شاکاہاری

شاکاہاری نوبل انعام یافتہ کورین مصنفہ ہان کانگ کا بُکر پرائز یافتہ ناول ہے۔ جو 2007 میں کورین زبان میں شائع ہوا۔ اس ناول کا انگریزی ترجمہ ڈی بورا سمتھ نے کیا۔ اور انگریزی سے اسے اردو کے قالب میں اسما حسین نے منتقل کیا۔ ناول تین حصوں شاکاہاری، منگولیا نشان اور فروزاں شجر پہ مشتمل ہے۔ ہر حصہ کا راوی الگ الگ ہے جو اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے اس حصے کو بیان کرتا ہے۔
یہ ایک علامتی ناول ہے معاشرے کے ٹیبوز، انسان کی خواہشات، بغاوت اور فنٹاسی پہ مشتمل نفسیاتی مسائل سے جڑی کہانی کو پیش کرتا ہے۔ اور سماجی نفسیاتی جنسی جبر کے خلاف ایک طرح سے اعلان بغاوت ہے۔ اور انسانی جسم کو نجی اور آخری ٹھکانہ ہونے کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ یہ اس اعلیٰ قیمت کو پیش کرتا ہے جو ایک عورت کو ادا کرنا پڑتی ہے جو سماج کے سخت ڈھانچے میں اپنی مرضی سے کوئی رستہ اختیار کرتی ہے۔ اور ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنے پہ مجبور کرتا ہے کہ پدرانہ معاشرے میں خواتین کے لئے خودمختاری ناقابل حصول ہے اور ذاتی اور اجتماعی طور پہ مکمل تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اسی طرح یہ ناول شرم، خواہش اور دوسروں کی زندگیوں کو سمجھنے کی ہماری ناکام کوشش کے بارے میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریک خواب، شدید تناؤ اور خوفناک تشدد کو پیش کرتا ہے
ناول کا آغاز سیول میں رہنے والی ایک عورت کے گوشت نہ کھانے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ ہان کانگ کے اس متاثر کن ناول کا نقطہ آغاز ہے جو ذہنی صحت، عقائد اور عورت کی زندگی کو پیش کرتا ہے۔ یونگھے ناول کا کبیری کردار اور اس کا شوہر مسٹر چونگ ساؤتھ کوریا میں عام لوگوں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مسٹر چونگ دفتر میں کام کرنے والا معمولی خواہشات رکھنے والا شخص ہے جس کے نزدیک اس کی بیوی بالکل عام اور معمولی قسم کی عورت ہے جس میں کوئی بھی قابل ذکر بات نہیں۔ مسٹر چونگ کا یہ بیان دراصل اپنی بیوی کے متعلق اس کی نفرت اور ناپسندیدگی کو پیش کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اپنی بیوی کے متعلق کسی قسم کی پرواہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ اسے سمجھ پاتا ہے۔ لیکن ناول کے اختتام تک جاتے جاتے اس کے ناقابل ذکر ہونے کا بیان مضحکہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ بہرحال یونگھے فرض شناس عورت ہے۔ ان کی زندگی معمول کے مطابق گزر رہی ہے۔ لیکن اس میں دراڑ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک رات یونگھے خوفناک خواب دیکھتی ہے جسے دیکھ کر وہ گوشت خوری ترک کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن خواب کا بیان ٹکڑوں میں ملتا ہے کہیں مکمل بیان نہیں۔ لیکن مسٹر چونگ ایسے کسی فیصلے میں اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ بلکہ وہ اس کے فیصلے کے متعلق اس کے خاندان کو آگاہ کر کے خود کو الگ کر لیتا ہے۔ یہاں معاشرتی ٹیبوز، سماجی جبر، دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت اور متشدد رویے سامنے آتے ہیں جو صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیتے ہیں۔ یونگھے کسی پیڑ پودے کی طرح زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ مسٹر چونگ یونگھے ناول کے پہلے حصے کا راوی ہے۔ جب یونگھے گوشت کھانے سے سے انکار کرتی ہے تو مسٹر چونگ اسے ذہنی، جسمانی اور جنسی طور پر سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے اور آخر کار اسے طلاق دے دیتا ہے۔
