گورکھ دھندا
ثانیہ کو اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنا تھی۔
وہ بخوبی جانتی تھی کہ وہ جمال احمد کے لیے اتنی اہم تو نہ تھی کہ تعلق ٹوٹنے سے اسے کوئی فرق پڑتا مگر کیا اتنی غیر اہم تھی کہ اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا، یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔
ان کی گفتگو انسانی ذہن کی وسعتوں میں سمانے سے قاصر اعداد و شمار اور علامتوں کے انوکھے تال میل کا روپ ڈھالتی، روشنی کے موتیوں کی صورت غیر مرئی جال کے مہین ریشوں میں سفر کرتی، لمحے کے ہزارویں حصے میں فاصلہ طے کرتی، ایک چھپاکے سے پردہ سیمیں پہ روشن ہو جاتی۔ یہ گفتگو اس کے لئے ذہنی آسودگی کا ذریعہ تھی۔
چند ہفتوں کا وہ تعلق سال بھر گزرنے کے بعد بھی ثانیہ کے ذہن سے محو نہیں ہو پایا تھا۔ دفتر کی بے انتہا مصروفیت کے دوران بھی ثانیہ کو جب جمال احمد کے اچانک سے غائب ہو جانے کا خیال آ جاتا تو وہ بے چین ہو جاتی۔ اس نے کئی بار اسے سوشل میڈیا پہ تلاش کرنے کی کوشش کی مگر وہ اسے پھر کہیں نہ ملا۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے
یادوں کا میکینزم بھی گورکھ دھندے جیسا ہے۔ الجھی ہوئی یادوں کے چھپاکے آدمی کو بار بار اسی دیوار کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے واپس مڑ کر ایک نیا رستہ تلاش کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ہر بار ایک نئی ابتدا۔ وہ دن میں کئی بار اس دیوار کے آگے آ کھڑی ہوتی۔ اور پھر نئے رستے کا کھوج لگانے چل پڑتی۔
ثانیہ جمال احمد کی باتوں سے بے حد متاثر تھی۔ اس کی ہر بات سے علمیت جھلکتی مگر وہ کچھ عجیب شخص تھا۔ اداس، تنہا، نا مکمل سا۔ اس سب کا اندازہ اسے جمال احمد کی گروپ کے دیگر ممبران کے ساتھ انتہائی مختصر گفتگو سے ہوتا۔ کئی بار تو وہ اپنے علم سے بھی بے زار دکھتا۔ جہاں اس کی گفتگو عقلی اور شعوری مسرت عطا کرتی وہیں اس کی خاموشی اور متانت بھی پورے زور و شور سے محسوس ہوا کرتی۔ وہ سنجیدہ مزاج اور غالباً ایک دکھی انسان تھا۔ جس کے نزدیک زندگی سے زیادہ ناپائیدار کوئی شے نہیں تھی۔
ثانیہ جمال احمد سے متفق نہ ہونے کے باوجود اس کے استدلال سے متاثر ہو جاتی۔ وہ اکثر اپنی گفتگو میں مرفی کا حوالہ دیا کرتا۔ ثانیہ اپنے دلائل دینے سے کبھی نہ چوکتی۔
اب جب وہ ڈرائیو کرتے ہوئے اکثر غلط ایگزٹ لے لیتی تو اسے مرفی کے اچھوتے، پراسرار مگر روزمرہ کے حقائق پہ مبنی قوانین سمجھ میں آنے لگتے۔ اسے اپنی اور جمال احمد کی پر مغز گفتگو کے وہ پر لطف لمحے کبھی نہ بھولتے۔
اپنی ڈیسک سے اٹھتے ہوئے اسے خوب یاد تھا کہ آج اسے ایک نیا کام کرنا ہے۔ اس نے کافی کا کپ میز پہ دھرا۔ اپنی ڈیسک پہ کھلا لیپ ٹاپ بند کیا۔ بیگ اٹھایا اور آفس سے باہر نکل آئی۔ سگنل پہ کھڑے اس نے محسوس کیا کہ اس کے دل میں دکھ کا ایک سیال مادہ سا بھرنے لگا ہے۔ غالباً ڈھلتی شام کا اثر تھا جس نے جمال احمد جیسے باکمال انسان کو کھو دینے کا دکھ تازہ کر دیا تھا۔ یہ ذہنی تسکین اسے کہیں اور میسر نہ تھی۔
