شام کی آزادی: اس انقلاب کی شاید خبر نہ تھی ان کو


جگر کے خون سے ہم نے ہی اس کو سینچا تھا
چمن میں ہو گئے بے اختیار ہم ہی کیوں

اہلِ شام کی 80 فیصد آبادی 10 فیصد کے حامل اسد خاندان کی حکمرانی میں دہائیوں سے ظلم و ستم، جنگ و جدل اور آزمائشوں کے کٹھن مراحل سے گزرتی رہی۔ بے اختیاری کے عالم میں خاندان اجڑے، مال و متاع لٹا، اور بستیاں مٹی میں ملا دی گئیں، لیکن انہوں نے ان حالات میں بھی صبر و استقامت کی شاندار مثالیں قائم کیں۔ شام 1920 ء میں پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد فرانس کی سرپرستی میں وجود میں آیا۔ 1946 ء تک فرانس کے انخلاء اور شام کی آزادی تک اس ملک کا انتظامی ڈھانچہ بدترین تقسیم سے دوچار رہا۔ ”آزاد شام“ قیام کے بعد بھی انتشار، بیرونی جنگوں اور اندرونی بغاوتوں کا شکار رہا۔ 1948 میں، مقبوضہ فلسطین میں صیہونی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی، پہلے بیرونی فوجی تنازعہ نے جنم لیا۔ 1967 میں، شام نے دوسری بڑی غیر ملکی جنگ کا تجربہ کیا۔ 1949 ء سے 1963 ء تک 7 فوجی بغاوتوں سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوا۔ 1956 میں، سوویت یونین سے معاہدے کے بعد ، شام مشرقی بلاک کا رکن بنا۔ فروری 1958 ء میں شام اور مصر کے صدور ”شکری القوتلی“ اور ”جمال عبدالناصر“ کے مابین معاہدے کے بعد ”متحدہ عرب جمہوریہ“ کا قیام عمل میں لایا گیا، اور اس طرح شام بنیادی طور پر ختم ہو گیا! نئی جمہوریہ کا دارالحکومت قاہرہ اور اس کے صدر جمال عبدالناصر تھے۔ 1960 میں دونوں ممالک کی پارلیمنٹ بھی تحلیل ہو گئی اور متحدہ پارلیمنٹ نے قاہرہ میں کام کرنا شروع کر دیا، 1961 میں دمشق میں ایک اور بغاوت کے نتیجے میں متحدہ عرب جمہوریہ ختم ہوا۔

شام میں کہنے کو تو بعث پارٹی کی سیکولر حکومت تھی لیکن دراصل اس پر عسکری ادارے کا کنٹرول تھا۔ شام میں فوجی افسر بعث پارٹی کے ممبر بن سکتے تھے۔ جب 1970 ء میں حافظ الاسد انقلاب کے ذریعے صدر بنے تو وہ شامی فضائیہ کے چیف تھے۔ ان کے عہد میں نام نہاد الیکشن ہوتے اور وزیر اعظم عمومی طور پر سُنّی ہوتا لیکن سیاسی جماعتیں برائے نام تھیں۔ ملک کو بعث پارٹی ہی چلاتی تھی۔ یہ ایک ہائبرڈ سسٹم تھا جو 40 سال تک چلتا رہا لیکن پھر سخت دباؤ میں آ گیا۔ فروری 1971 میں حافظ الاسد کی صدارت سے دسمبر 2024 بشار الاسد کے فرار تک حکومت کے تقریباً 54 سال کا یہ دور نئے شام کی پوری تاریخ کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔ باپ اور بیٹے کا تخت صدارت پر آنا اور معزولی فوجی مہم جوئی کا نتیجہ رہا۔ ایک ہفتہ قبل ہیئۃ التحریر الشام نے حلب پر قبضہ کیا تو اس غیر متوقع پیش رفت پر پوری دنیا میں حیرانی کی ایک لہر دوڑ گئی۔

شامی فوج کا آرٹلری سنٹر حلب میں ہے اور وہاں کئی روسی ایڈوائزر بھی تھے۔ اس اہم شہر پر 2016 ء میں بھی ایک بار قبضہ ہوا تھا مگر کچھ ہفتوں بعد بشار الاسد حکومت نے روسی مدد سے باغیوں سے آزاد کرا لیا تھا۔ پھر مخالفین نے تیزی سے پیش قدمی کی اور حماہ پر قبضہ کیا جو بشار الاسد کے مخالفین کا گڑھ ہے۔ اسی شہر میں حافظ الاسد نے قتلِ عام کرایا تھا۔ 40 سال گزرنے کے باوجود اہل حماہ اس سانحے کو نہیں بھولے۔

