پاکستان کے حالات کا ذمہ دار کون؟
پاکستان اس وقت ایسے حالات سے گزر رہا ہے کہ اللہ نہ کرے بنگلادیش والے حالات نہ پیدا ہو جائیں۔ پارہ چنار میں خون ریزی پی ٹی آئی مارچ، دھرنا جس میں عوام اور فورسز کے جوان بھی شہید ہوئے اب یہ نقصان کس کا ہے سیاستدانوں کا؟ نہیں بلکہ یہ نقصان ہمارا ہے ہمارے ملک کا ہے ان فیملیز کا ہے جن کے گھر کے چراغ بجھ گئے ہیں ان کا مداوا کون کرے گا کیا چند کاغذ کے ٹکڑے دے کر دلا سا دے کر کسی ماں کا لاڈلا کسی بہن کا بھائی کسی کا باپ کسی کا شوہر واپس آ سکتا ہے اگر کسی گھر کا کوئی فرد چلا جائے دنیا سے تو صرف گھر والوں پر جو قیامت ٹوٹتی ہے اس کا مداوا کوئی نہیں کر سکتا لیکن ہر کوئی اپنی سیاست میں مگن ہے اپنی سیاست چمکانا چاہتا ہے پی ٹی آئی کو سنیں تو دنیا کے سب سے مظلوم یہی لوگ ہیں ایسا لگتا ہے۔ اور اگر اقتدار والوں کی رام لیلا سنوں تو لگتا ہے کہ عوام کے سب سے بڑے خیر خواہ یہی ہیں ایک تماشا سا لگا ہوا ہے۔
اگر حکومت پرامن احتجاج کرنے دیتی تو کیا جاتا حکومت کا اگر دیکھا جائے تو پھر ریاست نے اپنی رٹ بھی قائم کرنی ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے اور احتجاج کرنا حق ہے لیکن رہائی عدالتوں کا کام ہے حکومت کا نہیں۔ ملک کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہے لوگ مہنگائی سے مر رہے ہیں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جنہیں 50 % بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، گرین ٹریکٹر سکیم اور ایسے ہی پروگراموں کا لولی پوپ دیا جا رہا ہے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم 250 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دی تاکہ مزید مستحق خاندانوں تک اس کو وسعت دی جا سکے۔ یہ پروگرام ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ یہ سارا پیسہ صحت پر لگنا چاہیے ہسپتالوں کی اپگریڈیشن ہو ملک میں نئی فیکٹریز لگائی جائیں تاکہ لوگو کو روزگار ملے ایسے تو آپ نے پورا ملک چندے پر لگا دیا ہے لوگوں کو ہنر مند بنائیں ملک میں کام کے مواقع پیدا کریں۔ اب کے پی کے کے حالات اتنے خراب ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ صاحب دھرنے میں ہیں خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کی فائرنگ سے 40 افراد جاں بحق ہو گئے اور ابھی تک لڑائی جاری ہے اصل وجہ صرف زمین کا ایک ٹکڑا ہے ضلع کرم کے صدر مقام پاڑہ چنار کا نواحی علاقہ بوشہرہ بظاہر خیبر پختونخوا کے کسی عام پہاڑی علاقے جیسا ہی ہے لیکن یہاں واقع زمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جس پر تنازعے نے اب تک درجنوں افراد کی جان لے لی ہے
30 جریب یعنی اندازہً 100 کنال زمین کی ملکیت کا تنازعہ بوشہرہ کے دو دیہات میں مقیم قبائل کے درمیان ہے اور حکام کے مطابق یہاں چھ دن قبل شروع ہونے والا تصادم نہ صرف کرم ضلعے میں مختلف علاقوں تک پھیلا بلکہ اس دوران لڑائی میں پیر کی صبح تک کم از کم 43 افراد کی ہلاکت اور 150 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شب ہونے والی لڑائی میں مزید آٹھ افراد مارے گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک شدگان میں سے 35 کا تعلق اہلِ تشیع قبائل جبکہ آٹھ کا اہلسنت قبائل سے ہے۔ اتوار کو بوشہرہ میں لاشوں کا تبادلہ بھی کیا گیا ہے جس میں اہلسنت قبائل نے نے گیارہ لاشیں اہل تشیع کے حوالے کی ہیں جبکہ اہل تشیع نے تین لاشیں اہلسنت کو دی ہیں۔ مطلب کے ملک میں حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں۔ ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے آج پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں کمزور معیشت، دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، باہمی اتحاد و یگانگت کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے مسائل اہم ترین ہیں۔ کمزور معیشت اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ آج کی دنیا میں کمزور معیشت قومی سلامتی کے لئے بھی سب سے بڑا خطرہ ہے، معیشت سے جڑے ہوئے چند اہم دوسرے مسائل جن میں مہنگائی، بے روزگاری، کاروبار میں سستی اور غربت جیسے سنگین مسائل شامل ہیں جس کی وجہ سے عوام میں شدید اضطراب اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔
آج ہماری معیشت جمود کا شکار ہے امور مملکت چلانا بھی مشکل نظر آ رہا ہے، آئی ایم ایف اور ورلڈبنک سمیت دوسرے مالیاتی اداروں سے قرض لے کر گزارا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے عوام پر اضافی بوجھ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، قرض اتارنے کے لئے مزید قرض لینا پڑ رہا ہے، آئے دن بجلی، گیس اور تیل کے نرخ بڑھانے پڑتے ہیں جس نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ تجارتی خسارہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے، ترقی کی شرح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے جبکہ کاروبار انتہائی سست روی کا شکار ہے جس وجہ سے بے روزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے، آسمان سے چھوتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال کے رکھ دی ہیں، معیشت کی بحالی نئی حکومت کی پہلی ترجیح ہے جس میں کامیابی ایک اجتماعی سوچ اور حکمت عملی سے ہی ممکن ہے۔ اللہ ہدایت دے ہمارے ملک کے حکمرانوں کو۔


