کیا اولاد ایسی بھی ہوتی ہے؟


آج ایک لڑکی پہلی دفعہ کارڈ بنوانے کے لیے آئی۔ اٹھارہ انیس برس کی تھی۔ مقامی نہیں تھی۔ باپ نارمل پراسیس پر آمادہ تھا اور ہزار روپیہ مجھے تھما چکا تھا مگر لڑکی ایگزیکٹو پر زور دے رہی تھی اور اپنے باپ سے شدید بحث کر رہی تھی۔ کہنے لگی کہ کارڈ نہیں بنوا کر دینا تھا تو یہاں کیوں لا کر ذلیل کروا رہے ہیں۔ آپ کو نہیں پتہ آپ چپ رہیں۔ میں نے بھی جلدی بنوانے کی ضرورت جاننا چاہی مگر وہ بضد تھی کہ بس مجھے ایگزیکٹو والا ہی بنوانا ہے۔ خیر لڑکی نے پندرہ سو روپے اپنی جیب سے دیے اور کہنے لگی کہ یہ پیسے میں ان سے گھر جا کر لوں گی۔ اس کا لہجہ بڑا سخت تھا۔ سارا دفتر اس کی اپنے باپ کے ساتھ بدتمیزی دیکھ رہا تھا۔

تعلیم کا پوچھا تو کہنے لگی کہ سیکنڈ ائر پاس ہوں۔ باپ بچارے نے غلطی سے ٹوک دیا کہ improvement دی ہوئی ہے ابھی مکمل کہاں ہوئی ہے۔ اس کے یہ الفاظ منہ سے نکلنے کی دیر تھی کہ اس لڑکی کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی اور وہ اپنے باپ پر چڑھ دوڑی کہ آپ پڑھ لکھ کر بھی جاہل کے جاہل ہی ہیں۔ نہیں پتہ تو مت بولیں سب کے سامنے ذلیل کیوں کروا رہے ہیں۔ میں ہکا بکا اس کا منہ دیکھتا رہ گیا مگر خاموش رہا۔ باپ بچارا بھی بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔

پراسیس مکمل ہونے کے بعد میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ نہیں ہے اپنے والد سے بات کرنے کا۔ زندگی میں والدین ہی سب کچھ ہیں۔ اس بات کا احساس تمہیں آگے جا کر ہو گا۔ بڑی اکڑ کر کہنے لگی کہ مجھے یہ جان کر کچھ نہیں کرنا۔ باپ بھی کہنے لگا کہ آج کل کی اولاد اسی طرح ہوتی ہے۔ میں نے مزید کہا کہ ساری کامیابیاں انہی کے دم سے ہیں۔ ان کو ناراض کر لیا تو سب کچھ پا کر بھی تمہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اس بات کو اپنے پلے باندھ لو۔ اس پر وہ خاموش رہی۔ شاید میری بات اس کے کچھ پلے بندھی۔ اس کے بعد اس سے پراسیس سے متعلق چند جملوں کا تبادلہ ہوا مگر غیر متوقع طور پر اس نے مجھے سے بڑی تمیز سے بات کی۔

Facebook Comments HS