جنوبی کوریا میں مارشل لاء کا حشر


گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ نے ہمارے ذہنوں میں کشادگی لانے کے بجائے ہمیں کنوئیں کے مینڈکوں میں بدل دیا ہے۔ بین الاقوامی حالات سمجھنے کی ذرہ برابر کوشش نہیں ہوتی وگرنہ دیگر ملکوں کا بغور جائزہ ہمیں اپنے حالات کو بہتر انداز میں جاننے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ بہرحال کنوئیں کے مینڈک ہوئے میرے ذہن کو جب منگل کی شب یہ خبر ملی کہ جنوبی کوریا کے صدر نے اپنے ملک میں مارشل لاءکا اعلان کردیا ہے تو میں نے فوراََ طے کرلیا کہ یہ لمبے عرصے تک مسلط  رہے گا۔

جنوبی کوریا کے حالات ہم سے بہت ملتے ہیں۔ ہم دونوں امریکہ اور سوویت یونین کے مابین برسوں تک چھڑی سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ ممالک کے حلیف رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد البتہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے مابین جنگ چھڑی تو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اس میں امریکہ کی براہ راست معاونت سے انکار کردیا۔ ہم نے امریکہ کی بارہا درخواستوں کے باوجود جنوبی کوریا کے ”دفاع“ کے لئے امریکی افواج کی کمان میں قائم نام نہاد ”امن فوج“ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ ہم پر یہ دباﺅ بھی ڈالا گیا کہ ہم روپے کی قدر میں کمی کریں۔ لیاقت علی خان کی حکومت نے وہ دباﺅ بھی نظرانداز کردیا۔ کوریا میں چھڑی جنگ کے دوران فوجیوں کو بارش اور نمی سے محفوظ رہنے کے لئے پٹ سن سے بنی ترپالوں وغیرہ کی ضرورت تھی۔ ان دنوں آج بنگلہ دیش کہلاتا مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا۔ وہ دنیا بھر میں پٹ سن پیدا کرنے والے ممالک کی صف اوّل میں شامل تھا۔ کوریا میں چھڑی جنگ کی وجہ سے مشرقی پاکستان کی پٹ سن کی بدولت ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر قیام پاکستان کے دوران نازل ہوئی معاشی مصیبتوں کے باوجود توانا تر ہوگئے۔ بازار میں رونق لگ گئی۔

خود کو شمالی کوریا میں ضم ہونے سے بچانے کے باوجود جنوربی کوریا جمہوری نظام تشکیل نہ دے پایا۔ اسے بھی امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی طرح جمہوری نظام بھلاکر ”قوم کو ترقی دینے“ کے لئے مارشل لاءکے ذریعے نمودار ہوئے دیدہ وروں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بالآخر پارک نامی آمر کی صورت وہ دیدہ ور مل گیا۔ اسی دوران پاکستان بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کی صورت اپنا ”دیدہ ور“ تلاش کر چکا تھا۔ پاکستان اور جنوبی کوریا کی اشرافیہ سرد جنگ کی راحتوں سے مالا مال ہونا شروع ہو گئیں۔

دونوں ممالک میں تاہم فوجی آمریتوں کی مزاحمت بھی ابھری۔ ہمارے ہاں اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی عمل میں آئی۔ بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران آئینی حکومت کا وقفہ بھی آیا۔ 1977ء میں لیکن ایک بار پھر مارشل لاءکی چھتری تلے جانا پڑا۔ جنوبی کوریا میں چند برسوں کے جمہوری وقفے کے بعد 1979ء میں دوبارہ مارشل لاءلگ گیا۔ اس مارشل لاءکی مزاحمت کے دوران 18 مئی 1980ء کے دن ایک یونیورسٹی میں دو ہزار کے قریب طالب علم فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے میں مارے گئے۔ اس کے بعد کئی برسوں تک اس ملک میں خوف کا راج رہا۔جمہوری نظام کی طرف لوٹنے میں بہت برس لگے۔

جنوبی کوریا کی تاریخ سے تھوڑا واقف ہوتے ہوئے میں نے فرض کرلیا کہ وہاں کے عوام بھی ”جمہوری تجربے“ سے اکتا چکے ہوں گے۔ مجھے یہ خبر تو تھی کہ وہاں کا صدر -یون سک یول (Yoon Suk Yeol)- عوام میں غیر مقبول ہے۔ وہ سرکاری وکیل رہا ہے۔ اس کی بیوی پر کرپشن کے شدید الزامات ہیں۔ اس کے خلاف غصے میں عوام نے تاہم رواں برس کے اپریل ہی میں ہوئے پارلیمانی انتخاب کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی بھرپور حمایت کی تھی۔ وہ اس جماعت کے رہ نماﺅں کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنانے میں مصروف ہوگیا۔ بطور بااختیار صدر وہ اپوزیشن جماعت کی حکومت کے حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتا رہا۔ بالآخر تنگ آکر منگل کے روز مارشل لاء کا اعلان کر دیا۔

