لمبازم کے پیروکار اور فیمی نازی


”کریپ (کچرا) تحریر ہوتی ہے آپ کی“ ۔ ہم ہنسے۔ فیمی نازی ہیں آپ۔ ہم اور ہنسے۔ سب حواری تھُو تُھو کر رہے ہیں۔ ہم نے ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ لیا۔

پدرسری معاشرے میں اگر ایک عام مرد کو ہماری بات سمجھ نہ آئے اور وہ آگ بگولا ہو کر ہمیں مغلظات سے نوازے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن تب کیا کریں جب دانشور اور ادیب کہلانے والے لوگ ہماری تحریر کو کریپ کہہ کر حملہ کریں۔ قطعی حیرت نہیں ہوئی اور کہنے کو جی چاہا کہ بھیا شکریہ تمہیں تو ہماری تحریر ہی کریپ لگی ہے، ورنہ تم جیسے تو عورت کو ہی کریپ سمجھتے ہیں۔

کریپ کے ساتھ ایک خطاب سے بھی نوازا گیا فیمی نازی۔ سوچا اسی بہانے آپ کو اس لفظ سے ہی متعارف کروا دیں کہ کیا ہے فیمی نازی، کیسے وجود میں آیا اور کون لوگ اسے استعمال کرتے ہیں؟

نازی لفظ ہٹلر کے زمانے میں اس کے ساتھیوں کے لیے استعمال کیا گیا جنہوں نے جبر، تشدد، استحصال، بے رحمی اور سنگدلی سے بے شمار معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نازیوں نے اپنے مخالفین کے لیے کیمپ بنائے جہاں زہریلی گیس کے ذریعے سب کو موت کی نیند سلا دیا جاتا۔ مرنے والوں میں مرد، بوڑھے، بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔ اس زمانے کو مختلف فلمز میں دکھایا گیا جس میں شنڈلر لسٹ، دی پیانسٹ، دی ریڈر، اینڈ دی بوائے ان سٹرائپڈ پاجامہ شامل ہیں۔

تب سے لفظ نازی جبر اور ہٹ دھرمی کی علامت ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اس لفظ کے ساتھ جن لوگوں کی یاد وابستہ ہے تمام بالا دست مرد ہی تھے جنہوں نے دنیا بھر کو جنگ میں جھونک دیا۔ فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی عورت کے ہیں۔ فیمن ازم اسی سے نکلا ہے بالکل اسی طرح جیسے سوشلزم، مارکسسزم وغیرہ۔

فیمی اور نازی کو ملا کر فیمی نازی لفظ بنانا اسی کوشش کا ایک حصہ ہے جو فیمینزم کا مذاق اُڑانے کے لیے کی جاتی ہے۔ فیمی نازی کہہ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فیمینسٹ عورت کسی دیوانی اور خبطی سے کم نہیں۔ خیر دیوانے تو ہم ہیں کہ عورت کی رام لیلا بیان کرنے سے نہیں تھکتے۔

فیمی نازی لفظ کا آغاز تو اینٹی ابارشن موومنٹ کے زمانے میں لاس اینجلس اخبار سے ہوا مگر اسے بڑھاوا امریکہ کے ریڈیو کمپئر رش لمبا نے 1992 میں دیا۔ موصوف نہ صرف فیمنزم بلکہ بہت سے اور انسانی حقوق سے بھی خار کھاتے تھے اور اس تاک میں رہتے تھے کہ کیسے کس پر تاک کر حملہ کریں۔ ان کے کچھ ”اقوال زریں“ کا ذکر سناتے ہیں۔

‏A۔ فیمنزم :

1۔ فیمنزم کا ایک ہی مقصد ہے کہ بدصورت اور کسی بھی کشش سے محروم عورتیں معاشرے میں اہم نظر آئیں۔

2۔ کچھ فیمنسٹوں کا خیال ہے کہ جتنے بھی ابارشن کروائے جا سکیں، کم ہیں۔

3۔ دو ہزار سترہ میں پانچ لاکھ عورتوں کے مارچ کو اس نے پاگل فیمی نازی مارچ کہا۔ لمبا نے بار بار ان تمام لوگوں کے لیے فیمی نازی لفظ استعمال کیا جو عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

‏B۔ عورتوں / بچیوں کی توہین :