شام رقبے اور آبادی کے اعتبار سے بڑا نہیں لیکن اس کا محل وقوع پاکستان کی طرح بہت اہم ہے۔ روس کا بیرون ملک اکلوتا نیول بیس شام کی طرطوس بندرگاہ پر ہے‘ جو بحیرہ روم کے ساحل پر ہے۔ یوکرین جنگ کی وجہ سے روسی توجہ شام پر مرکوز نہیں رہی، اپوزیشن نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 2000 ء میں بشار الاسد کو اقتدار ملا۔ اسد فیملی کا تعلق ساحلی علاقے لاذقیہ اور نصیری فرقے سے ہے۔ ان کی آبادی 10 فیصد ہے۔ 10 فیصد عیسائی ہیں۔ مسلم آبادی 80 فیصد ہے اور ان 80 فیصد میں 77 سنی اور 3 فیصد شیعہ ہیں۔ ایران کی وجہ سے شیعہ آبادی نصیریوں کا ساتھ دیتی ہے باغیوں کے ساتھ 77 فیصد عوامی حمایت ہے، چاہے مذہبی ہوں یا سیکولر، قوم پرست ہوں یا جمہوریت پسند۔ 10 فیصد اقلیت مصنوعی طریقے اور خارجی مدد سے شام پر طویل عرصہ قابض رہی۔

ایرانی حکومت بشار الاسد کی مضبوط حامی تھی اور شامی حکومت بھی ایران کو حزب اللہ کو کمک پہنچاتی رہی۔ دمشق پر قبضہ کرنے والی سب سے بڑی قوت ہیئۃ التحریر الشام ہے ’جس کے سربراہ احمد حسین الشرع ابو محمد الجولانی ہیں۔ ان کا آبائی علاقہ گولان کا پہاڑی علاقہ تھا جہاں سے یہ گھرانا 1967 ء میں ہجرت پر مجبور ہوا۔ 1982 ء میں ریاض سعودی عرب میں پیدا ہونے والے الجولانی نے شام اور عراق میں ایک اسلامی ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے والد نے بھی اسد حکومت میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھائیں اور اردن سمیت کئی عرب ممالک میں ہجرت کی۔ الجولانی عراق میں امریکہ کے خلاف لڑتے ہوئے گرفتار ہوئے اور پانچ سال جیل میں رہے۔ 2011 ء میں شامی خانہ جنگی کے دوران عراق سے شام آئے اور اپنے گروپ کی بنیاد رکھی۔ 2017 ء میں القاعدہ سے راہیں جدا کر لیں۔ 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد ، 8 دسمبر 2024 ء کو دمشق میں اللہ اکبر‘ اللہ اکبر کی گونج سنائی دی۔ نورالدین زنگی، صلاح الدین ایوبی اور دیگر مسلم زعماء جو یہاں آسودہ خاک ہیں، ان کی ارواح کو کتنی فرحت حاصل ہوئی ہوگی۔ فوج کی عوامی حمایت سے محرومی اور بے مقصد جنگ سے بشار الاسد کو نوشتہ دیوار صاف نظر آ رہا تھا کہ اس کے پاس ایران کے رضا شاہ پہلوی کی طرح فرار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں سو وہ روس پہنچ گیا۔ اتنی جلدی تبدیلی کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔

ڈکٹیٹرز اپنے ہی لوگوں کو قتل، عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ ’اور انہیں ہجرت پر مجبور کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ طاقت کا یہ چلن زیادہ دیر اقتدار قائم نہیں رکھ سکتا۔ 2011 ء سے 2020 ء تک کی خانہ جنگی میں 10 لاکھ کے لگ بھگ شہری قتل کیے گئے۔ اس قتل عام میں روس، ایران، حزب اللہ، امریکہ، برطانیہ اور فرانس سبھی شامل تھے۔ شام کے شہر کھنڈرات کے ڈھیر بن گئے۔ آج جو غزہ کا منظر ہے، وہی شام میں تھا۔ 50 لاکھ شامی دوسرے ممالک میں مہاجرت پر مجبور ہوئے۔ بقول نعیم صدیقی:

اس جور کو سب نے دیکھ لیا جو تم نے سرِ بازار کیا
اس ظلم کو دنیا کیا جانے جو تم نے پسِ دیوار کیا

عمومی خیال تھا کہ فیصلہ کن جنگ سٹرٹیجک اہمیت کے شہر حمص میں ہوگی۔ یہ ترکیہ جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے۔ اس تاریخی شہر میں حضرت خالد بن ولید مدفون ہیں۔ مگر پست حوصلہ بشار فورسز معمولی سی رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔ ابومحمد الجولانی نے حریفوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے اور عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ ہوائی فائرنگ کی بھی ممانعت کی گئی ہے۔ مہاجرین کو دعوت دی گئی ہے کہ آ کر ملک کی تعمیر نو کریں۔ سرکاری ادارے فی الحال دمشق میں موجود وزیر اعظم غازی الجلالی کی سربراہی میں کام کرتے رہیں گے۔ الجلالی کا یہ اعلان انتہائی خوش کن ہے کہ ہمیں لڑائی کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ بقائے باہمی کی بنیاد پر ملک کی تعمیرِ نو کی طرف بڑھنا ہے۔ مختلف مذہبی ’مسلکی‘ نظریاتی ’گروہی طبقات میں بٹا ہوا یہ ملک مفاہمت ہی سے نیا آغاز کر سکتا ہے۔ خدا کرے کہ اس خوبصورت ملک کی رونقیں بحال اور مکمل امن قائم ہو۔

Facebook Comments HS