استاد جی، اللہ جو واسطو آھی
مدرسے کے صحن میں دھوپ تیز تھی، جیسے زمین آگ اگل رہی ہو۔ چاروں طرف قرآن کی تلاوت کی آوازیں گونج رہی تھیں، اور کہیں دور سے ہوا کے ساتھ درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ مدھم سی سنائی دے رہی تھی۔ مدرسے کے مرکزی ہال کے ایک کونے میں رسول بخش، خاموشی سے دیوار کے سائے میں بیٹھا ہوا، اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اس کے ناخن چبانے کی پرانی عادت اب بھی باقی تھی، اور زخموں سے خون رس رہا تھا۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ وہ بار بار اونگھتا، پھر اپنی پچھلی رات کے اذیت ناک لمحوں کو یاد کر کے جاگ جاتا۔
مدرسے کی راتیں بہت لمبی اور سرد ہوتی تھیں، لیکن رسول بخش کے لیے رات کی سردی سے زیادہ خوفناک وہ زنجیریں تھیں جو اسے جکڑ کر رکھتی تھیں۔ مدرسے کے بڑے لڑکے اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے اور قاری صاحب کا خوف اسے ہر راز چھپانے پر مجبور کرتا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے لیے صبح کبھی نہ ہو، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ صبح قاری صاحب کا ڈنڈا اس کا منتظر ہو گا۔
ایک دن ایسا ہی ہوا۔ رسول بخش رات بھر جاگتا رہا، مچھروں کے کاٹنے اور زنجیروں کے درد سے۔ صبح جب سبق سنانے لگا تو اس کے ذہن میں کچھ بھی نہ آیا۔ قاری صاحب کی نظر میں یہ سب سے بڑا جرم تھا۔ اس نے دل ہی دل میں دعائیں کیں، لیکن قاری صاحب کے ڈنڈے کی تیز برسات نے اس کی تمام امیدیں توڑ دیں۔
”استاد جی، اللہ جو واسطو آھی۔“ وہ بار بار یہ جملہ دہراتا رہا، لیکن قاری صاحب کے ہاتھوں کی سفاکی میں کوئی نرمی نہ آئی۔ رسول بخش کی زبان سے نکلنے والا یہ جملہ مدرسے کی فضا میں گونجتا رہا، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔
—
برسوں بعد ، ایک اور مدرسے کے دروازے پر ایک چھوٹے سے لڑکے کو چھوڑا جا رہا تھا۔ اس کے والد قاری صاحب سے کہہ رہے تھے، ”استاد جی، اسے حافظ بنا دیں بس۔ گوشت آپ کا اور ہڈیاں ہماری۔“
قاری رسول بخش نے اپنے نئے شاگرد کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی خوف تھا جو کبھی اس کی آنکھوں میں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب وہی اس استاد کی جگہ پر ہے، وہی قاری جو کبھی اس پر ظلم کرتا تھا۔ وہی زنجیریں، وہی ڈنڈا، اور وہی الفاظ۔
لڑکے نے ابھی پہلا سبق بھی نہ سیکھا تھا کہ رسول بخش نے اسے پہلی غلطی پر سزا دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا اور لڑکے کی چیخیں مدرسے کی خاموش فضا میں گونج رہی تھیں۔
”استاد جی، اللہ جو واسطو آھی!“ وہ لڑکا روتا ہوا یہی دہراتا جا رہا تھا۔
رسول بخش کے ہاتھ رک گئے، اور اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ اسے اپنے بچپن کی وہ راتیں یاد آئیں جب وہ خود ان الفاظ کو دہرایا کرتا تھا۔ وہ اپنے ماضی کے عذابوں میں کھو گیا، جیسے کوئی پرانا زخم پھر سے ہرا ہو گیا ہو۔
مدرسے کی راتوں میں اب بھی چیخیں گونجتی ہیں۔ قاری بدل گئے ہیں، لیکن ظلم کا سلسلہ جاری ہے۔ وہی زنجیریں، وہی ڈنڈا، اور وہی چیخیں۔
”استاد جی، اللہ جو واسطو آھی!“


