انصاف کی فراہمی سادہ معاملہ نہیں


انصاف ممکن ہی نہیں۔ سماجی انصاف دراصل وہ خباثت ہے جو ذہین و فطین لوگوں کے جوہر کو ضائع کر دیتی ہے۔ سماجی انصاف میں گدھے گھوڑے ایک بھاؤ بکتے ہیں، دراصل اس میں دوسروں کو ”محروم“ کر دیا جاتا۔ انسانی فعلیت پر سماجی انصاف دراصل انسان کی فعلیت کے دائرہ کار کو محدود کرنا ہے۔ خیال کی منطقی حرکت یعنی جوہر ”دوسری“ پوزیشن پر۔ سماجی انصاف درحقیقت کسی ”دوسرے“ پر تشدد کا نام ہے۔ سماجی انصاف میں ”معیار“ کو حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے، جب کہ مقدار ”مرکز“ میں آ جاتی ہے۔ انصاف ناممکن ہے، کے مقدمے پر قضیہ کرتے ہوئے اسے مثالوں کے ذریعے عیاں کرتے ہیں۔

ایک بندے کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس آتی ہے وہ شخص گھر پر موجود نہیں ہوتا۔ ایک پولیس والا اس کی بیوی سے بڑے گستاخانہ لہجے میں پوچھتا ہے کہ آپ کا شوہر کہاں ہے؟ وہ کہتی ہے مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔ یہ جواب سنتے ہی وہ اس عورت پر گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دیتا ہے۔ گالیوں اس قدر اونچی آواز میں دیتا ہے کہ پورا محلہ انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ عورت کو بارہا گشتی گشتی کے لفظ سے مخاطب کرتا ہے۔ غلیظ زبان بک کر پولیس چلی جاتی ہے۔ عورت ان گالیوں کی اذیت میں اس قدر مبتلا ہوتی ہے کہ بیان سے باہر۔ میری اس عورت سے ملاقات ہوتی ہے، اپنی عزت نفس کے مجروح ہونے کا وہ رونا روتی ہے اور موٹے موٹے آنسو اس کے جاری ہو جاتے ہیں۔ مجھے یہ سن کر بڑا دکھ ہوتا ہے۔

تھانہ میں انسپکٹر یعنی ایس ایچ او کے پاس جاتا ہوں اور انہیں یہ کتھا سناتا ہوں کہ اس کا مداوا کریں وگرنہ میں ضلعی پولیس افسر کے پاس جاؤں گا اور اس سے انصاف کا تقاضا کروں گا۔ انسپکٹر اس چھوٹے تھانیدار کو بلاتا ہے، جس نے گالیاں بکی ہوتی ہیں۔ اس کی خوب سرزنش کرتا ہے اور ساتھ انسپکٹر اپنی طرف سے معافی بھی مانگتا ہے۔ میں واپس اس عورت کے پاس آتا ہوں اور اسے بتاتا ہوں کہ میں اس خبیث کی ڈانٹ ڈپٹ کروا آیا ہوں۔ یہ سنتے ہی وہ مجھے کہتی ہے کہ کیا اس سے میری مجروح عزت نفس واپس آ جائے گی۔ یہ جواب سنتے ہی میں اک گہری سوچ میں چلا جاتا ہوں اور سوچ سوچ کر بھی اس کا کوئی جواب بن نہیں پاتا اور بالآخر یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ واقعی اس سے انصاف نہیں ہوا۔ بالفرض وہ بندہ آ کر اس عورت سے بہ نفس نفیس معافی تلافی بھی کر لیتا تو بھی اس کی مجروح عزت نفس واپس نہ آتی۔ انصاف ایک نہایت پیچیدہ موضوع ہے۔ کسی بھی مقدمے کے فیصلے پر ہم یہ تعین قطعی طور پر نہیں کر سکتے کہ انصاف ہو گیا۔