ناول کا دوسرا حصہ منگولیا نشان ہے اس حصے کا راوی کردار یونگھے کا بہنوئی ہے جو ویڈیو آرٹسٹ ہے اور یونگھے کی بہن انحے کا شوہر ہے۔ اسے جب یونگھے کے بدن پہ نیلے پھول نما منگولیا نشان کی بابت پتا چلتا ہے تو اس میں اپنی سالی کے جسم پر وہ نشان دیکھنے کی شدید خواہش جنم لیتی ہے چنانچہ وہ یونگھے کے جسم پہ پھول پینٹ کر کے اس کی ویڈیو بنانے کا منصوبہ بناتا ہے یونگھے کی آمادگی پہ وہ ویڈیو بناتا ہے یونگھے اور اپنے ایک دوست دونوں کے جسموں پہ پھول پینٹ کر کے ان کی حرکات پہ مبنی ویڈیو بناتا ہے اور یہ سب کچھ بہت غیرحقیقی اور خواب کی طرح لگتا ہے۔ انحے کے علم میں یہ ساری بات آنے پہ ان کی زندگی تلپٹ ہوجاتی ہے۔ ناول کے دوسرے حصے کا بیانیہ کردار یہ ویڈیو آرٹسٹ ہے۔
اس کا تیسرا حصہ بہت تکلیف دہ ہے اگر دوسرے حصے کو ایک عورت کے برہنہ جسم پہ پھول پینٹ کر نے والے پینٹ برش کے طور پہ پیش کیا جاسکتا ہے تو تیسرا حصے کو آلات جراحی کے طور پہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ ناول کے تیسرے حصے کا بیانیہ کردار انحے ہے یونگھے کے اردگرد موجود افراد میں یہ واحد کردار ہے جو یونگھے سے ہمدردی رکھتا ہے اور اسے انسانی سطح پہ دیکھتی ہے (مسٹر چونگ کے برعکس جو اسے ناقابل ذکر سمجھتا ہے اور انھے کے شوہر کے برعکس بھی جو اسے خیالی پیکر کے طور پہ دیکھتا ہے۔ ) ۔ اسے جبر اور تشدد سے بچانا چاہتی ہے مثلاً باپ جب جبراً گوشت کھلانا چاہتا ہے تو اسے روکتی ہے۔ وہ یونگھے کے ذہنی مسائل کو کسی حد تک سمجھتی ہے اور جب یونگھے ہسپتال میں داخل ہے تو اسے ملنے جاتی ہے۔ اس حصے میں انحے کے دنیا کے متعلق زاویہ نگاہ کے متعلق پتا چلتا ہے اور ایسی تفصیلات بھی جو پہلے دو راویوں کے بیانات کی تائید یا تردید کرتی ہے۔
شاکاہاری عورت پہ تشدد اور اس سے ظالمانہ رویے روا رکھنے سے مناہی سے بڑھ کر کچھ ہے۔ یہ اس غصے اور بغاوت کو پیش کرتا ہے کہ جب تمام امید اور سکون ختم ہو جائے تو پھر اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ کہ راہ فرار اختیار کی جائے۔ یہ ناول سماجی بغاوت سے لے کر وجودی بغاوت تک محیط ہے۔
شاکاہاری ہان کانگ کا پہلا ناول ہے جو انگریزی میں ترجمہ ہوا۔ اس میں سنسنی خیزی، اشتعال انگیزی اور تشدد موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں خوبصورت تصوراتی امیجز اور رنگ اور پریشان کن سوالات بھی ہیں ایک اہم بات یہ ہے کہ جیسے جیسے راوی بدلتا ہے ویسے ویسے زبان بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ پہلا حصہ مسٹر چونگ کے چڑچڑے بیانات کے ساتھ آگے بڑھتا ہے، پھر یونگھے کے خونی خواب کا بیان ہے دوسرے حصے میں پھولوں سے رنگے انسانی بدنوں کی دلکش تفصیل ملتی ہے۔ اور تیسرا حصہ انحے کے بیانات ہیں جو یونگھے کے اسپتال میں داخلے اور علاج کی تفصیلات پہ مشتمل ہے اس کے ساتھ ساتھ دونوں بہنوں کے بچپن کے واقعات پہ روشنی ڈالی جاتی ہے جو ان کے مزاجوں کو سمجھنے میں معاون ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ناول کچھ سوالات بھی اٹھاتا ہے مثلاً
1۔ کیا اپنے آپ کی تلاش قریبی رشتوں سے دستبرداری کی قیمت پہ ممکن ہے؟
2۔ کیا شادی اور آزادی دونوں ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں؟
3۔ کیا باقی سب سے الگ تھلگ ہو کر مکمل خوشی کا حصول ممکن ہے؟
4۔ کیا ایک پرسکون متوازن اور آسودہ زندگی بسر کرنے کے لئے اخلاقی ضابطے کی ضرورت ہے؟
5۔ کیا ہم مکمل طور پہ فطری ہونا یا اس حالت میں رہنا برداشت کر سکتے ہیں؟

