صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 28 : خاموش سفر


” قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔“ یوحنا 11 : 25۔ 26

جب نیلوفر آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو اسے محسوس ہوتا جیسے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا ہو۔ اس کی نظر سب سے پہلے اپنے جسم کے اس حصے پر پڑتی جو اس کی نسوانیت، شناخت اور ماں ہونے کی علامت تھا مگر اب وہ حصّہ وہاں نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتی۔ دن بھر یہ احساس اس کے دماغ پر ہتھوڑے چلاتا رہتا اور اس کے کانوں سے سائیں سائیں کی آواز آتی رہتی۔ وہ جھنجھلا کر کانوں پر اپنی ہتھیلیاں رکھ کر زور سے دباتی اور کچھ دیر کے لیے وہ آواز رُک جاتی مگر پھر وہی سائیں سائیں۔ جب مریم اسکول میں ہوتی تو وہ کبھی کبھار کمرے میں جاکر دروازہ بند کر لیتی اور چیخ چیخ کر روتی۔

شریف اور کیتھی شام کو بلا ناغہ بچیوں کو لے کر اس کے پاس آ جاتے مگر نیلوفر ان کی موجودگی میں بھی تنہائی محسوس کرتی۔ اس کی رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزرتی اور وہ آنکھیں بند کیے بستر پر پڑی رہتی تھی۔ جب اس کے دماغ میں اوٹ پٹانگ خیالات آنا شروع ہوتے تو وہ سمجھ جاتی کہ نیند آیا ہی چاہتی ہے مگر پھر اچانک وہ خود کو آپریشن ٹیبل پر دیکھتی اور اس کی آنکھیں کھل جاتیں۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن سر میں محسوس ہوتی۔ اسے مستقل یہ خوف ستاتا رہتا کہ اگر اس کی بقیہ زندگی اسی ذہنی حالت میں گزری تو وہ کیسے جیے گی۔ کبھی وہ مریم کی فکر کرتی کہ کیا وہ اسے اس حالت میں قبول کرے گی؟

نیلوفر کی سرجری کو تین ہفتے گزر چکے تھے اور ڈاکٹر نور محمد نے اسے کام پر جانے کی اجازت دے دی تھی مگر اس کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ حبیب خان مریم کو پابندی سے اسکول لے جاتے اور واپس لاتے تھے۔ اسے ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں کسی دن ایسا نہ ہو کہ حبیب خان مریم کو اسکول سے لانے کے لیے نہ پہنچیں۔ ممکن ہے کہ اُن کا رکشہ خراب ہو جائے یا وہ بیمار ہو جائیں، کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ جس دن اس کی سرجری تھی اس سے اگلے روز میڈم روبینہ اور کئی استانیاں اس کی مزاج پرُسی کے لیے آئی تھیں۔ اُس نے ان کے سامنے اپنے خوف کا اظہار کیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ چھٹی کے بعد ان میں سے کوئی استانی مریم کو خود گیٹ پر لے کر جائے گی، اور حبیب خان کے رکشہ میں بٹھا دے گی اور اگر حبیب خان وہاں موجود نہ ہوئے تو وہ خود مریم کو چھوڑ جائے گی۔

مریم سات سال کی ہو چکی تھی۔ وہ ایک چلبلی، باتونی اور خوش رہنے والی بچی ہوا کرتی تھی، اور اسکول میں اپنی کلاس کے بچوں میں ہر دل عزیز ہوتی تھی، مگر ماں کی بیماری کا اس پر گہرا اثر ہوا۔ وہ کلاس میں بھی چُپ چُپ رہنے لگی اور گھر آ کر ماں کے چہرے کو تکتی رہتی۔ نیلوفر اپنے بازو پھیلا کر اسے اپنی طرف بلاتی اور وہ بے اختیار آگے بڑھ کر اس سے اس طرح چمٹ جاتی جیسے ماں کا سینہ ایک محفوظ قلعہ ہو۔ نیلوفر دیر تک اسے چمٹائے رہتی۔

ڈاکٹر نور محمد کو فکر لاحق تھی کہ کہیں کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں نہ پھیل جائے۔ ہر ہفتے نیلوفر کے متعدد ٹیسٹ کیے جاتے۔ تین دن کے بعد نیلوفر کی ریڈی ایشن تھیراپی شروع ہونے والی تھی کہ ڈاکٹر نور محمد اپنے آفس میں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ان کے سامنے نیلوفر کی تازہ رپورٹیں تھیں جو اس کے جگر اور پھیپھڑوں میں کینسر کی موجودگی کی تصدیق کر رہی تھیں۔ اب انہیں یہ مسئلہ درپیش تھا کہ وہ ریڈی ایشن تھیراپی شروع کریں یا اس کے جگر اور پھیپھڑوں کی طرف توجہ دیں۔ آخر انہوں نے ریڈی ایشن تھیراپی منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