باپ، بیٹوں میں جائیداد تقسیم کرتا ہے اور اپنے تئیں مطمئن ہو جاتا ہے کہ میں نے جائیداد کی درست منتقلی کر دی ہے۔ وہ اپنی اس تقسیم کو انصاف پر محمول کرتا ہے۔ اسی پر ایک مثال ملاحظہ کریں تاکہ بات واضح سکے، گرم مرطوب علاقے کا ایک باشندہ جب گھر میں موجود کمروں کی برابر تقسیم کرتا ہے تو ایک بیٹا جس کو وہ کمرے ملتے ہیں جو ذرا تنگ اور بغیر روشندان کے ہوتے ہیں جب کہ دوسرے کے حصے میں وہ کمرے آ جاتے ہیں جو ذرا کھلے اور ہوا دار ہوتے ہیں، پہلے والا تو یہی کہے گا کہ میرے ساتھ والد صاحب نے انصاف نہیں کیا۔ اگر غور کریں تو واقعی اس کے ساتھ انصاف بھی نہیں ہوا، یعنی جن معنوں میں وہ انصاف کا تقاضا کرتا ہے اور ادھر اس کا باپ اطمینان سے ہے کہ میں نے انصاف کر دیا ہے۔ اس تقسیم پر گہرائی میں جا کر غور کریں تو انصاف کا قضیہ بڑا پیچیدہ ہو جاتا ہے اور اس کی بحث گنجلک ہوتی چلی جاتی ہے۔

ایک بندہ قتل ہو گیا، اس کے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے۔ بچوں کا وارث ان کے اور ان بچوں کی ماں کی بجائے ان کا ایک رشتہ دار بن گیا۔ قاتل پر مقدمہ درج ہوا، وہ گرفتار ہوا، جیل گیا، مقدمہ طویل عرصے تک چلا، قاتل کو جب سزائے موت ہوئی، تب مدعی نے قاتل کو معاف کر دیا اور مقدمہ برخاست ہوا اور قاتل باعزت بری ہو گیا۔ اب بتائیں کیا اس سے انصاف ہو گیا۔ ہرگز نہیں۔ مقتول کے بچے جوان ہوئے، وہ اپنے مدعی پر بہت سیخ پا ہوئے انہوں نے اپنے بننے والے وارث سے کہنا شروع کر دیا کہ آپ نے قاتل کو کیوں معاف کیا؟ آپ ہمارے عاقل بالغ ہونے کا انتظار کرتے پھر ہم خود ہی یہ فیصلہ کرتے۔ بالفرض بچے بالغ ہونے کے بعد خود قاتل کو معاف کر دیتے تو کیا ایسے معاف کرنے سے مقتول کے ساتھ انصاف ہو جاتا۔ بالکل نہ ہوتا۔

اس صورت میں جب مقتول کے بچے ابھی کم سن ہوں تو مدعی ہونے کا فیصلہ کون کرے گا؟ سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا حقیقی وارث اس کی بیوی ہو گی یا اس کے بچے یا مقتول کا والد یا اس کے بھائی؟ آخر کون ہو گا؟ پھر معاف کرنے کا حق کس کو حاصل ہے؟ بالفرض ریاست اس مقتول کی وارث بن جاتی ہے اور قاتل کا بعین اسی طرح خون بہا کر دیتی ہے اور اسے کیفر کردار تک پہنچا دیتی ہے تو کیا ایسے عمل سے انصاف ہو جائے گا؟ مقتول جس کو مارا گیا، انصاف ہونے کا یا ملنے فیصلہ تو اس نے کرنا تھا جب کہ وہ تو مارا جا چکا ہے۔ پھر انصاف ملنے یا لینے کا تقاضا کون کرے گا اور کس لیے؟

