کیا فنا فی القدرت کا مطلب فنا فی الدنیا ہوتا ہے؟


کہاں بستے ہیں وہ لوگ جو قدرت کے رازوں کے رمز شناس ہوتے ہوئے دنیا مافیہا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں؟ کائناتی پہلیوں کو بوجھتے اور کھوجتے ہوئے اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ تیزی سے گزرتے وقت کا دھیان ہی نہیں رہتا؟ کائنات تو پرت در پرت پراسراریت کی آماجگاہ ہے، نجانے کتنے آئے اور چلے گئے لیکن اس کی کھوج باقی رہی۔ تشنہ اذہان اپنی آ سودہ خواہشات کی تکمیل میں لگے رہیں گے لیکن یہ ایک ایسی پہیلی ہے جو کئی ساری پہلیوں کو جنم دے کر کئی سارے اور مزید سوالات کھڑے کر دیتی ہے۔ سوالات کا تسلسل تھمے تو نتائج کی طرف کوئی توجہ ہو لیکن بہر بے کنار کی موجوں کے سامنے حتمی ماحصل کا بند کیسے باندھیں؟ جب اس قدر پراسراریت ہو اور لاعلمی کے بلیک ہول جا بجا موجود ہوں تو حتمیت و قطعیت والے لب و لہجے زیبا نہیں دیتے، مذہب جو نوع انسانی کا ابتدائی فہم یا ادب ہے جس کی ترسیل و ابلاغ اور تفہیم کے لیے نجانے کتنے واسطوں سے کتابیں لکھی جا چکی لیکن تفہیم ممکن نہیں ہو پائی، بنیادی وجہ اس قدر خلا اور تعطل ہیں جنہیں ایمانی بنیادوں پر تو پاٹا جا سکتا ہے عقلی بنیادوں پر ناممکن ہے۔

بحث ہو یا سوال عقلی دائرہ کار میں شامل مواد پر ہی اٹھائے جا سکتے ہیں، ایمانیات ہر انسان کا نجی معاملہ ہوتا ہے اور ہر کوئی اپنے من کی شانتی کے لیے کوئی بھی عقیدہ اختیار کر سکتا ہے اور اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔

لیکن ان دعووں کا کیا کریں جو اہل جبہ و دستار ببانگ دہل کرتے رہتے ہیں؟

سنتے آئے ہیں کہ جو بھی مذہب کی امان میں آ گیا وہ ہر طرح سے کامل و اکمل ہو جاتا ہے، مولانا صاحبان کہتے ہیں کہ جدید فتنوں سے دور رہو، صرف اپنے عقیدہ و مسلک کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو ورنہ تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ سوال پوچھا گیا کہ وہ جدید فتنے کون سے ہیں؟ فرمانے لگے کہ الحادی لشکروں سے بچو جو تمہیں مذہب سے دور کرنے کے درپے ہیں، پوچھا گیا کیسے جناب؟ وہ مذہب پر سوالات اٹھاتے ہیں جو کہ خاصے گمراہ کن ہوتے ہیں۔ کیا آپ فتنوں سے خائف ہیں یا سوال کا سامنا نہیں کرنا چاہتے؟ ان کے سوال عقل سے ماورا اور اعتراضات پر مبنی ہوتے ہیں، وہ اصلاح نہیں چاہتے بلکہ ہماری ایمانی فورس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ہم حق پر ہیں اور حتمیت کا دعویٰ رکھتے ہیں تو کوئی بھی جھوٹا گروہ ہمیں گمراہ کیسے کر سکتا ہے؟ جبکہ ہمارے تو دین کی حفاظت کا ذمہ بھی خود قادر مطلق نے لیا ہے تو پھر ڈر کیسا؟ ہماری کاوشوں اور سوالات کا سامنا کرنے کے باوجود بھی الحاد بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ مذہبی افراد ان کے ہتھے چڑھیں۔ تو اس میں الحاد کا کیا قصور ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ہی بے بس ہو چکے ہوں اور مذہب کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر پا رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں سوچنا ہو گا کہ ان فتنوں کا مقابلہ کیسے ممکن ہے اور سب سے بڑی حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا کہ ہم طاقت کے دور میں نہیں بلکہ علم و شعور کے دور میں جی رہے ہیں۔ اس لیے خود کو متعلقہ رکھنے کے لیے علم کا سہارا ہی درکار ہو گا ورنہ تاریخ کے دھڑ میں اترتے ہوئے کوئی زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

بکواس بند کرو، ہم حق پر ہیں اور ہمیشہ رہیں گے بلکہ ایک دن دنیا پر راج کریں گے، یہ جتنے ملحدین ہیں یا ہم سے الگ سوچ رکھنے والے ہیں یہ سب جہنم کا ایندھن تو ہیں ہی لیکن اس دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوں گے دیکھ لینا۔ جان کی امان پاؤں تو ایک عرض کروں؟ کیا حق پر قائم اور دنیا پر راج کرنے والوں کا یہی لب و لہجہ ہوتا ہے؟ ذرا باہر نظر تو ڈالیں، مسلم اکثریت والے اس ملک میں سے صرف ایک پاؤ دودھ تو خالص ڈھونڈ کر لائیں، خالص مرچیں، خالص گھی، خالص چائے کی پتی حتیٰ کہ انسانی جان بچانے والی ادویات ہی ایک نمبر ڈھونڈ کر لا دیں۔ چلیں ایمان ہی خالص ڈھونڈ دیں جس میں درجنوں فرقوں کی ملاوٹ ہو چکی ہے اور ایک دوسرے کے نزدیک کوئی بھی راہ حق پر نہیں ہے۔

تم بھی لادین ہو چکے ہو، کچھ بھی کہو ہم ہی قادر مطلق کے چوزن ون ہیں اور ہم ہی غالب رہیں گے۔ ٹھیک ہے آپ کی مرضی جو سمجھنا ہیں سمجھیں، لیکن اگر فیصلہ اس بات پر ہوا کہ انسانیت کی بلا تفریق خدمت کرنے والے سرفراز ہوں گے تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟ اور اس وقت کون حق پر ہو گا؟

Facebook Comments HS