کلنٹن کے زمانے میں ان کی بیٹی چیلسی کلنٹن کی تصویر دکھا کر ناظرین سے پوچھا، کیا آپ جانتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں ایک کتا رہتا ہے؟ اس وقت چیلسی کی عمر تیرہ برس تھی۔

‏C۔ مانع حمل دوائیں :

دو ہزار بارہ میں مانع حمل دواؤں کی مخالفت کرتے ہوئے قانون کی طالبہ سینڈرا کو طوائف اور رنڈی کہہ کر پکارا۔

‏D۔ جنسی عمل میں عورت کی رائے / مرضی consent :

دو ہزار چودہ میں لمبا نے اوہائیو یونیورسٹی میں عورت کی مرضی جاننے کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ نہیں کا مطلب ہاں ہوتا ہے۔ بس تمہیں اس کا علم ہونا چاہیے۔

‏E۔ نسل پرستی :

1۔ لمبا نے بہت بار افریقین امریکن شہریوں کا یہ کہہ کر مذاق اُڑایا

”سب مجرم جیسی جیکسن جیسے نظر آتے ہیں“ جیسی جیکسن، مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کے ساتھی سیاست دان تھے۔

2۔ ریڈیو پروگرام کرتے ہوئے ایک سیاہ فام کو کہا ”اپنی ناک کی ہڈی باہر نکالو، پھر کال کرنا۔

3۔ امریکہ کے قدیم باشندوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے لمبا نے کہا، ان سب کے پاس کیسینو ہیں انہیں اور کیا چاہیے؟

‏F۔ ابارشن :

وہ جب بھی ابارشن کی بات کرتا، بیک گراؤنڈ میں ویکیوم کلینر کی آواز سنواتا۔

G۔ مشرق وسطیٰ :

اس نے ہمیشہ عراق کی جنگ کی حمایت میں بات کی اور نائن الیون کا بدلہ لینے کے لئے عراق کو بموں سے اُڑا دینے کی تجویز پیش کی۔ بعد میں جب اوباما نے عراق سے امریکن آرمی واپس بلانے کا فیصلہ کیا، لمبا مخالفین میں شامل تھا۔

ذرا موصوف کی ذہنی حالت ملاحظہ کیجیے کہ اس کے مطابق عورت سے تعلق بنانے کے لیے اس کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں، عورت کو مانع حمل دوائیں استعمال نہیں کرنی چاہیں اور اسے ان چاہے حمل کے لیے ابارشن نہیں کروانا چاہیے۔ یعنی مرد جب چاہے، جو چاہے اور جیسے چاہے۔

لمبا نے جن جن موضوعات پہ اپنی رائے دی، تنظیم Politifact نے اس کے چوراسی فیصد کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا۔ اب آپ سوچیئے ایک ایسا شخص جو بنیادی انسانی حقوق کی مخالفت کرتے ہوئے سفید فام برتری کا علم بردار تھا، نہ صرف عورتوں کو کچرے کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا تھا بلکہ نسل پرستی کا شدید حامی تھا، اس کے کہے ہوئے ایک سلوگن کو اگر کوئی استعمال کرے تو اسے کیا کہا جائے گا؟ لمبا کی باتوں پہ یقین کرنے والا یعنی لمبا ازم کا پیروکار یعنی لمباسٹ یا لمباسی ہو سکتا ہے۔

اسے یوں سمجھیے کہ جیسے عورتوں کے حقوق کے لیے فیمنزم آواز اٹھاتا ہے ویسے ہی عورتوں کو پیچھے دھکیلنے اور کمتر ثابت کرنے کا نام لمبازم ہے۔ فیمنزم کی آئیڈیالوجی پہ یقین رکھنے والے فیمنسٹ اور لمبازم کی آئیڈیالوجی پہ یقین رکھنے والے لمباسی۔ کہیے نیا لفظ پسند آیا؟

ہمارے خیال میں ابھی تک ضرورت تھی کہ فیمنسٹ کے مد مقابل کھڑے ہونے والے کی ایک پہچان ہو۔ ایک واضح پہچان۔ ایک استہزائیہ انداز۔ ایک مذاق اُڑانے والا لفظ۔ فیمی نازی کو بنا کسی ہچکچاہٹ کے استعمال کرنے والا۔ تو صاحبو! یہ لفظ وجود میں آ گیا ہے اور آج سے ہم ایسے ہر انسان کو لمباسی پکاریں گے چاہے صنفی شناخت کچھ بھی ہو۔

Facebook Comments HS