مثال کے طور پر مجھے کوئی اذیت پہنچاتا ہے جب تک میں خود اس کے متبادل (انصاف) سے مطمئن نہیں ہوں گا تو بصورت دیگر کیا انصاف کا تقاضا میرا بھائی یا والد یا کوئی اور کرے گا؟ یا کیا دوسروں کے مطمئن ہونے سے مجھے انصاف مل جائے گا؟ میری بابت انصاف کا تقاضا کوئی اور ہرگز نہیں کر سکتا چونکہ میں خود زندہ ہوں اور مجھے ہی انصاف کا تقاضا مطلوب ہونا چاہیے۔ اگر مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں تو دوسرا کون ہوتا ہے، مجھے پہنچی اذیت پر انصاف کا مطالبہ کرنے والا؟ جیسے ہی ہم انصاف کی بحث کھولتے ہیں تو ایسی گمبھیرتا میں چلے جاتے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر یہ انصاف کا قصہ ہے کیا؟

”پتی چور نوں چاٹ مک ہوندی اے“ (خربوزے چور کو تھپڑ مکا ہوتا ہے ) ۔ یہ ایک پنجابی اکھان ہے۔ پنجاب کلچر میں جو چور خربوزے کی چوری کرتا تھا اس کی سزا نہایت معمولی نوعیت کی ہوتی ہے یعنی یہ کہا جاتا کہ اس کو بس ایک آدھ تھپڑ رسید کر دو، جب کہ وہی پنجاب ہے جہاں خربوزے جیسی یا اس سے کم کسی چوری کی سزا بہت بھاری بھی ہے۔ ایک بندے نے 1970 میں کسی کے باغ سے ایک عدد لیمن چوری کیا، چور پکڑا گیا۔ جس کا باغ تھا وہ بندہ ایک تو جاگیردار تھا اور دوسرا نہایت ظالم شخص واقع ہوا تھا۔ اس نے چور سے اس وقت کے حساب سے بہت بھاری جرمانہ وصول کیا یعنی پانچ روپے جو کہ آج کے دور کے مطابق تقریباً بیس ہزار روپے بنتے ہیں جب کہ اسی دور میں اکثر جگہوں پر درج بالا اکھان اپنی عملی صورت میں رائج تھا۔ اب ذرا اس ضرب المثل کی روشنی میں انصاف کی کہانی پر غور کریں۔

ایک شخص جو شادی شدہ ہو اگر وہ دوسرا بیاہ کر لے اور دونوں بیویوں کے ساتھ بنیادی لوازمات زندگی میں برابری بھی کرتا ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جذبات، احساسات اور محبت کے معاملے میں وہ کیسے برابری کرے گا؟ مثال کے طور پر اگر اس کی پہلی بیوی یہ مقدمہ سامنے رکھے کہ میرے لیے اس کے پاس وہ جذبات، احساسات اور محبت نہیں ہے جو یہ اپنی دوسری بیوی کے لیے رکھتا ہے لہذا یہ میرے ساتھ انصاف نہیں کرتا جب کہ شوہر کا استدلال یہ ہو کہ دیکھیں میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ دونوں بیویوں کے ساتھ تمام بنیادی لوازمات زندگی کی تقسیم برابری کی بنیاد پر کروں، اور میں یہ تقسیم بلا تخصیص و تفریق کرتا بھی ہوں۔ اب یہاں قضیہ یہ ہے کہ وہ کئی معاملات زندگی میں برابری یعنی انصاف کرتا بھی ہو لیکن جذبات و احساسات اور محبت کے معاملے میں اس کی پہلی بیوی کا مقدمہ تو اپنی جگہ درست ہے۔ تو کیا اس صورتحال میں محض لوازمات زندگی کی برابری، انصاف کے ہونے کی دلیل ہے؟ ہرگز نہیں، چونکہ ان جذبات و احساسات اور محبت میں برابری ممکن ہی نہیں لہذا انصاف کا قضیہ بھی اس تناظر میں ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ مطلب یہ کیسے ممکن ہو کہ ایک انسان سب کے لیے ایک جیسے جذبات و احساسات اور محبت رکھتا ہو؟

