دھرتی کے گمنام ہیرو


یہ کتنی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں مطالعہ پاکستان، معاشرتی علوم اور تاریخ عام جیسے مضامین کی درسی کتابوں میں انگریز سامراج کے خلاف جنگ کرنے، وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے اور سیاسی جدوجہد کرنے والے دھرتی کے فرزندوں کی کوئی جگہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انفرادی سطح پر بہت سے لوگ ان حریت پسندوں کے کارناموں اور ناموں سے واقف ہوں تاہم بحیثیت مجموعی قومی سطح پر ان آزادی کے متوالوں کو نئی نسل سے روشناس کرانے کی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی ہے۔ یہ بطل حریت آج پاکستانی سماج کے اجنبی نام ہیں۔ یہ وہ گمنام ہیرو ہیں جن کے بارے میں آج کسی اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جاتا۔ یہ جدوجہد آزادی کے وہ مسافر ہیں جن کا دن نہیں منایا جاتا۔

کتنی حیرت کی بات ہے کہ اہل پاکستان ہزاروں میل دور سے آئے ہوئے عرب حملہ آور محمد بن قاسم، افغان لٹیرا محمود غزنوی اور وسطی ایشیائی مغلوں کو تو اچھی طرح سے جانتے ہیں لیکن اپنی ہی دھرتی میں سروں کی قربانی دینے والے دھرتی کے فرزندوں کے بارے میں ہمیں کچھ پتہ نہیں۔

برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے بلوچ سردار دل مراد خان کھوسہ جنہیں جزائر انڈمان میں کالا پانی کی سزا دی گئی تھی ان سے پاکستانی پبلک کتنی واقف ہے؟

فاتح گلگت کمانڈر مرزا حسن خان جنہوں نے مہاراجہ کی جموں و کشمیر اسٹیٹ فورس کے خلاف بغاوت کر کے گلگت بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروا کر پاکستان میں شامل کرنے کی راہ ہموار کی آج ان کا نام تک کوئی نہیں جانتا۔ پاکستان جہاں ہر مضمون میں کشمیر کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن مرزا حسن خان کی کامیابیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔ بونیر (پختون خواہ) کے سعید اللہ خان عرف سرتور فقیر کو بھی ہماری تاریخی و تدریسی کتب میں کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ سرتور فقیر نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مالاکنڈ میں برطانوی افواج کے خلاف جنگ لڑی مگر جناب کون سعید اللہ خان؟ بلوچ شیر زال گل بی بی بلوچ جس نے سفاک و ظالم جنرل ڈائر کے مقابلہ میں بحیثیت عورت قبائلی لشکر کی سربراہی کی۔ جس کی بہادری کا تذکرہ جنرل ڈائر نے اپنی کتاب ”The Raiders of the Sarhad“ میں کیا ہے۔ کیا پاکستان میں انگریز سامراج کے خلاف لڑنے والی اس بہادر عورت کا کوئی مقام ہے؟ کیا گل بی بی بلوچ، بیگم جہاں آراء شاہنواز، بیگم شائستہ اکرام اللہ، شیلا آئرن پینٹ (رعنا لیاقت علی خان) ، بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور لیڈی نصرت عبداللہ ہارون جتنی عزت و تکریم کی بھی حقدار نہیں؟

1839 میں انگریزوں کے ہاتھوں مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے اپنا سر قربان کرنے والے خان آف قلات شہید میر محراب خان اور ان کے شہید ساتھیوں دیوان بچہ مل، دیوان آسر داس، دیوان کھیم چند، میر نبی بخش جتوئی سمیت دیگر شہداء کیوں گمنام ہیں؟ درہ بولان کو حملہ آور انگریزی فوج کا قبرستان بنانے والے گوریلا جنگجو بجار خان ڈومکی کی قربانیاں کیوں نظر انداز کی گئی؟ وڈھ، خضدار بلوچستان کا نورا مینگل جس نے نو سال تاج برطانیہ کے خلاف جھالاوان کی پہاڑیوں میں گوریلا جنگ لڑی اور بالآخر قید ہو کر دوران اسیری برٹش جیل میں وفات پا گئے (یا مار دیے گئے ) نئی نسل کے کتنے پاکستانی اس ”شیر جھالاوان“ کے نام سے واقف ہیں؟ نورا مینگل کا تعلق اگر موجودہ انڈیا سے ہوتا تو اب تک ان کے کارناموں اور گوریلا جنگ کی داستانوں پر نہ جانے کتنی فلمیں بنتیں۔ ان کی یاد میں نہ جانے کتنے مجسمے بنائے جاتے۔

”مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں“ کا نعرہ لگانے والے ٹالپر بلوچوں کے سپریم کمانڈر جنرل ہوش محمد قمبرانی عرف ہوشو شیدی جس نے سر چارلس نیپیئر کی افواج سے لڑتے لڑتے سندھ دھرتی پر اپنی جان نچھاور کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ کیا شہیدِ سندھ کو ہمارے سرکاری نصاب میں شمالی ہندوستان کے کسی سیاسی رہنما جتنی جگہ بھی مل سکتی ہے؟ کیا موجودہ پاکستان میں ان کی قربانی کوئی معنی یا مطلب رکھتی ہے؟

جنگ آزادی میں 19 سال کی عمر میں پھانسی چڑھنے والے سکھر کے ہیموں کالانی کا تذکرہ مطالعہ پاکستان یا تاریخ عام کے کس باب میں ہے؟ برطانوی قبضہ کے خلاف سیاسی جدوجہد کرنے والے کراچی کے اوتار کرشن ہنگل (شعلے فلم کے رحیم چاچا) کے بارے میں کتنے لوگ جانتے ہیں؟ انگریزوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ژوب (بلوچستان) کے پالے خان کو مطالعہ پاکستان میں کتنی جگہ دی گئی ہے؟

وطن یا کفن کا نعرہ لگا کر انگریز کی جیل میں موت کو گلے لگانے والے سندھ دھرتی کے فرزند سورہیہ بادشاہ پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا کے حوالہ سے اردو کی کتابوں میں کوئی سبق ہے؟

برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جبری فوجی بھرتی کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے والے پنجاب کے شہید رائے احمد خان کھرل کا تذکرہ پرائمری، سیکنڈری یا کالج سطح کی کون سی درسی کتب میں ہے؟

امرتسر پنجاب سے تعلق رکھنے والے انقلابی مدن لال ڈھینگرا جو یونیورسٹی کالج لندن میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہندوستانیوں پر انگریزی حکومت کے مظالم کے خلاف ہندوستان میں تعینات سابق برطانوی فوجی افسر کرنل ولیم کرزن وائلی کو قتل کر کے پھانسی کے پھندے پر جھول گیا۔ کیا یہ شہید انقلابی خراج تحسین کا حقدار نہیں؟

اُدھم سنگھ، بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں پر کون سے مضامین لکھوائے جاتے ہیں؟

ہندوستان کی جد و جہد آزادی میں پھانسی پانے والے معروف شاعر، مترجم، ماہرِ لسانیات، مورخ و ادیب امر شہید رام پرساد بسمل کیا جلیانوالہ قتل عام پر خاموش رہنے والے، پنجاب میں انگریزی مارشل لاء کی حمایت کرنے والے ثناء خوان حکومت انگلیشیہ سر علامہ محمد اقبال جتنی پذیرائی کے بھی مستحق نہیں؟ کیا پاکستان میں جہدوجہد آزادی کی مشترکہ تاریخ کے اس حقیقی ہیرو کے نام کوئی دن منایا جائے گا؟

انگریزوں کی قبضہ گیریت کے خلاف دانشورانہ اور سیاسی جدوجہد کرنے والے سندھ کے حشو کیول رامانی کی زندگی اور ادبی کارناموں کو سندھی کی کون سی تدریسی کتب میں جگہ دی گئی ہے؟

جنگ آزادی میں انگریزی فوج سے بغاوت کے جرم میں توپ سے باندھ کر اڑائے جانے والے کراچی کے رام دین پانڈے، سورج بالی، اللہ داد بلوچ سے کتنے لوگ واقف ہیں؟

کارونجھر، تھر پارکر کے پہاڑوں میں انگریز سامراج کو للکار کر پھانسی چڑھنے والے آزادی پسند روپلو کولہی کی قربانی کو کیا معاشرتی علوم کی کتابوں میں جگہ ملے گی؟

چٹا گانگ بنگال میں پھانسی کی سزا پانے والے استاد سوریا سین عرف ماسٹر دا تاریخ کے صفحات میں غائب ہیں۔

پارسی انقلابی خاتون بھیکا جی رستم کاما کا نصاب میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔

Facebook Comments HS