علم و ادب کی کہکشاں کا سفر


Dr Shahid M shahid

میری خوش قسمتی ہے کہ میں ایک ایسی شخصیت پر اپنے قلمی تاثرات بند کر رہا ہوں جس کی علمی و ادبی پرواز کا ستارہ بڑا روشن تھا۔ اس نے ساری زندگی علم و ادب کی ترویج کے لیے وقف کی۔ عمر بھر درس و تدریس سے منسلک رہیں۔ اگر ان کی تدریسی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے 32 سال کنیرڈ کالج لاہور میں اور پانچ برس ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دیں۔ سینکڑوں طلبہ و طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ انسان کی زندگی میں جس صفت کا چراغ جل جائے اس کی کرنیں دوسروں کو ضرور منور کرتی ہیں۔

کبھی کبھی قدرت ایسے لوگوں پر مہربان ہو جاتی ہے جو اپنی ذات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے اذہان و قلوب کو بھی علم و ادب کی روشنی سے منور کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ جو اپنی زندگی میں دوسروں کا احساس و فکر کرتے ہیں۔ خواتین کے متعلق اکثر یہ بات لکھی گئی ہے کہ وہ طب و تعلیم کے شعبوں کے لیے موزوں تصور کی جاتی ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اندر رحم دلی اور احساس محبت کا درد رکھتی ہیں۔ قربانی کے جذبے سے سرشار ہوتی ہیں۔ وہ اکثر ماں کے پیٹ سے ہی خدمت کا جذبہ لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ وہ سب رکاوٹیں عبور کر کے اپنے مقاصد کا تعین کر لیتی ہیں۔ انہیں زندگی میں وہ سرشاری اور اطمینان مل جاتا ہے جو زندگی کے اغراض و مقاصد میں شامل ہوتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر وکٹوریہ پیٹرک کا نام اسی جذبہ سے کشید ہے۔ اگر ان کی ابتدائی زندگی کا مختصر طور پر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کا ابتدائی سفر کتنا دلچسپ اور معنی خیز ہے۔ وہ 10 فروری 1944 کو پشاور میں پیدا ہوئیں۔ کنڈر گارٹن سکولنگ سالویشن آرمی سکول لاہور سے، ابتدائی تعلیم آرمی پرائمری سکول جہلم سے، مڈل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ایبٹ آباد سے، میٹرک ڈھاکہ بورڈ مشرقی پاکستان (پرائیویٹ) ، انٹرمیڈیٹ اور بی اے کنیرڈ کالج لاہور سے جبکہ ایم اے یونیورسٹی آف پنجاب لاہور سے پاس کیا۔ یقیناً تعلیم و تربیت زندگی پر گہرے نقوش چھوڑتی ہے۔ اسی تڑپ اور لگن نے ان کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔

وہ بیک وقت کالم نگار، مضمون نگار، افسانہ نگار، شاعرہ، مبصرہ، کہانی نویس، گیت نگار اور مترجم کے طور پر مشہور تھیں۔ ان کی پہلی غزل شمع دہلی 1960 میں شائع ہوئی۔ ان کی پاک فوج کے روزنامہ ہلال کے ”بچوں کا صفحہ“ میں چھوٹی چھوٹی نظمیں، غزلیں اور کہانیاں شائع ہوتی رہیں۔ یہ سلسلہ 1959 سے 1960 تک جاری رہا۔ پھر کنیرڈ کالج میگزین ”حرف آخر“ میں ان کی کہانیاں نظمیں اور غزلیات شائع ہوتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1964 سے 1965 تک شعبہ اردو کی بطور ایڈیٹر فرائض سرانجام دیے۔ ریڈیو پاکستان سے بیڈ ٹائم اسٹوری کے پروگرام میں ان کی کہانیاں اور بچوں کے گیت نسرین انجم بھٹی کے توسط سے نشر ہوئے۔ انہوں نے موہنی حمید صاحبہ کے ساتھ بچوں کے کئی پروگرامز نشر کیے۔

وہ کئی اداروں کی بورڈ ممبر بھی رہیں۔ مثلاً پاکستان بائبل سوسائٹی، لینگویج ریکارڈنگ انسٹیٹیوٹ پاکستان، مسیحی اشاعت خانہ، شالوم ٹوڈے پاکستان، لو یور نیبرز، کیئر چینل انٹرنیشنل اور ری ڈیم کرسچن چرچ آف گاڈ پاکستان شامل ہیں۔ قلم قبیلہ سے بے پناہ محبت رکھتی تھیں۔ وہ ہمیشہ بڑوں کے ساتھ احترام اور چھوٹوں سے شفقت کے ساتھ پیش آتی تھیں۔ اپنے مزاج میں تخلیق، تحقیق اور تنقید کے فن سے واقف تھیں۔ ان کی محنت اور جذبے نے انہیں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ اہل ادب کی نظر میں محترمہ وکٹوریا پیٹرک صاحبہ نے ایک اچھی ماں اور وفادار بیٹی کا کردار پیش کیا ہے۔ معاشرے میں ایک ایماندار استاد کا کردار نبھایا ہے۔ اس لیے آپ کی پہچان و کردار نے عزت، شہرت اور ناموری جیسے رتبے حاصل کیے۔ مصنفہ نے اپنے آبا و اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تخلیقی میدان میں نمایاں کام کیے ہیں۔ بلکہ انہوں نے اپنی ذاتی اور گہری دلچسپی کے باعث کئی کتابیں لکھنے کا شرف بھی حاصل کیا ہے۔

