک اور منیر احمد کی غلط انگریزی نے بوڑھا کر دیا ہے۔ انگریزی رپورٹر رحیم اللہ یوسفزئی کو بہت پسند کرتے اور احمد رشید کے بارے میں اُن کے تاثرات اُتار چڑھاؤ کا شکار رہتے۔ اردو شاعروں کے بارے میں وہ زیادہ بات نہیں کرتے تھے جبکہ کبھی کبھار منیر نیازی کی اپنے گھر آمد اور بے تحاشا شراب نوشی کا واقعہ مزے لے لے کر سناتے۔ خالد احمد کے بارے میں جامع مضمون لکھنے کے لیے ابھی ہمت جمع نہیں کر سکا۔ میرا ارادہ ہے کہ خالد احمد کی اردو صحافت اور اُن کے تصورات کے بارے میں ایک کتاب لکھوں، دیکھیں کب یہ سب کچھ لکھنے کا موقع ملتا ہے۔



اتنا کچھ بتانے کا شکریہ