وہ یہ تو نہیں جانتی تھی کہ پھر کبھی جمال احمد سے بات ہوگی یا نہیں مگر وہ اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنا چاہتی تھی۔ گھر پہنچتے ہی اس نے لیپ ٹاپ کھولا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد حاصل کرنے کی ٹھانی۔ اسے مرکزی کرداروں کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کرنا تھیں، کچھ اپنی کہانی کا معمولی سا پلاٹ بیان کرنا تھا۔ وہ یہ بھی چاہتی تھی کہ اے آئی اس سے جمال احمد کے طور پہ بات کرے تاکہ وہ اپنے اور جمال احمد کے تعلق کی تہہ تک پہنچ سکے۔ اے آئی کو ایک خود کار طریقے سے کہانی کو آگے بڑھانا تھا۔
آپ کیسے ہیں۔ ثانیہ نے ٹائپ کیا۔
پہلے جیسا۔ یہ ہوبہو وہی جواب تھا جو جمال احمد دیا کرتا۔ ثانیہ حیران ہوئی۔
فارغ تھی سوچا آپ سے چند لمحے بات کی جائے۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ کیا بات کروں سکرین پہ میسیج ملا
چپ کیوں ہو گئیں؟ میں منتظر ہوں۔ کیجئے بات
کچھ نہیں بس یونہی۔ پھر اس نے کچھ سوچ کے ٹائپ کیا۔ اس رات کے بعد آپ اچانک سے۔ میرا مطلب ہے کیا وہ سب بے معنی تھا؟
آپ جیسی ذہین لڑکی بھی ان باتوں میں پڑ گئی؟ اے آئی کا میسیج ریسیو ہوا
میں انسان ہوں جمال احمد۔ وہ جانتی تھی کہ وہ جمال احمد سے نہیں بلکہ ایک مشین سے بات کر رہی ہے۔
میں ایموشنز کی کوسٹ پر اچھا دوست کھونا نہیں چاہتا۔ جواب ملا
میں آپ کی دوست نہیں۔ اسے لگا وہ چلا رہی ہے۔ مجھے آپ سے محبت ہے اس نے رک رک کے ٹائپ کیا۔
کیا محبت کوئی ایسی چیز ہے جو کسی ایک ہیئت یا حالت کی پابند ہو؟
اے آئی نے جمال احمد کے کردار کو بخوبی سمجھ لیا تھا۔ ایک لمحے کو اسے لگا کہ وہ جمال احمد سے ہی بات کر رہی تھی۔
اس کی سکرین پہ کہانی جنم لینے لگی۔ اے آئی نے اب تک کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پہ کہانی چند لمحوں میں لکھ ڈالی۔ ثانیہ کے ذہن میں اپنے اور جمال احمد کے درمیان اس غیر مرئی تعلق کی تمام یادیں ابھرنے لگیں
۔
ثانیہ اور جمال احمد ایک فیس بک گروپ میں منسلک ہوئے تھے۔ چند روز یونہی گروپ میں پر تکلف بات چیت کرتے رہے جس میں کسی نہ کسی موضوع پر علمی گفتگو ہوتی۔ پھر ایک دن کوئی متن شیئر کرنے کے لئے جمال احمد نے اس سے میسنجر میں رابطہ کیا۔ اس کے بعد اکثر بات چیت ان باکس بھی ہو جاتی۔ اسے علم ہو چکا تھا کہ جمال احمد کو زندگی سے، لوگوں کی قربت سے قطعاً دلچسپی نہ تھی یہی وجہ تھی کہ اس نے کبھی اس سے کالنگ نمبر مانگا نہ ہی کبھی کوئی ذاتی سوال کیا۔ وہ انتہائی مختصر گفتگو کرتا اور جب بات ختم ہو جاتی تو اس سے نئی بات چھیڑنے کا حوصلہ کرنا سامنے والے کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا۔
اس احتیاط کے تعلق میں جانے کب اور کیسے ثانیہ مکمل طور پہ خود کو جمال احمد کی محبت کا اسیر محسوس کرنے لگی۔
جمال احمد سے کسی قدر اپنائیت ملنے پر اس نے ایک دن اس کے اداس رہنے کی وجہ پوچھ ڈالی۔ جمال احمد نے والدین کی موت کے بعد دنیا کے بے رحمانہ سلوک سے لے کر اپنی کھو جانے والی محبت کا حال اسے بتا دیا۔
ثانیہ اس کے سارے غم دور کر دینا چاہتی تھی۔