ان کی مطبوعہ کتابوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ دیپ دیپ اجالا ( تعلیمی گیت )
2۔ سلام اے وطن ( قومی گیت اور نظمیں )
3۔ پنکھڑیاں ( بچوں کی نظمیں )
4۔ کوئی کہکشاں تو ہو ( غزلیات اور منظومات )

جبکہ غیر مطبوعہ کتب میں
1۔ لہر لہر روشنی ( مسیحی گیت )
2۔ چاندنی دھواں دھواں ( غزلیں )
3۔ بال ادب ( بچوں کے لیے پنجابی نظمیں )
4۔ سدھراں ( پنجابی غزلیں )
5۔ کرن کرن زندگی ( مسیحی گیت )

میں ذاتی طور پر ان کے کام، فن اور شخصیت سے واقف ہوں۔ ان کی قابلیت کا مدح ہوں۔ وہ مسیحی گیت نگاری میں منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کا مشہور گیت ”روشنی روشنی سارا عالم ہوا“ نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ جسے ہر سال کرسمس کے موقع پر چرچز میں گایا جاتا ہے۔

آپ کی شاعری کو جن گلوکاروں نے گایا۔ ان میں ثمینہ زاہد، ثریا خانم، نور جہاں، غلام علی، اے نیر، حامد علی، بنجمن سسٹرز، نینا جارج، سائرہ نسیم، شبنم مجید، افشاں اور نصرت فتح علی کے نام شامل ہیں۔ آپ ترجمہ نگاری کے فن سے بھی خوب واقف تھیں۔ انہوں نے مسیحی اشاعت خانہ کی 22 کتب کا ترجمہ کیا۔ جو ان کی لیاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ الہیاتی دلچسپی کے باعث نیشنل کرسچن کالج آف ڈیونٹی اینڈ ورشپ لاہور نے آپ کو ( ڈاکٹر آف ڈیونٹی) کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ آپ ایک کہانی نویس بھی تھیں۔ یونیسیف کے پروجیکٹ کے لیے آپ نے مندرجہ ذیل کہانیاں لکھیں۔

1۔ آؤ کاروبار کریں
2۔ امن کی راہیں
3۔ پیار کے رشتے
4۔ نیا سویرا

ان کی فنی اور اصلاحی شاعری نے کلیساء پاکستان میں بے حد شہرت پائی۔ ان کے گیتوں میں الہیاتی تصور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاعرہ کو خدا کی قربت اور رفاقت کا گہرا تجربہ تھا۔ ان کی اس بے لوث خدمت نے ان کے نام کو زبان زد عام کیا۔

بہت سے اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا۔ مثلاً ستارہ پاکستان ( پاکستان گرل گائیڈ ایسوسی ایشن ) میڈل آف میرٹ ( پاکستان گرل گائیڈ ایسوسی ایشن ) ایشیا پیسیفک ریجن لیڈرشپ ایوارڈ ( یونیورسل گرل گائیڈ ایسوسی ایشن ) فاطمہ جناح گولڈ میڈل (حکومت پنجاب) لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ( کنیرڈ کالج چرچ آف پاکستان جیز کرائسٹ ٹیلی ویژن) ویمن آف آل شیڈز ایوارڈ ( کیتھڈرل چرچ لاہور) اس کے علاوہ مختلف تنظیموں، اداروں اور چرچز سے ملنے والے ایوارڈز کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ کرسچن کمیونٹی میں انہیں جو مقام اور عزت ملی ہے۔ وہ علمی، ادبی، تعلیمی، علاقائی اور بین الصوبائی سطح پر بہت زیادہ ہے۔ اسے ہمیشہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی طور پر یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ تخلیق کار کبھی نہیں مرتا۔ وہ ہر دور، زمانے اور صدی میں زندہ رہتا ہے۔ میں محترمہ وکٹوریا پیٹرک صاحبہ کو ان کی لازوال خدمات پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وہ 80 برس عمر پا کر بتاریخ 3 اکتوبر بروز جمعرات 2024 رات 11 بجے خداوند میں سو گئیں۔ ان کا جسد خاکی گورا قبرستان لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس امر کے باوجود بھی ان کا کام اور فن ہمارے دلوں اور نسلوں کو اس بات کی یقین دہانی کرواتا رہے گا کہ وہ ایک عظیم استاد شاعرہ، ادیبہ، مبصرہ، کالم نگار، مضمون نگار، کہانی نگار اور مترجم تھیں۔

Facebook Comments HS