شعری مجموعہ ”جو بھی کچھ ہے“ ایک وجدانی کیفیت


Dr Shahid M shahid

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا میں جو بھی کچھ ہے۔ وہ سب خدا کی مرضی سے ہے۔ اس نے ایک ایک چیز کو بنایا ہے۔ اس میں زندگی کا دم پھونکا ہے۔ انسان قدرت کا سب سے عظیم شاہکار ہے۔ اسے عالم کائنات میں سب سے زیادہ حکمت دی ہے۔ صاحب بصیر بنایا گیا۔ محسوسات کی حس عطا کی۔ جذبات کو کشید کرنے کا جذبہ عطا کیا۔ افق پر منڈلانے کی توفیق دی۔ سوچ کی اڑان دی۔ اس امر کے ساتھ ساتھ طاقت اور اختیار کا عصا بھی سونپ دیا ہے۔ خدا نے انسان کو محسوسات اور جذبات کے اظہار کی خوب آزادی دے رکھی ہے۔ اگرچہ ان سب چیزوں کے زاویے، مثلثیں، چکوریں اور دائرے فرق فرق ہیں۔ مسئلہ ہر انسان کی ترجیحات اور سمت پروری کا ہے کہ وہ کس سمت سفر کرنا چاہتا ہے۔ دنیا میں اس وقت ان گنت پیشہ جات ہیں۔

جنہیں ہر کوئی اپنی تعلیم اور مہارت کے مطابق اپناتا ہے۔ یہ عمل روز اول سے جاری ہے اور رہتی دنیا تک اپنا اثر قائم رکھے گا۔ اسی طرح علم و ادب ایک وسیع مطالعہ جہت ہے اور جن لوگوں کی زندگی میں یہ پروان چڑھ جائے۔ وہ قدرت کی نعمتوں اور برکتوں کو ایک مخصوص لب و لہجہ کے مطابق بیان کرنے کا ڈھنگ سیکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ ہر انسان کو ایک جبلت دی گئی ہے۔ وہ اسے بروئے کار لا کر ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کے پاس تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی اصناف سخن میں اپنے جذبات و کیفیات کو قلم بند کر لیتے ہیں۔ فطرت ان سے ہم کلام ہو کر قلم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ قدرت نے اس نعمت اور حقیقت کو قریبا دنیا کے ہر خطے پر عیاں کیا ہے۔ یہ نعمت ایک خاص مخصوص طبقہ کو ملتی ہے جنہیں ادب قبیلہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے پاکستان کی سرزمین بہت زیادہ مردم زرخیز ہے۔ جہاں علماء ادباء اور شعراء کا جم غفیر ہے۔

میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے شعری مجموعہ ”جو بھی کچھ ہے“ پڑھنے کا موقع ملا۔ فرض شناس فرد کی طرح میرے پاس جو بھی کتاب آتی ہے اس کا ہر ممکن تحریری جواب دیتا ہوں۔ جاوید یاد صاحب کی منفرد خوبی یہ ہے کہ ان کی جب بھی کوئی نئی کتاب چھپتی ہے۔ وہ اسے میرے ذوق مطالعہ کی نذر ضرور کرتے ہیں۔ ان کے شوق اور جذبے نے انہیں منفرد مقام بخشا ہے۔

وہ علمی و ادبی قد کاٹھ میں نمایاں شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ اپنے آبا و اجداد کی تابندہ روایت یعنی شعر و سخن کی روایت پر محو سفر ہیں۔ ان کی شخصیت ہم گیر جہت کی عکاس ہے۔ میری نظر میں وہ فطرت شناس ہیں۔ حالات، موسموں اور وسائل کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عظیم مقصد کے لیے انہوں نے علم و ادب کی ترویج کے لیے کئی عشروں کا چلہ کاٹا ہے۔

ظاہر ہے کسی بھی چیز کے حصول کے لیے شب و روز محنت کرنا پڑتی ہے۔ تب کہیں جا کر اس کا صلہ ملتا ہے۔ شہرت کا چاند نظر آتا ہے۔ زندگی کا منشور پورا ہو جاتا ہے۔ یقیناً جن چیزوں کے حاصلات اور ثمرات انسان زندگی میں دیکھ لے۔ اس سے بڑھ کر اس کے لیے خوشی کا اور کوئی کیا موقع ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں جاوید یاد نے ادبی رجحان کے تحت اپنی کامیابیوں کا لوہا منوایا ہے۔ کتاب خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ گرد و پیش پبلیکیشن نے اس کتاب کو شائع کیا ہے۔ ٹائٹل جاذب نظر ہے۔ عنوان کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں غزلیات، دوسرے حصے میں نظمیں اور تیسرے حصے میں قطعات شامل ہیں۔ نظموں اور غزلوں میں وجدانی کیفیات کا بھرپور تاثر ہے۔ خاص طور پر نظموں کے عنوانات میں فاضل دوست نے فطرت شناس ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کیونکہ جو فطرت کے رنگوں میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ اس کا گواہ بن جاتا ہے۔ اس کے کاموں کی تشہیر کرتا ہے۔ فطرت کی رعنائیاں کس قدر اپنے اندر معجزات کا تصور رکھتی ہیں۔ جاوید یاد نے محسوسات کی پرکھ سے جن باتوں کی توجہ دلائی ہے۔ وہ سب رشک و تحسین سے لبریز ہیں۔ وہ دل کو پاکیزگی کا محور قرار دیتے ہیں۔ بلا شبہ دل محسوسات اور جذبات کا چشمہ ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں۔

دل کا حق بھی ادا نہیں ہوتا
کیا دلوں میں خدا نہیں ہوتا

فاضل دوست کی غزلوں میں ایک خاص وجدانی کیفیت ہے۔ نصیحت کا رنگ و اثر ہے۔ سوال جواب ہے۔ اتار چڑھاؤ ہے۔ عروج و زوال ہے۔ ان کی غزل ملاحظہ فرمائیں۔

سوچ بدلیں خیال کو بدلیں
آپ بھی اپنے سوال کو بدلیں
کیا یہ پستی نصیب ہے اپنا
آؤ مل کر زوال کو بدلیں
جب انہیں خود نہیں کوئی احساس
کس طرح ہم ملال کو بدلیں
ہو گئے خاک جو یہ کہتے تھے
اس کے جاہ و جلال کو بدلیں
ہم کو بھی آئے جھومنا شاید
سر کو بدلیں تال کو بدلیں

تخلیق ہمیشہ زرخیز مٹی سے پھوٹتی ہے۔ خدا نے فاضل دوست کو وجدانی میدان میں کھڑا کر کے اپنی تعریف و توصیف اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا ہے۔

ان کی نظموں اور غزلوں سے اس بات کا خوب تاثر ملتا ہے کہ وہ کس حکمت و دانائی سے موضوعاتی تصور اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں ندرت، خیال پسندی، جدت حال، الفاظ کا تڑکا، رنگ و اثر اور محبت کی خوشبو کس طرح اذہان و قلوب کو معطر رکھتی ہے۔ یقیناً اس بات کا احساس کتاب پڑھنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ میں فاضل دوست کو کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس بات کے لیے پر امید ہوں کہ ان کا شعری مجموعہ ”جو بھی کچھ ہے“ ادبی حلقوں میں بشرف نگاہ داد و تحسین کا حقدار ٹھہرے۔

Facebook Comments HS