آپ اداس نہ رہا کریں۔ آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ہیں جن کو آپ کی پرواہ ہے
ثانیہ نے بہت مان سے اپنا پن جتایا۔
میں اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتا ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے دور رہیں۔ اسے حتمی سے انداز میں جواب ملا تھا
ایسا کیوں جمال صاحب؟ وہ بات آگے بڑھانا چاہتی تھی
ڈپریشن از کنٹیجیئس۔ میں نہیں چاہوں گا کہ میرا کوئی دوست اس تکلیف کا شکار ہو۔ اور اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکی تھی۔
پھر ایک روز جمال احمد نے اسے بتایا تھا کہ وہ عام خواتین سے ہٹ کر ہے۔ بہت خاص، بہت مختلف۔ اس کے بعد جتنی باتیں ہوئیں ان میں شرارت کی لپٹیں تھیں۔ ثانیہ مسکرا رہی تھی کہ جمال احمد جیسا انتہائی سنجیدہ شخص بھی شریر جملے لکھ رہا تھا۔ وہ بھی اس روز ایسے ذہین جواب دینے پہ تلی تھی کہ اسے محسوس ہوا جمال احمد لمحہ بہ لمحہ اس کے حصار میں آتا چلا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس رات کی گفتگو ان کو انتہائی قریب لے آئی۔ ثانیہ نے پہلی بار بوسے کی لذت کو محسوس کیا اور وہ بھی ایک ایسے شخص کے ساتھ جو اس کے پاس موجود نہ تھا۔
اگلی صبح وہ اس مان سے جمال احمد سے بات کرنا چاہتی تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو حاصل کر چکے تھے۔ مگر۔ جمال احمد کے جواب نے اسے چونکا دیا
دیکھیے ثانیہ رات جو بھی کچھ ہوا، سب لمحاتی تھا۔ شاید اس کی وجہ میری تنہائی اور ہماری بے وقت کی گفتگو رہی ہو گی۔ آئی ہوپ یو انڈرسٹینڈ۔ میں آپ سے امید رکھتا ہوں کہ آپ کبھی ان باتوں کو دہرائیں گی نہیں لائیک آ میچیور پرسن۔ ہم یوں بھی اچھے دوست رہ سکتے ہیں۔
اور اس کے بعد کتنے ہی دن ثانیہ نے اذیت میں گزارے تھے۔ جمال احمد کبھی پلٹ کر اس انداز سے اس کی جانب نہ لوٹا۔ ثانیہ کو اس اجنبیت سے اپنی تحقیر محسوس ہونے لگی اور کئی ہفتے انتظار کے بعد اس نے گروپ چھوڑ دیا۔ جمال احمد نے اس سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ جب کئی روز اسی طرح گزر گئے تو ثانیہ کی ذہنی اذیت بڑھنے لگی۔ اس نے ایک بار پھر سے گھبرا کر جمال احمد کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی جو اس نے فوراً قبول کر لی
ثانیہ کے دل میں ایک بار پھر امید جاگی۔ یقیناً وہ بھی اسے مس کرتا ہو گا۔ مگر اس نے ثانیہ کے ان باکس بات کرنے پر اس سرد مہری سے جواب دیا کہ چند دن اندر ہی اندر سلگتے رہنے کے بعد ثانیہ نے جمال احمد کو بلاک کر دیا۔ آج پورا ایک سال گزر جانے کے بعد بھی وہ اسے بھلا نہ پائی تھی۔ اور اب جب وہ اسے ان بلاک کر کے اس کی خیر خبر لینا چاہتی تھی تو وہ کہیں تھا ہی نہیں۔ اس کا پرسنل اکاؤنٹ سوشل میڈیا پہ موجود نہ تھا۔ اس نے گروپ کی ایک خاتون سے ڈھکے چھپے انداز میں دریافت کیا تو اسے علم ہوا کہ جمال احمد اب بھی اپنے اسی تاثر اور شخصیت کے ساتھ گروپ میں موجود ہے۔ البتہ اس نے یہ بھی بتایا کہ چند روز سے وہ آنلائن کبھی کبھی ایکٹو ہوتے ہیں کیونکہ وہ کہیں ٹریولنگ میں ہیں۔
