سب ماں باپ عظیم نہیں ہوتے
انیقہ کی نندوں نے اس کے ہاتھ پکڑ رکھے تھے، ساس نے بازو، شوہر کے ہاتھ میں بیلٹ تھی جس سے وہ اس کی ٹانگوں پیٹ اور بازو پہ وار کر رہا تھا۔ سسر ہاتھوں اور لاتوں سے مار رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر میرے پاؤں تلے سے زمیں نکل گئی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا کیونکہ ایسا کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ میری بیٹی نے کبھی بتایا ہی نہیں تھا کہ جنید اس پہ تشدد کرتا ہے۔ جنید جیسا داماد تو کبھی دیکھا ہی نا تھا۔ ہمیشہ جب میری بیٹی آتی ہنستی کھیلتی خوش و خرم آتی۔ میں پھر بھی جاتے ہوئے چپکے سے کچھ پیسے تھما دیتا کہ کیا معلوم جنید کا ہاتھ تنگ ہو۔ میری بیٹی کا کسی شے کو جی چاہے اور وہ لے نا پائے۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔ ہاتھ کا چھالا جو بنا کر رکھا تھا میں نے انیقہ کو۔ ہر بار اس کی ماں کو یاد کروانا تو جیسے میری عادت بن گئی تھی کہ انیقہ کو یاد سے کہہ دے کہ اگلی بار جلدی چکر لگائے۔ یہ اسی کا تو گھر ہے۔ اس گھر کے دروازے ہمیشہ اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ جنید کو نا جانے یکم دسمبر کو کیا ہوا کہ میری بیٹی کی جان ہی لے ڈالی۔
لیجیے جھوٹ کا پلندا ختم ہوا۔ اب سچ سنیئے۔ یکم دسمبر کو بے پناہ تشدد کے بعد ماری جانی والی انیقہ کے قتل کی ایف آئی آر اس کے باپ شوکت کے نام کیوں نا کاٹی جائے جس کو بیٹی بتاتی رہی کہ اس پہ تشدد ہوتا ہے۔ باپ کے گھر میں دو وقت کی روٹی اور تحفظ تلاشتی رہی لیکن ہر بار اسے دھکا دیا جاتا رہا صبر کر گھر ایسے ہی نہیں بستے۔ بڑا کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انیقہ بھی کرتی رہی لیکن جانے کیوں یکم دسمبر کو اس کا جسم مزید مزاحمت نا کر سکا۔ جواب ہی دے گیا۔
جنید کا غصہ بھی تو بجا تھا۔ شاید جہیز کم لائی ہو۔ شاید خوبصورت نہ ہو۔ شاید کھانا اچھا نہ پکاتی ہو۔ شاید صفائی تیزی سے نہ کر پاتی ہو۔ شاید آٹا گوندھتے ہوئے ہل جاتی ہو۔ نہیں مذاق نہیں کر رہی۔ یہ جرم نا قابلِ معافی ہوتے ہیں اور پدرسری سماج میں اس کی کم سے کم سزا بھی موت ہے۔ سچ پوچھیں تو اچھا ہی ہوا جان چھڑوا گئی۔ کل کو بھی مرنا تھا آج ہی مر گئی۔ پھر اس کے بدنصیب بچوں کو یہ بتایا جاتا کہ ماں بد کردار تھی کسی یار کے ساتھ بھاگ رہی تھی فائر مار دیا۔
باپ کی بھی جان چھوٹی۔ جنید کو معاف کر کے چار پیسے ہی کما لے گا۔ ان پیسوں سے اور کسی بچی کے بوجھ سے نجات حاصل کر لے گا وہ کسی اور جنید کے ہتھے چڑھے گی۔ دھندا نہیں رکنا چاہیے۔ بول فلم میں جب حمائمہ نے چیخ کر کہا تھا ”جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو“ تو ہمارے سماج کو بہت مرچیں لگی تھیں۔ کیا جھوٹ تھا۔ بیٹے کی چاہت میں پیدا کی گئی ان چاہی بیٹیوں سے ماں باپ ایسے ہی نجات حاصل کرتے ہیں۔
بیٹی شوہر کے بغیر آ جائے تو ماں باپ کا دل دھک سے رہ جاتا ہے کہ نا جانے اس کے موئے کلموہے بچوں کو کتنے دن کھلانا پڑے گا۔ بجلی کا بل بڑھ جائے گا لوگ سوال کریں گے۔ بیٹی کے جسم پہ پڑے نیل اس کی مر چکی آنکھوں سے نظر چرا کر داماد کو فون کریں گے کہ اس بوجھ سے جان چھڑوا دے۔ کتنی مشکل سے تو اس کے وجود سے نجات حاصل کی تھی اب چار اور منہ لے کر ٹپک پڑی ہے۔ پہلے نیل ہلکے نہیں ہوتے کہ نئے شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہوا بوجھ ہی تو ہے نا۔ جان چھڑاؤ۔
یقیناً کچھ عقل مند لوگ آ کر مجھے بتائیں گے کہ نہیں ہمارے گھر ایسے نہیں ہوتا ہماری بیٹیاں بیٹے جیسی ہی پیاری ہیں ہمیں وغیرہ وغیرہ۔ کیا کریں اس سماج میں روز ایسے واقعات اس تواتر سے ہوتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو بس منافق ہی کہا جا سکتا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ یہاں زیادہ دوغلے ہیں۔ بیٹیوں کو حصہ نہیں دیں گے اس کے بچوں کو اپنا خون نہیں سمجھیں گے لیکن بڑھ چڑھ کر ڈرامہ کریں گے کہ بیٹی بہت پیاری ہے۔ صرف منہ زبانی۔ بس کبھی کبھی شوہر کے ساتھ آ جایا کرے بہت اچھا لگتا ہے۔ باقی اس کی زندگی کے کیا مسئلے ہیں شوہر مارتا ہے ہمارا کوئی تعلق واسطہ نہیں۔
پھر یہ ماں باپ اچانک سے ایف آئی آر کٹوانے پہنچ جاتے ہیں کہ ہائے! میں اچانک سے گیا تو میری بیٹی کو بیلٹ سے مارا جا رہا تھا۔ میری بیٹی قتل ہو گئی ہائے مجھے انصاف دو۔ بتائیں اس قتل کی ایف آئی آر ماں باپ کی اس بے حسی پہ کیوں نا کاٹی جائے جو شکار کو مقتل گاہ کی طرف دھکیلتی رہی اور جان لے کر ہی ٹلی۔ لیکن نہیں ماں باپ تو عظیم ہوتے ہیں۔ ان سے غلط فیصلے بھی ہو جائیں تو قدرت اسے ٹھیک کر دیتی ہے۔ نہیں انیقہ پگلی! ایسا صرف ڈراموں میں ہوتا ہے۔ اصل زندگی میں ماں باپ تو جان چھڑا جاتے ہیں۔ ان کے پیدا کیے عذاب بیٹیوں کو بھگتنے پڑتے ہیں اور کبھی تو جان کی قیمت دے کر بھی ماں باپ کی عظمت کا قرض چکایا نہیں جا سکتا۔