نیلوفر کی حالت دن بہ دن بگڑتی گئی۔ شدید تھکن، وزن میں کمی، اور مسلسل درد کی وجہ سے وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے۔ اس کا درد اس کے چہرے پر پڑھا جا سکتا تھا۔ ڈاکٹر نور محمد نے اسے درد کم کرنے کے لیے مارفین تجویز کی تھی جس سے اسے نیند آجاتی اور درد سے عارضی طور پر سکون مل جاتا۔

شریف اور کیتھی کئی مرتبہ نیلوفر سے کہہ چکے تھے کہ وہ ان کے ساتھ منتقل ہو جائے مگر وہ انکار کر دیتی۔ آخر جب انہوں نے کہا کہ وہ مریم کو لے جا رہے ہیں کیوں کہ نیلوفر کی حالت ایسی نہیں کہ وہ اس کی نگاہ داشت کرسکے تو وہ ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ کینسر اب اس کے جگر اور پھیپھڑوں میں پھیل چکا تھا جس کی وجہ سے اس کے پیٹ میں سیّال جمع ہوجاتا اور پیٹ پھولنے لگتا۔ ڈاکٹر نور محمد ہر چند روز کے بعد اس کے پیٹ سے سیال نکالتے جس سے اسے عارضی طور پر آرام آ جاتا۔ پھیپھڑوں میں کینسر کے باعث اسے مستقل کھانسی اور سانس کی تنگی کا سامنا تھا اور بعض اوقات کھانسی کے ساتھ خون بھی آتا تھا۔

جب نیلوفر مارفین کے اثر سے جاگتی تو مریم کو اپنے بستر کے برابر بچھی ہوئی کرسی پر بیٹھا دیکھتی۔ وہ اپنا نحیف ہاتھ آہستہ سے بیٹی کی طرف بڑھاتی اور مریم اپنا ہاتھ ماں کے ہاتھ میں دے دیتی۔ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو تکتی رہتیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ دونوں آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے بہت کچھ کہہ دیتی تھیں۔ نیلوفر تصور ہی تصور میں وہ منظر دیکھتی جب مریم جوان ہو جائے گی اور اسے ایک محبت کرنے والا شوہر مل جائے گا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی اور اسے دیکھ کر مریم بھی مسکرا دیتی۔

جوں جوں وقت گزرا، نیلوفر کی حالت بگڑتی گئی۔ وہ اب بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہی تھی اور کیتھی کی مدد کے بغیر ہلنے جلنے سے قاصر تھی۔ ڈاکٹر نور محمد نے شریف اور کیتھی کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب علاج کی مزید گنجائش نہیں رہی کیوں کہ اب وہ ہفتے عشرے کی مہمان ہے۔ اس کی زندگی کے آثار آہستہ آہستہ مدھم ہوتے جا رہے تھے۔ اس کے وقت کا زیادہ حصہ مارفین کے زیر اثر گزرتا۔ شریف نے انکل شاہد کو ٹیلی گرام بھیج دیا کہ نیلوفر کا آخری وقت آ پہنچا ہے۔ دوسری صبح کو ٹیلی گرام کا جواب آیا کہ وہ اگلے روز تیزگام سے پہنچ رہے ہیں۔ اس زمانے میں تیزگام حیدرآباد سے رات کو آٹھ بجے ملتی تھی اور لاہور اگلے دن دوپہر کو دو بجے پہنچاتی تھی۔

نیلوفر حسب معمول مارفین کی پُر سکون نیند سو رہی تھی اور مریم اس کے بستر کے برابر کرسی پر بیٹھی اسے تک رہی تھی۔ کمرہ گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا اور مریم کی نظریں اپنی ماں کے مدھم سانسوں کے دوران اس کے سینے کے زیر و بم پر تھیں جو برائے نام تھا اور کبھی کبھی چند سیکنڈ کے لیے رُک جاتا تھا، یہاں تک کہ ایک لمحہ آیا جب اس نے آخری سانس لیا اور خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کی زندگی کا گیت اس طرح اپنے اختتام پر پہنچا جیسے آخر میں گلوکار کی آواز مدھم ہوتے ہوتے سرگوشی اور پھر خاموشی تک پہنچتی ہے۔ موسیقی کے سُر بھی آواز کا ساتھ دیتے دیتے آخر چُپ ہو جاتے ہیں۔ نیلوفر کے آخری سانسوں کو دیکھنے والے صرف دو گواہ تھے۔ اس کی بیٹی جو اس کا ہاتھ پکڑے بیٹھی تھی اور اس کے کمرے کی کھڑکی سے نظر آنے والا غروب ہوتا ہوا سورج۔