اے آئی نے ثانیہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو، اس کے حیرت میں ڈوبے سوالوں اور محبت اور درد کے احساسات کو چند ہی لمحوں میں الفاظ کا لبادہ اوڑھا کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
۔ ۔
مگر یہاں تک کہانی ادھوری تھی۔
اسے اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنا تھی۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی سیمولیشن پہ ثانیہ کو اعتبار آنے لگا تھا۔ آج کام سے لوٹتے ہی اس نے لیپ ٹاپ کھول لیا۔ اور بے صبری سے لکھ ڈالا
مجھے آپ سے ملنا ہے
تو مل لیجیے۔ فوری جواب موصول ہوا۔
وہ جانتی تھی کہ یہ جمال احمد نہیں مگر اس کے لہجے اور انداز اور جمال احمد کی ٹریولنگ کو پیش نظر رکھ کر وہ یہ کام کرنا چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ الجھے ہوئے دھاگوں میں سے سرا بس یونہی اچانک اس کے ہاتھ لگ جائے۔ وہ اس کوفت کا شکار تھی جو کسی شے کی تلاش میں آدمی کو چیزیں اتھل پتھل کر دینے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ وہ مرفی کے قوانین کے خلاف جانا چاہتی تھی۔
کہاں مل سکتی ہوں؟
آپ کے شہر سے زیادہ دور نہیں ہوں اس وقت۔
ثانیہ نے اپنے نزدیکی شہر اور ہوٹل کا نام ملتے ہی گاڑی سرپٹ دوڑا دی۔ اسے تین گھنٹے کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ ہوٹل پہنچ کر انتہائی بے تابی کے عالم میں اس نے ریسیپشنسٹ سے جمال احمد کے بارے میں پوچھا۔
ریسیپشنسٹ نے سامنے پڑی سکرین پہ نظریں جمائے ہوئے بتایا۔ جمال احمد چیکڈ آؤٹ این آر اگو
وہ وہیں ہوٹل کی لابی میں بیٹھ گئی۔ اس کا ذہن شدید کرب کا شکار ہونے لگا۔ کیا جمال احمد واقعی اس ہوٹل میں تھا؟ وہ مجھ سے ملنا کیوں نہیں چاہ رہا؟ کیا وہ اسکیپسٹ ہے؟
خیالات کا گورکھ دھندا اسے الجھاتا رہا۔
جذبات کی کشمکش اسے جھنجھوڑتی رہی
کیا اس کا میرے یہاں پہنچنے کے وقت سے پہلے چیک آؤٹ کرنا محض اتفاق ہے؟
کیا وہ شخص جس نے چیک آؤٹ کیا وہی جمال احمد تھا جسے وہ جانتی تھی؟ یا کوئی اور تھا؟
وہ الجھے خیالات اور افسردہ دل لئے گاڑی میں آ بیٹھی۔ گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے اس نے اپنے موبائل سے اے آئی کی اپلیکیشن کھولی اور لکھا۔ آپ مجھ سے ملے بغیر کیوں چلے گئے؟
اسے اپنی بے وقوفی پہ خود ہی ہنسی آ گئی۔ وہ ہنسی جو بے بسی کے لمحوں میں چہرے اور دل کو سنبھالا دینے کا کام کرتی ہے۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ سکرین پہ اسے جمال احمد کا جواب موصول ہوا
میں اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتا ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ وہ مجھ سے دور رہیں۔
ایک آنسو ڈھلک کہ اس کے گال پہ گرا اور اس کی ٹھوڑی سے ٹپک کر اس کی گود میں جا گرا۔ اسی دھارے میں کتنے ہی آنسو بہہ نکلے۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ اس کے دل کو اداسی کا جاگ لگ چکا ہے۔ اس نے موبائل اٹھایا۔ اے آئی نے آج کی معلومات کی بنا پہ کہانی مکمل کر دی تھی جس کی آخری سطر کچھ یوں تھی۔
”اب میں سوچتی ہوں کہ جمال احمد نامی وہ شخص جسے میں جانتی ہوں، حقیقت میں تھا بھی کہ نہیں؟“