مختلف علاقوں میں جرائم کی سزا کا مختلف ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ انصاف نہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر مغربی معاشرے میں چوری کی سزا معمولی نوعیت کی ہوتی ہے جب کہ عرب قبائل میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ جب کہ مغربی معاشرے کی طرح ادھر ہندی سماج میں بھی اس کی کوئی بڑی سزا نہیں ہے، یعنی معمولی نوعیت کی سزا ہے۔ جرم ایک ہے اور ہر علاقے میں اس کی سزا مختلف ہے اس کا مطلب ہے کہ انصاف کا قطعی تعین نہیں ہو رہا جب کہ انصاف جو کہ اپنی بنتر میں آفاقی ہے تو پھر ہر جگہ انصاف ایک جیسا ممکن ہوتا کیوں نظر نہیں آتا لیکن وہ واقعی نہیں ہو رہا۔

پنجاب میں ایک عورت جب کسی مرد کے ساتھ بھاگ جائے تو عورت کے ورثاء جب مرد کے گھر والوں پر پنچایت کے ذریعے دباؤ ڈالتے ہیں کہ عورت کو ہر صورت ہمیں واپس کیا جائے۔ اگر وہ عورت بھاگتے وقت گھر سے کچھ نقدی، سونا چاندی وغیرہ بھی ساتھ لے گئی تھی اور وہ خرچ کر بیٹھے تو پنچایت عموماً یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ مرد سزا کے طور پر عورت کے ورثاء کو اس کے برابر کی مالیت ادا کرے۔ حالانکہ عورت وہ سب کچھ اپنی مرضی سے لے گئی تھی اور خرچ بھی خود کیا۔ جب کہ پنچایت الٹا مرد پر وہ سب ڈال دیتی ہے کہ یہ آپ پر سزا بنتی ہے۔ مرد آواز اٹھاتا ہے کہ وہ عورت اپنی مرضی سے میرے ساتھ آئی ہے اور نقدی زیورات بھی اپنی مرضی سے ساتھ لے آئی تھی اور خرچ بھی اس نے اپنی مرضی سے کیا تو اس کی سزا مجھ پر کیوں؟ مرد کا سوال بجا طور پر درست ہے لیکن پنچایت کا فیصلہ اس کے گلے پڑ جاتا ہے۔ اب آپ ذرا غور کریں کہ کیا اس مرد پر یہ سزا عائد ہوتی ہے اور اگر عائد ہوتی ہے تو کیوں؟ کیا یہ مرد کے ساتھ انصاف ہے؟ اگر ”عقل“ کے سامنے اس سوال کو رکھا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہو گا۔ وہی پنجاب ہے جہاں مختلف جگہوں پر ایسے اور کئی معاملات بھی واقع ہوتے رہتے ہیں لیکن وہاں اس کی سزا مرد پر نہیں ڈالی جاتی اور نہ ہی اس پر عائد ہوتی ہے۔

جس بچی کے ساتھ زنا بالجبر ہو گیا اس کو کسی طرح سے بھی انصاف نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ اگر اس کے مجرم کو الٹا بھی لٹکا دیں تو بچی ساری عمر اس اذیت کے ساتھ زندہ رہے گی کہ یہ میرے ساتھ کیا کھلواڑ ہوا۔

ہمارے سماج میں لواطت کی سخت سزا ہے۔ ایران میں امرد بازی کی سزا پھانسی ہے جب کہ مغربی معاشرے میں اب گے ازم کا رجحان باضابطہ طور پر جڑ پکڑ چکا ہے، یعنی وہ لاتشکیل کے تناظر میں گے ازم کو عملی شکل میں باقاعدہ رواج دے چکے ہیں۔ زنا بالجبر اور لواطت کی امثال سے انصاف کا قضیہ تو قطعی طور پر الجھتا نظر آتا ہے۔ اب کوئی انصاف کی صورت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ درج بالا تمام مگر مختلف مثالوں سے انصاف کا قضیہ نہایت الجھاؤ کا شکار نظر آتا ہے لہذا ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انصاف کی بحث کا موضوع نہایت پیچیدہ ہے اور اس کا ہونا ناممکنات میں سے ہے۔

Facebook Comments HS