***

اگر آپ مال روڈ پر فری میسن ہال یا برن ہال ہوٹل سے آگے بڑھیں اور لاہور کینٹ کی طرف جائیں تو چھاؤنی میں داخل ہوتے ہی آپ کو سڑک کی بائیں جانب ہولی ٹرِنِٹی چرچ کی عظیم الشان عمارت نظر آئے گی۔ یہ لاہور کے مشہور گرجا گھروں میں سے ایک ہے اور اس کی عمارت برطانوی نوآبادیاتی طرزِ تعمیر کی اعلیٰ مثال ہے۔ اُس روز چرچ کا ہال سوگواروں سے بھرا ہوا تھا جن میں کئی مذاہب کے لوگ تھے۔ نیلوفر کے اسکول کی استانیاں اور طالبات اس کے آخری سفر کی روانگی پر اسے خدا حافظ کہنے کے لیے وہاں موجود تھیں۔

نیلوفر کا تابوت، جسے اس کے دوستوں اور خاندان کے افراد نے اٹھایا ہوا تھا، چرچ کے مرکزی ہال میں رکھا گیا۔ تابوت کا سرہانا کھلا چھوڑ دیا گیا تھا اور بقیہ حصے پر سفید چادر اور ایک چھوٹی سی صلیب رکھی ہوئی تھی جس کے گرد سفید پھولوں کا حلقہ تھا۔ چرچ کی نرم روشنی نیلوفر کے چہرے پر پڑ رہی تھی، اور یوں لگتا تھا جیسے وہ ابھی کسی خواب کی گہرائیوں میں ہو، جہاں سکون اور پاکیزگی کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس کا چہرہ معصومیت اور روحانی سکون کا مظہر تھا اور وہ اپنے درد سے آزاد ہو چکی تھی۔ بند آنکھوں کے ساتھ وہ یوں نظر آتی تھی جیسے خدا کی حضوری میں سر جھکائے کسی مقدس دعا میں محو ہو۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو کسی ناقابلِ بیان اطمینان کا اظہار کر رہی تھی۔

فادر جیمس نے دعا کا آغاز کیا، ”میں قیامت اور زندگی ہوں، خداوند فرماتا ہے۔ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے، وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہے گا۔“ ان کی دعا کے بعد چرچ کے مقدس گلوکاروں کے گروپ نے مدھم آواز میں حمدیہ گیت گائے اور اس دوران نیلوفر کی کلاس کی طالبات تابوت کی دونوں جانب قطار باندھے کھڑی رہیں اور ہر ایک کے ہاتھ میں گلاب کی ایک ٹہنی تھی۔ وہ خاموش کھڑی تھیں مگر ان کی آنکھیں نم تھیں۔

فادر جیمس نے میڈم روبینہ کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے بلایا۔ انہوں نے بھرّائی ہوئی آواز میں کہا، ”نیلوفر ایک ٹیچر سے بڑھ کر تھیں۔ وہ علم کی ایک ایسی روشنی تھیں جو کبھی مدھم نہیں ہوگی۔ وہ اپنی شاگردوں کی زندگی میں امید کے پھول کِھلاتی تھیں۔ آج ہم ایک عظیم انسان کو خدا کے سپرد کر رہے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہیں گی۔“

جب چار لوگوں نے تابوت قبرستان لے جانے کے لیے اٹھایا تو چرچ کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں۔ قبرستان ہولی ٹرِنِٹی چرچ سے دو کلومیٹر دور تھا۔ عموماً تو لوگ جنازہ کندھوں پر اٹھا کر پیدل ہی قبرستان جاتے تھے مگر شریف نے اپنے ایک دوست کی پِک اپ لے لی تھی جس پر تابوت رکھ دیا گیا اور لوگ ان کے پیچھے پیچھے جلوس کی شکل میں چل دیے۔ فادر جیمس اپنی گٹھیا زدہ ٹانگوں سے مجبور تھے لہٰذا وہ جنازے کے ساتھ نہیں جا سکے۔ چرچ کی پشت کے دروازے پر کھڑے ہوئے وہ دور تک جنازے کو جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ چرچ کی مدھم گھنٹیاں یہ اعلان کر رہی تھیں کہ نیلوفر کی روح اب دنیاوی زندگی سے آزاد ہو کر اپنے خالق کے پاس جا رہی ہے۔

Facebook Comments HS