گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور وزیر داخلہ کا بیان


ان دنوں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے منسوب ایک بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا کوئی شہری آئینی پاکستانی شہری نہیں اس کا کسی انتشار میں شامل ہونا دہشت گردی میں شامل ہونا ہے۔ یہ بیان کس حد تک مستند ہے یا موصوف سے منسوب کیا گیا ہے، اس سے قطع نظر میں اس بات پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان سے گلگت بلتستان کا ایک بڑا طبقہ نالاں ہیں اور وزیر داخلہ موصوف کے خلاف طرح طرح کی باتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں۔ اس کا جواب دلائل اور ثبوتوں کی روشنی میں دینے کے بجائے ایک طرفہ محبت میں غرق ہو کر موصوف کو برا بھلا کہنا عقل سے عاری لوگوں کا وتیرہ تو ہو سکتا ہے لیکن پڑھے لکھے نوجوانوں کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ اس پر غور کرنے کے لیے ہمیں وزارت خارجہ کی طرف سے دیے گئے کئی بیانات، سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے اور گلگت بلتستان سمیت ریاست جموں کشمیر پر پاکستان کے عالمی موقف کو سامنے رکھنا ہو گا۔

اس کے علاوہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ( 1 ) کو کنگھالنا ہو گا جو پاکستان کی آئینی حدود یا جغرافیے کو Defineکرتا ہے جس میں واضح لکھا گیا ہے کہ ”Pakistan territories include the provinces of Baluchistan، The North West Frontier، the Punjab and the Sindh، and Islamabad the capital territory“ ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گلگت بلتستان اور نام نہاد آزاد جموں و کشمیر کا پاکستان کے جغرافیے سے کوئی تعلق نہیں یا یوں کہہ لیں کہ یہ دونوں علاقے پاکستان کے آئین میں شامل نہیں ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے وہ افراد جو خود کو آئینی شہریوں سے بھی زیادہ وفادار پاکستان کا آئینی شہری سمجھتے ہیں اگر وہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ون کو نہیں مانتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ آئین کو نہیں مانتے اور آئین کو نہ ماننا غداری کے زمرے میں آتا ہے لیکن ہم ان پر غداری کا الزام اس لیے نہیں لگا سکتے کیونکہ ہماری نظر میں وہ پاکستان کے آئینی شہری نہیں البتہ زیر انتظام ضرور ہیں۔

اگر ہم پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ( 257 ) کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں جس میں لکھا گیا ہے کہ ”When the people of the state Jamu and Kashmir decide to accede to Pakistan، the relationship between pakistan and that state shall be determined in accordance with the wishes of the people of that state“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریاست جموں وکشمیر بشمول گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں اس لیے اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اگر ریاست جموں و کشمیر گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو پاکستان اور اس ریاست کے درمیان تعلقات کا تعین اس ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔ پس پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ون اور آرٹیکل 257 سے ہی یہ ثابت ہوا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں۔ اور پاکستان کے آئین کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے آئینی شہری نہیں تو محسن نقوی کی بات پر شور مچانا حقیقت کو سمجھنے کے باوجود حقیقت سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔

قارئین کرام! گلگت بلتستان کی قوم پرست و ترقی پسند قوتوں کا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ گلگت بلتستان بشمول ریاست جموں و کشمیر پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازعہ خطہ ہے اور اس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ یہ طبقہ قوم پرستوں و ترقی پسند قوتوں کے اس موقف کو بھی نہیں مانتا اور ان کو غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے میں غیروں کے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے۔ اگر پاکستان کے آئین کے مطابق دیکھا جائے یا جموں و کشمیر گلگت بلتستان پر وزارت خارجہ پاکستان کا عالمی موقف اور سپریم کوٹ آف پاکستان کے فیصلوں کو دیکھا جائے تو اس میں کشمیر سمیت گلگت بلتستان کے قوم پرست اور ترقی پسند قوتیں اصولی موقف اور سچائی کے راستے پر ہیں اور وہ پاکستان کے آئین کی قدر کرتے ہوئے اس میں درج شدہ آرٹیکل ون کی قدر کرتے ہوئے خود کو پاکستان کا آئینی شہری نہیں مانتے بلکہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے سابق بیانات اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی روشنی میں سچ پر مبنی موقف رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کے آئین میں شامل نہیں ہے تو کیا پاکستان کے سیاسی پارٹیوں کو گلگت بلتستان کی اندرونی سیاست میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے؟ اس کا جواب بھی نفی میں ہو گا کیونکہ جس ملک کے آئین میں گلگت بلتستان کے عوام شامل نہیں، جس ملک کی قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے یا الیکشن لڑنے کا حق گلگت بلتستان کے عوام کو حاصل نہیں، جس ملک کا صدر یا وزیر اعظم بننے کا حق گلگت بلتستان کے عوام کو حاصل نہیں تو یہ حق پاکستان کی ان پارٹیوں کو بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے آئینی جغرافیے سے باہر جاکر عوام پر اپنی سیاست مسلط کریں اور ان پر حکمرانی قائم کریں۔ پاکستان کے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 1976 کی رو سے بھی پاکستان کی سیاسی جماعتیں پاکستان کی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے سیاست کرنے کے لیے بنی ہیں جبکہ ان کا اپنے آئینی حدود سے باہر گلگت بلتستان میں سیاست کرنا اپنے ہی آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

اس کے برعکس ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا گلگت بلتستان کے ان شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار عوام اور سیاستدان جو ایک ملک کے آئینی شہری نہ ہونے کے باوجود بھی اس ملک کی سیاسی پارٹیوں میں اپنے لیڈران کے دم چھلے بن کر قوم کا وقت اور مستقبل ضائع کر رہے ہیں، کیا یہ سیاسی طور پر جائز ہے؟ ہماری قوم کے نوجوانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکتے ہوئے سچ کو سچ کہنے کی جرات کرنا ہوگی۔ سچ بات چاہے آپ کا دشمن بھی کہے اس کو ماننا ہو گا۔

Facebook Comments HS