اجتہاد


کیا آپ کسی تعلق کو اپنے نظریے کے مطابق جی رہے ہیں یا تعلق میں شریک دوسرے شخص کے نظریے سے؟ کبھی کافی کی چُسکیاں لیتے ہوئے ایسے بے ڈھنگے سے خیالات ذہن میں ابھرے ہیں؟ مثال کے طور پر ادب کا نوبل انعام جیتنے والی محترمہ اپنے ناول میں شاید اسی موضوع پر بات کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ چلیے، ذرا کھل کر بات کرتے ہیں۔

دو انسان جو ایک دوسرے کے ساتھ کسی تعلق میں ہیں، وہ دونوں ہی اپنے فہم کے کے مطابق اس تعلق کو دیکھتے ہیں۔ ایک شخص دوسرے شخص سے اپنی سوچ کے مطابق وہی ردِعمل چاہتا ہے جو اسے پسند ہے اور جو اس کے تحت الشعور کو تسکین دے سکے۔ تو کیا پھر یہ تعلق ایک دوسرے پر حکمرانی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے؟ شاید ایسا ہی ہے، اور شاید ایسا اس لیے ہے کہ دونوں کے درمیان محبت، جذبات، احساسات، نظریہ ادراک اور ہر پہلو مختلف ہوتا ہے۔ ایک کی محبت دوسرے کے لیے محبت نہیں ہو سکتی۔

میں سوچتی تھی کہ میں محبت کے بارے میں کبھی نہیں لکھوں گی اور اگر لکھوں گی تو مروجہ محبت کی بُنیادیں اُکھاڑ پھینکوں گی۔ شاید ایسا اِس لیے ہے کہ میں نے محبت کو حد سے زیادہ جی لِیا یا محبت کا نام بھی میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ آخر کیا ہوتی ہے محبت؟ میں چاہے یہاں جس قدر بھی محبت کی تعریفیں، تصورات، نظریات، خیالات یا فلسفے لِکھ لوں یا محبت کو بیان کرنے کی خاطر سمندروں کے پانی کی سیاہیاں بھر لوں مگر محبت پھر بھی انفرادیت پر مشتمل رہے گی۔ مگر محبت کے نام پر کُچھ نہ کُچھ تو ہے جو غلط ہو رہا ہے۔ کیا محبت محض وفاداری کا نام ہے؟ مگر جہاں ہمارے پہناوے سے لے کر ہماری ہر سوچ ہر رویے کے جُز اور کُل معاشرے کے دیے گئے ہوتے ہیں ویسے ہی وفاداری بھی اِسی معاشرے کی بنائی گئی ناپائیدار، غیر انسانی، غیر مادی سوچیں ہیں، نظریات و عقائد اور رویے ہیں جنہیں ہر کسی پر زبردستی مسلط کر دیا گیا ہے۔ وہ معاشرے جہاں ایک عورت کی شادی تین بھائیوں کے ساتھ بیک وقت کی جاتی ہے وہاں محبت اور وفاداری کے کیا تقاضے ہیں؟ انسان تو مکمل خدا کا بھی نہیں ہو سکتا تو پھر کسی انسان کا کیسے ہو جائے؟ حاکمیت کا دور دورہ ہے۔ نہ جانے کن نا ہنجار راستوں پر چل رہے ہیں۔ صدیوں سے ثقافت اور معاشرے نے محبت کے نام پر انسانی نفسیات پر جو خول چڑھائے ہیں نہ جانے کب اُتریں گے مگر افسوس صد افسوس کہ نہیں اُتریں گے۔

مُجھے اپنے حصے کا
درد کہنا ہے پھر مر جانا ہے
کھوکھلی آنکھوں کے دو کاسوں سے
چشمہ کوئی پھوٹ کر
دامن تیرا بھر جانا ہے کہ
شاید ہی کوئی نغمہ اب میرے دل سے نکلے
شاید ہی کسی درد کو اب زباں ملے

Facebook Comments HS