سیاست اور بچے


پاکستان میں رہتے ہوئے ایک بات تو یقینی ہے کہ کوئی بھی محاورہ، بات، ضرب المثل کسی بھی وقت رد ہو سکتی ہے۔ دہائیوں تک لوگ یہی کہتے اور عمل کرتے آئے ہیں کہ بچوں کا سیاست سے کیا علاقہ۔ باپ، ماں، بھائی، بہن، چچا یا خاندان کے دیگر لوگ اگر کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتے بھی ہیں تو ان کے بچے گلی محلے میں ہوں، گاؤں میں یا سکول میں، اس کے اثرات سے ہمیشہ محفوظ رہے۔

سیاستدان سیاسی اختلاف رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی خوشیوں میں چاہے کم مگر غم میں ہمیشہ اور پورے احترام سے شریک ہوتے رہے اور یہی اپنے بچوں کو بھی سکھایا۔ حال ہی میں سابق وفاقی وزیر بیرسٹر رضا حیات ہراج کے والد کا انتقال ہوا تو بہت سے سیاستدان اور اہل علاقہ ان کے ہاں تعزیت کے لئے آئے۔ ان میں ہراج خاندان کے سیاسی مخالف ڈاکٹر خاور شاہ صاحب بھی تھے۔ جو احترام انہوں نے سوگواران کے لیے دکھایا، اس سے بڑھ کر احترام بیرسٹر رضا حیات، ان کے بھائیوں اور صاحبزادگان نے دکھایا۔ کچھ تسلی ہوئی کہ موروثی سیاست میں ایک موروثی رکھ رکھاؤ ور لحاظ اب بھی ہے۔

مگر دس پندرہ سال پہلے تک یہ عام رویہ تھا۔ پھر ایک ایسے لیڈر کا ظہور ہوا جو اپنے فالوورز کے لیے سب کچھ تھا۔ جس نے سیاسی اختلاف کو اس حد تک لے جانا سکھا دیا کہ بچوں کو والدین اور بڑوں کے احترام سے عاری کر دیا۔ گھریلو گفتگو تک کرنا عذاب بنا دی۔ اس کے پیروکار لوگ اس کی باتیں گھر میں، شہر میں، شادیوں میں، مرگوں میں شد و مد سے کرنے لگے اور ہر جگہ اس کے بیانیے کا پرچار شروع ہوا۔ کلاس فیلو، دوست نہ رہے اور استاد استاد نہ رہے۔ استادوں نے بچوں کی ذہن سازی شروع کی اور طلباء کو ان ساتھی طلباء سے بات کرنا منع کر دیا جن کے والدین مخالفت سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرتے تھے بلکہ خود بھی ان سے طنزیہ گفتگو کر کے انہیں زچ کیا۔

یہ تو پارٹیوں کے سپورٹرز کی بات تھی۔ سیاستدانوں کے اپنے بچے بھی تو آخر سکول جاتے ہیں۔ وہ شاید جانتے بھی نہیں کہ ان کے ماں باپ یا نانا دادا کس حد تک ملکی یا صوبائی سطح پر ذمہ داری نبھا رہے ہیں مگر ان کا نام ساتھ جڑا ہونے کے باعث دوسرے بچے ان کو جعلی ہینڈسم کے بیانیے کے مطابق جو وہ گھروں میں سنتے ہیں، طعنے کس رہے یا ساتھ کھیلنے نہیں دے رہے تو یہ ہمارے سماجی ڈھانچے کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ کئی بار اساتذہ، بڑے ایلیٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ اس بغض کو ان بچوں سے اپنے رویے میں نکالتے۔ اور وہ بچے برابر مواقع نہیں لے پاتے، دباؤ میں رہتے یا سکول سے متنفر ہو جاتے۔

یہ سوچ دی ہے اس نئی جماعت ہونے کے دعوے داروں نے نئی نسل کو۔ اس کا اثر بہت گہرا ہے اور اس سے جان چھڑانے کے لیے یکسو ہو کر کوشش کرنا ہوگی تاکہ ہمارے بچوں کا بچپن تعصب اور جعلی پراپیگنڈا کی بھینٹ نہ چڑھے۔

Facebook Comments HS