جنوبی کوریا کے صدر نے مارشل لاءلگایا تو مجھے 1958ء کا پاکستان یاد آ گیا۔ کنوئیں کا مینڈک ہوئے ذہن نے طے کر لیا کہ شاید جنوبی کوریا کی فوج سے اب کوئی ”ایوب خان“ ابھرے گا اور جنوبی کوریا ایک بار پھر طویل برسوں کے لئے فوجی آمریت کی نذر ہو جائے گا۔ ذہن کو سازشی تھیوری گھڑنے کے لئے استعمال کیا تو یہ سوچا کہ یون سک کی جگہ بالآخر نمودار ہوا ”ایوب خان“ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی پسند آئے گا۔ ٹرمپ چین کے خلاف محاذ آرائی کو تلا بیٹھا ہے۔ امریکہ جب بھی روس یا چین سے محاذ آرائی کو ڈٹ جائے تو پاکستان اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں میں آمروں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ آمراسے انگریزی محاورے والی ”ون ونڈو“ (One Window) فراہم کر دیتے ہیں۔ ریگن کو افغانستان ”آزاد“ کروانے کے لئے پاکستان میں جنرل ضیاءملا۔ اس ملک میں ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“لڑنے کے لئے بش کو مشرف کی ضرورت محسوس ہوئی۔ منگل کے روز جنوبی کوریا میں لگایا مارشل لاءٹرمپ کو چین سے محاذ آرائی کے لئے جنوبی کوریا سے کوئی ”جنرل ضیاءیا مشرف“ فراہم کر سکتا تھا۔

رات سونے سے قبل مگر لیپ ٹاپ کھولا تو میرے ذہن میں آئی تمام سازشی تھیوریاں ریت کا ڈھیر ثابت ہوئیں۔ عالمی میڈیا کی براہ راست نشریات کے پھیروں سے معلوم ہوا کہ جنوبی کوریا کے عوام کی کماحقہ تعداد پارلیمان کی عمارت کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئی ہے۔ وہاں کی قومی اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس طلب کر لیا تھا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے 300 میں سے 190 اراکین فوج اور پولیس سے لڑتے جھگڑتے قومی اسمبلی پہنچ گئے۔ مارشل لاءکے خلاف قرارداد منظور کی۔ صدر یون کو فوراََ اس قرارداد کی تعمیل کرنا پڑی۔ مارشل لاءاٹھالیا۔ اب اس کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کر دی گئی ہے جس کا فیصلہ دو دنوں میں متوقع ہے۔ دریں اثناء اراکین اسمبلی کا ایک گروہ اس امر پر بھی اصرار کر رہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پولیس اور فوج کے ان افسران اور اہل کاروں کی نشاندہی ہو جنہوں نے اراکین پارلیمان کو منگل کی رات قومی اسمبلی میں روکنے کی بزورقوت کوشش کی۔ نشان دہی کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز ہو۔ دیکھنا ہو گا کہ اس مطالبے پر بھی عمل ہوتا ہے یا نہیں؟!

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS

One thought on “جنوبی کوریا میں مارشل لاء کا حشر”

  • 05/12/2024 at 3:24 شام
    Permalink

    ہمارے ملک میں مارشل لاء کا تذکرہ لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا گناہ یا عذاب نازل ہوگیا ہو۔
    جس طرح دنیا بھر میں پہلے بھی بغاوتیں ہوتی رہی ہیں فوجی بغاوت کو کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ چاہے ہمیں اچھا لگے یا برا۔
    پاکستان میں فوجیوں کو برا بھلا کہنے والے سویلین حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ دو سویلین حضرات نے بھی مارشل لاء لگایا تھا۔ پہلا مارشل لاء 1958 میں سویلین صدر اسکندرمرزا نے لگایا جو 1954 میں بیوروکریسی / فوج سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ جب کہ دوسرا مارشل لاء ذوالفقار علی بھٹو نے لگایا تھا اور خود سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن بیٹھے تھے۔ لیکن کسی کو یاد کرنے کی حاجت نہیں۔
    پاکستان میں اگر اس کا راستہ روکنا ہو تو دو ہی طریقے ہیں۔ عدالتیں آزاد کام کریں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں مانا جاتا ہے کہ انصاف چاہئیے تو اچھا وکیل کرنے سے بہتر ہے کہ اچھا جج کرلو۔ ویسے بھی پاکستان کی عدلیہ دنیا بھر میں اسفل سافلین کی جگہ پائی جاتی ہے۔
    پاکستان میں سیاست دان حضرات اور پارلیمان بھی اس کو روک سکتے ہیں لیکن وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے ہاتھ صاف ہوں۔

Comments are closed.